والدین کے لیے۔۔۔عمیر اقبال

بیٹے کی عمر بمشکل 6، 5 برس ہوگی اور وہ نرسری کلاس کا طالب علم لگتا تھا۔ باپ اپنے بچے کو اپنی کلاس میں فیل ہونے کی وجہ سے اسکول سے واپسی پر بری طرح ڈانٹ رہا تھا ۔اس سرزنش کے کچھ دھندلے الفاظ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ حافظہ سے محو ہوجانے کی بنا پر کمی بیشی کے ڈر سے نقل کرنے پر معذور ہوں۔

ابا کے منہ سے نکلنے والے درشت الفاظ اور بچے کے خوف زدہ اور لٹکے ہوئے چہرے کی صرف ایک جھلک سے ہی دل کٹ کر رہ گیا۔ اس وقت مجھے اس معصوم پر بہت ترس آیا۔ سوچنے لگا جب والد نے سرعام اپنے ہی بیٹے کا تماشا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ گھر جاکر درگت نہیں بنائی ہوگی۔ اسی وقت دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ اس حوالے سے کسی دن کچھ معروضات پیش کروں گا، لیکن حالات نے جس تیزی سے اس شدت پسندی کی طرف رخ کیا اس کو دیکھ کر بار بار اپنی غفلت پر آہ نکل جاتی ہے۔

اب سے کچھ وقت پہلے تک یہ ہورہا تھا کہ بچے نتیجے کی خرابی پر اپنے والدین کے رد عمل سے خوف زدہ ہوتے تھے۔ ان سے پٹنے کا ڈر ہوتا تھا۔ خود بچوں پر بھی اداسی کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ جس کے وہ کئی دنوں تک زیر اثر رہتے تھے۔ لیکن پھر وہ چند ہی ایام میں ایک نئے عزم، ایک نئے حوصلے ، ایک نئے جوش کے ساتھ دوبارہ میدان عمل میں کودنے کے لیے کمر کس لیا کرتے تھے۔ مگر اب صورت حال کچھ اس طرح کی ہوگئی ہے کہ والدین کے روز بہ روز بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب اور ان کومادیت میں سب سے آگے دیکھنے کے جنون نے اولاد کے ناتواں کندھوں پر بڑا بوجھ ڈال دیا ہے۔ جس کا حل معصوم ذہنوں نے ایک ایسے سنگین فعل میں نکالا ہے جس میں ماںباپ کو پچھتانے کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جی ہاں! اب طلبہ خود کشیاں کرکے اپنے آپ کو ان جھنجھٹوں سے آزاد کرلیتے ہیں۔

وہ درد ناک خبر بھی میرے سامنے ہے: “مردان کے علاقے لوند خوڑ میں 17 سالہ نوجوان واجد علی نے میٹرک کا امتحان دیا مگر اسے فیل ہونے کا خوف تھا، جس کے باعث رات کے وقت گھر کے قریب کھیتوں میں اس نے پستول سے خود ہی فائر کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔” یہ ایک خبر محض نمونے کے طور پر پیش کردی گئی، ورنہ اب روزانہ ایسی بے شمار خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔

دیکھا آپ نے بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے۔ وہ بچے جن کی باتوں میں شوخی، لہجے میں معصومیت اور طبیعت میں ظرافت ہوتی تھی، جن کی نٹ کھٹ اداؤں سے گھر کے افراد میں خوشی کی لہریں دوڑ جایا کرتی تھیں، اب اپنی جان کے دشمن بن بیٹھےہیں۔ اتشویش ناک سوال یہ ہے کہ یہ ناجائز اور شدید خیال کس طرح ان کے ننھے ذہنوں کے نہاں خانوں میں داخل ہوگیا؟

معذرت کے ساتھ اس سوال کا جواب بھی خود عرض کردیتا ہوں کہ بچوں کو اس حد تک پہنچانے اور پڑھائی کے معاملے میں انہیں نفسیاتی مریض بنانے میں ماں باپ کا بڑا کردار ہے۔ پتا نہیں اسناد میں اعلی نمبرات کو ہم نے قابلیت کی ضمانت کیوں سمجھ لیا ہے؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ لیاقت کا معیار اچھے نتائج پر نہیں، کتاب میں موجود پوشیدہ علوم تک رسائی پر ہوتا ہے۔

پھر جس طرح امتحان میں ناکامی کے سبب طلبہ کو اپنے سرپرستوں کی طرف سے جن کڑوی کسیلی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے جہاں ایک طرف ان کا دل اپنے ہی محسنوں سےخراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، وہاں دوسری جانب بچوں کے اندر احساس کمتری اور عدم اعتماد بھی سرایت کر جاتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو کچھ صلاحیتیں بچوں میں ہوتی ہیں، ان سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ بندہ یہ بات دعوے سے کہتا ہے کہ 95 فیصد طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو پڑھنے کے نہایت شوقین ہوتے ہیں لیکن ظاہر بات ہے ہر ایک کی ذہنی سطح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر والدین اللہ سے مانگیں اور فیل ہونے پر بجائے اگلا پچھلا ایک کرنے کے مزید حوصلہ بڑھائیں اور پیار و محبت سے محنت جاری رکھنے کی تلقین کریں تو کچھ بعید نہیں کہ کل کو یہی بچے ملک و قوم کے لیے فخر کا باعث بنیں۔ بہ صورت دیگر خود کشی جیسے قلب و جگر کو زخمی کردینے والے واقعات آئے دن جنم لیتے رہیں گے۔

Avatar
عمیر اقبال
ابھی تعارف کے قابل نہیں ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *