شکور پٹھان کی تحاریر
شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

یہ جہاں والے/ہیلو فرینڈز۔۔۔شکور پٹھان

پیلی ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس یہ لڑکی شاید سترہ یا اٹھارہ برس کی ہو لیکن قریب سے دیکھنے پر یہ صرف 13،14 سال کی نظر آتی ہے یعنی میری نواسی سے چار سال بڑی۔ اس کے چہرے پر←  مزید پڑھیے

شاہی سواری۔۔۔۔شکور پٹھان

خوبصورت سے بازار میں زیادہ تر پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں تھیں اور سارے پھل اور سبزیاں بے حد خوشنما۔ ساتھ ہی قہوہ خانے اور چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں جن میں نوادرات اور مقامی دستکاریاں اور سجاوٹ کے سامان کے←  مزید پڑھیے

دیواروں سے باتیں کرنا۔۔۔شکور پٹھان

گڈو کے ہونٹ لٹکے ہوئے اور آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو تھے لیکن دادی ماں کے چہرے کی سختی میں ذرا بھی کمی نہ ہوتی تھی۔ گڈو غریب کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دودن پہلے جو کام وہ←  مزید پڑھیے

عوامی قلمکار،ابن صفی۔۔ابراہیم جلیس/شکور پٹھان

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں وقلیلا”ماتشکرون۔۔۔۔۔۔اور تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو! یہ شکوۂ ایام نہیں،میرے مولا و مالک کا شکر ہے۔ آج جب دنیا جہان کی ساری نعمتیں صرف ایک خواہش کی دوری پر ہیں←  مزید پڑھیے

پویلئین اینڈ سے۔۔۔ایک سفر، اونچے نیچے راستوں کا/شکور پٹھان

اونچے نیچے راستوں کے اس سفر کے اگلے پڑاؤ کی باتیں کرتے ہوئے حلق میں کچھ پھنسنے لگتا ہے، زبان گنگ، ذہن ماؤف اور قلم زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ یہ ہماری قومی تاریخ کا منحوس ترین سال تھا ۔ انتخابات←  مزید پڑھیے

اِتِّی ذرا سی محبت۔۔۔۔شکور پٹھان

یہ گاؤں نہیں تھا لیکن گاؤں ہی لگتا تھا۔۔۔۔۔ یہ شہر کاحصہ تھا لیکن ماحول پر دیہاتی رنگ غالب تھا۔ یا شاید ہمیں یوں ہی لگتا تھا۔ ہم اس سے پہلے بہارکالوںی جیسی گنجان آبادی میں رہتے تھے۔ جہاں دومنزلہ←  مزید پڑھیے

ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔شکور پٹھان

ایک وقت تھا کہ میں سگریٹ نوشی کیا کرتا تھا اور بہت کیا کرتا تھا۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آئی کہ کیوں کرتا تھا۔ سو کر اٹھتا تو سگریٹ جلا لیتا کہ اس سے نیند بھاگتی ہے اور آنکھیں←  مزید پڑھیے

الٹے قدموں کا سفر۔۔۔شکور پٹھان

جانے کیوں ایسا لگتاہے  کہ یاروں کا جی میری باتوں سے اوب گیا ہے۔ ایک سے قصے بار بار سناتا ہوں۔ دنیا آگے کی جانب دیکھ رہی ہے اور میں گئے دنوں کے قصے ہی سناتا رہتا ہوں۔ لوگوں کی←  مزید پڑھیے

گوونچو صائبا۔۔۔۔شکور پٹھان

اوہ! واقعی؟ ہاں یار، بالکل سچ!! ہم دونوں نے اپنے اپنے کپ میز پر رکھے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم یوں لپٹ گئے جیسے دو بچھڑے بھائی برسوں کے بعد ملے ہوں۔ یہ ‘ برونو” تھا۔ برونو مائیکل۔ ہم دونوں←  مزید پڑھیے

مقامے فیض ۔۔۔۔شکور پٹھان

تالیوں کی گونج میں پردہ گرا دیا گیا۔ ڈرامہ ختم ہوا  اور حاضرین کمر سیدھی کرنے کھڑے ہوگئے۔ کچھ اٹھ کر باہر سگریٹ پینے چلے گئے۔ ” اب آپ مرزا ببن بیگ سے ایک غزل سنیں گے” اسٹیج کے پیچھے←  مزید پڑھیے

عمر قریشی۔۔۔۔۔جمشید مارکر/شکور پٹھان

یار دوست مجھے قنوطیت کا طعنہ دیتے ہیں جب میں اپنے شہر کی بات کرتا ہوں۔ کہتے ہیں تم ایک مایوس انسان ہو جو ماضی میں زندہ رہتا ہے۔ کیا کروں ، کراچی کی بات ہو اور ماضی کا ذکر←  مزید پڑھیے

تم یاد آئے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آئے۔۔۔شکور پٹھان

کسوٹی والے(قریش پور، عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف) میرے کئی احباب یا تو بیرون ملک سکونت  پذیر ہیں یا اکثر نے کئی ملکوں کی سیر کی ہوئی ہے. آپ سب اس بات سے متفق ہونگے کہ دنیا بہت آگے بڑھ←  مزید پڑھیے

یوسفی صاحب اور انشا جی۔۔۔۔۔شکور پٹھان

اپنے شہر کے مشا ہیر اور واقعات جو میں اپنے احباب کے ساتھ یاد کر رہا ہوں اس سے شاید یہ تاثر ابھر رہا ہو کہ میں اپنے شہر کے بارے میں کسی تفاخر میں مبتلا ہوں. میں جب انکا←  مزید پڑھیے

کسی سے نہ کہنا۔۔۔شکور پٹھان

” سن یار ، کسی کو بتانا مت، بڑی ہاٹ نیوز ہے” ” کیا ہوا” میں سرتاپا سوال بنا ہوا تھا۔ ” تجھے پتہ ہے، شیراز اور فمی میں سیپریشن ہوگئی ہے!!!” ” اوہ ، نہیں یار، سچ بتا” ”←  مزید پڑھیے

گر تو برا نا مانے ،اک بار مسکرا دو۔۔۔شکور پٹھان

مجھے آج تک اس کا نام نہیں معلوم۔ لیکن ہم کبھی اجنبی نہیں رہے۔ میں اسے سات آٹھ سال سے دیکھ رہا ہوں۔ وہ ہمارے ادارے کے کسی اور شعبے میں کام کرتا ہے۔ اس کا نام کیا ہے اور←  مزید پڑھیے

سارے جگ کا راج دلارا۔۔۔شکور پٹھان

بہت سوچا، سر کھپایا لیکن سمجھ نہ پایا کہ یہ چیز جسے محبت کہتے ہیں، یہ کیونکر ہوتی ہے۔ اس عالم رنگ و بو میں بے شمار دل کو موہ لینے والے ، حواس پر چھا جانے والے، ایک سے←  مزید پڑھیے

پارس جیسے لوگ۔۔۔شکور پٹھان

” یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ اب ہم آپ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی لئے چلتے ہیں جہاں پاکستان اور دولت مشترکہ کی ٹیموں کے درمیان پہلا غیرسرکاری ٹسٹ میچ کھیلا جارہا ہے۔ ہمارے کمینٹیٹرز ہیں عمر قریشی اور جمشید مارکر” جمشید←  مزید پڑھیے

یہ جہاں والے۔۔۔شکور پٹھان

زندگی تیرے لیے۔۔۔ ” خواتین وحضرات!! کمشنر کراچی جناب سید دربار علی شاہ تشریف لے آئے ہیں” دائرے میں کھڑے تماشائیوں کی ایک جانب سے راستہ بنایا گیا۔ کمشنر صاحب خراماں خراماں چلتے ہوئے اس پینتیس چالیس گز کے درمیاں←  مزید پڑھیے

دو عورتیں،دو کہانی کار ۔حسینہ معین،فاطمہ ثریا بجیا/شکور پٹھان

کیا خیال ہے آپ کا ! عرفی شادی کس سے کرے گا؟ میرے برابر بیٹھے ہوئے بزرگ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ذرا سینئر  بزرگ سے سوال کیا۔  پاروں کو سمیٹ کر تپائی پر رکھتے ہوئے بزرگ نمبر دو نے←  مزید پڑھیے

گولڈن گرلز…شکور پٹھان

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ وہ دیکھو ایک عورت آرہی ہے عورت، قدرت کی حسین ترین تخلیق، جس کے وجود سے یہ دنیا رنگین ہے۔ اگر دنیا بھر کی شاعری سے عورت کو نکال دیا جائےتو شاید شاعری کا←  مزید پڑھیے