مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں۔ اس کا آخری ٹارگٹ عمران خان کی رہائی اور مقدمات ختم کروانا ہے۔ اس کے بعد شاید عمران خان کبھی سیاست نہ کرے۔ جس روز عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی ۔← مزید پڑھیے
تحریر/ جسٹس (ریٹائرڈ) مظفر علی، سپریم اپیلٹ کورٹ، گلگت بلتستان۔ مترجم/ اشفاق احمد ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 1947 میں مہاراجہ کشمیر کے خلاف مقامی طور پر مسلح جدوجہد کر کے اپنی سرزمین کو← مزید پڑھیے
ایک طرف بیلا روس کے صدر کی وفد کے ہمراہ پاکستان آمد پر درجن بھر اقتصادی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف احتجاجی مظاہرین سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کیلئے ڈی چوک موجود رہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام← مزید پڑھیے
سندھ یونیورسٹی کی موجودہ حالت اور اصلاحات کی ضرورت السلام علیکم! آپ کی توجہ سندھ یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال پر مبذول کرانا چاہتا ہوں، جس کا احوال نیچے ایک تفصیلی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں جنوری 2021← مزید پڑھیے
تعلیم کسی بھی قوم ، علاقہ ، رنگ ، نسل اور دھرم سے بالاتر ہو کر زندگی کا حصہ بن جاتی ہے اس کامقصد اعلیٰ خیال اور ماحول کو جنم دینا ہے جو آلودگی سے پاک بغیر کسی تفریق کے← مزید پڑھیے
ویسے تو کسی بھی ملک کی اندرونی صورتحال کا ادراک کرنے کے لیے تیس دن کا وقفہ نہایت ہی قلیل ہے اور وہ بھی جب اس میں بیشتر وقت خانگی مصروفیات کی نذر ہوجائے۔ مگر کسی صحافی کے لیے اس← مزید پڑھیے
فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں ایک بات تو وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، یہ آدمی امریکہ کے سفر پر ہو یا دنیا کی کسی سرزمین پر جہاں گردی کرتا ملے اس کا دل اپنے آبائی شہر سرگودھا← مزید پڑھیے
حضرت موسی جب خوف کے عالم میں مدین کی طرف نکلے ، کچھ وقت بعد جب مدین کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک کنویں کے پاس کچھ چرواہے جمع ہیں جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں۔ دو← مزید پڑھیے
جاڑے کی رات شدید سناٹا کُہْرا اداسی اور ہُو کا عالَم میں چوبارے میں اِیستادَہ ہمیشہ کی طرح اَفْروخْتَہ خود سے محو کلام تھی ۔ دل شِکَسْتَگی کے عالم میں یکایک کسی کا بین اور سسکیاں دل چیر گئیں سامنے← مزید پڑھیے
مولانا فضل الرحمان قیام پاکستان کے بعد سے لے کے چودہ اکتوبر انیس سو اسی میں اپنی وفات تک ملک کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے مولانا مفتی محمود کے سب سے بڑے صاحب زادے ہیں۔ اپنے والد← مزید پڑھیے
یہ جولائی کی ایک دوپہر تھی سورج آسمان کے وسط میں اپنی پوری قوت کے ساتھ آگ برسا رہا تھا ۔ گاؤں کے لوگ کاموں سے تھکے ہارے پسینے میں شرابور اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ سورج کی شدت← مزید پڑھیے
پنجاب کو پرانی حویلیوں، کچے راستوں، سرسوں دے ساگ اور دھوتی کُرتے کے علاوہ بھی دیکھنے اور دکھانے کے لیے ترلہ ہے۔ پنجاب میں سکولوں میں پنجابی بولنے پہ پابندی ہے۔باقی صوبوں کے برعکس یہاں پنجابی بطور مضمون بھی نہیں← مزید پڑھیے
یہ 1947 کی بات ہے۔مغربی پنجاب کی ہوا مسلمانوں کے دبدبے سے بھاری ہو گئی تھی۔اتنی بھاری کہ بچارے اللہ رکھے کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔اللہ رکھا مسلمان نہیں تھا اس نے طرف اپنی جان بچانے← مزید پڑھیے
قدیم ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے ادارے بہت کم ہوا کرتے تھے۔ لوگ ابتدائی تعلیم گھر اور مدرسے یا مندر میں سے حاصل کرلیا کرتے تھے۔ مگر تب کے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے بس دو← مزید پڑھیے
دہلی میں ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنا صد سالہ جشن منا رہی ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی میں متعدد پروگراموں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ جہاں تک مجھے اندازہ تھا، (کیونکہ احسان فراموشی کا یہ مظاہرہ سالہا سال سے← مزید پڑھیے
تاریخی کتب ان باتوں یا واقعات سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں سیاست داں نے فلاں جنگ میں کیا رول ادا کیا، کیا اُس کی کوششوں سے جنگ رُک گئی اور کیا مزید جانیں تلف ہونے سے بچ گئیں، کس← مزید پڑھیے
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہاراجہ ریاست جموں و کشمیر ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں وکشمیر کا الحاق انڈیا سے کیا تھا۔ اس کے بعد یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان میں تعینات مہاراجہ کے← مزید پڑھیے
جاپان میں میرا تین مہینوں پر مشتمل وِزٹ کا دورانیہ پایہ تکمیل تک پہنچنے والا ہے جن میں سات دن میں نے یہاں کے دارالحکومت ٹوکیو میں گزارے۔ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تیزرفتار زندگی کا یہ شہر کئی لحاظ← مزید پڑھیے
طلبہ کی سوچوں کو سمجھنے اور ان کے خیالات کو مثبت سمت میں مائل کرنے کے بجائے، ان کے درمیان نفرت بڑھتی چلی گئی۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہو چکا تھا۔ آنکھیں سرخ اور غصہ بڑھتا جا رہا← مزید پڑھیے
اکثر ہمیں سعودی عرب میں مردوں میں سفید رنگ کا “ثوب” جبہ ہی پہنا نظر آتا ہے، سعودی مرد مغربی لباس بھی پہنتے ہیں لیکن مقامی طور پر نوکریوں یا روزمرہ زندگی میں وہ سفید ثوب ہی پہنتے ہیں، یہ← مزید پڑھیے