مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

پاکستان بمقابلہ بھارت،عمران خان بمقابلہ نریندر مودی۔۔۔۔فراست محمود

لفظ ” پاکستان بمقابلہ بھارت” جب بھی نظروں سے گزرتا ہے ایک عجیب سی سنسنی دونوں ملکوں کے باشندوں کے جسموں میں ایسے دوڑنے لگتی ہے کہ پھر ” جوش سے نہیں ہوش سے” مشورہ دینے اور کہنے والے بھی←  مزید پڑھیے

جینٹلمین۔۔۔۔۔ مدثر بشیر

کسی سرکاری دفتر میں سائل کی چائے سے تواضع بذاتِ خود الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے لیکن یہاں انوکھا پن اس لئے بھی سوا تھا کہ یہ دفتر تھا بھی محکمہ بجلی کا ۔بلوں نے لوگوں کا دماغ الٹا←  مزید پڑھیے

“درویشوں کا ڈیرہ” کی تقریبِ رونمائی کا احوال۔۔۔۔مزمل صدیقی

کتاب درویشوں کا ڈیرا پر ہم نے بہتوں کی آراء سُنیں اور اپنے کانوں سے دھواں نکلتے محسوس کیا ۔بارے بار پہلی کوئی عقل کی باتیں کانوں میں پڑیں  ۔خلاصہ جس کا یہ ہے فرد کی آزادی دراصل کیا ہے←  مزید پڑھیے

شو کمار بٹالوی نال میریاں ست ملاقاتاں۔۔۔۔سرجیت پاتر

شو نال میریاں گنتی دیاں ملاقاتاں ہوئیاں۔ جدوں کدی میں کلاس وچ شودی شاعری پڑھاؤاندا پڑھیار مینوں کہندے: سر کوئی شو دی گل سناؤ۔ اودوں میرا جی کردا کاش میں شونوں کجھہ ہور ملیا ہوندا۔ پر شو دے جیؤندے جی←  مزید پڑھیے

ہوٹلوں میں موت کا کاروبار۔۔۔۔۔ طاہر حسین

ج دل بہت اداس ہے اور اداسی کا سبب معصوم بچوں کے وہ چہرے جو رہ رہ کر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ اولاد سے بڑھ کر ہے بھی کیا کہ جو قدرت کا وہ تحفہ جو جان نچھاور کرنے←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر انور سجاد۔۔ سرپرست مدیرِ مکالمہ

لاہور کی فصیل کے اندر جنم لینے والے  ڈاکٹر انور سجاد ۔ ڈاکٹر دلاور علی کے  بیٹے۔ ڈاکٹر دلاور، لاہور کے اوّلین ڈاکٹروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر  صاحب  27 مئی 1935 میں چونا منڈی ،لاہور میں پیدا ہوئے  ←  مزید پڑھیے

میرے ماموں کا لڑکا۔۔گل نوخیز اختر

کامران میرے ماموں کا لڑکا ہے اوراپنے تئیں دنیا کی عجیب و غریب خاصیتوں کا مالک ہے۔اس کی عمر 30 سال ہے جس میں سے اس نے 50 سال علم سیکھنے میں لگائے ہیں۔اس کے بقول وہ کالا علم بھی←  مزید پڑھیے

جون ایلیا سے ملیے۔۔۔۔انور احسن صدیقی کی خود نوشت سے انتخاب

سید محمد تقی اور رئیس امروہی کے تذکرے کے بغیر کراچی کی تہذیبی اور مجلسی زندگی کا ذکر نامکمل رہے گا۔لہذاا س موقع کی مناسبت سے اس احوال کو میں بیان کردینا چاہتا ہوں۔ وہ چار بھائی تھے۔ سب سے←  مزید پڑھیے

پچھتاوا۔۔۔۔۔اعظم معراج

مئی 2013 میں اس نے چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ کا حلف لیا، قائد سے ملاقات کی اور کہاں مائی باپ آپ نے مجھے زمین سے اٹھا کرآسمان پر پہنچایا، میں نے آپ کی خدمت کی اور اتنی کہ میرے پوتوں←  مزید پڑھیے

خدا کیا چیز ہے۔۔۔حسن کرتار

جہاں تک ادب کا معاملہ ہے کسی عام انسان کو یا ہر انسان یہاں تک کہ ذرے ذرے کو خدا سمجھنا عام سے بھی عام تر بات ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بڑے درویش اور دانا←  مزید پڑھیے

گرمیوں کے روزے، “چند خوشگوار یادیں”۔۔۔۔۔طاہر حسین

عمر ہماری یہی کوئی چھ سات برس کی ہوگی جب اپنے ہوش میں پہلی دفعہ گرمیوں کے روزوں سے واسطہ پڑا۔ یہ تو معلوم نہ تھا کہ روزے سے پہلے سحری بھی ہوتی ہے مگر یہ منظر یاداشت پر نقش←  مزید پڑھیے

وحشت،تذلیل اوربغاوت ۔۔۔ حبیب الرحمان

کالے رنگ کے آہنی دروازے پر پہنچ کر ہی پورے جسم کو غیر مسلح کرنے کے لیے ٹٹول بٹول شروع کردی گی۔ایک ایک جیب کی تلاشی کے بعد جو سامان حربِ ہاتھ چڑھا جس میں شناختی کارڈ چھوٹی چھوٹی پرچیاں←  مزید پڑھیے

بانی ء تنظیمِ اسلامی، امیرِ تنظیمِ اسلامی – فکرِ تنظیمِ اسلامی۔۔۔عمران ریاض

تحریکوں اور جماعتوں کی زندگی کا یہ عام دستور رہا ہے کہ بانیانِ جماعت کی دنیا سے رخصتی کے بعد جماعت کی باگ ڈور ایسے نا خلف لوگوں کے ہاتھوں میں آ جاتی ہے جو جماعت کی قیادت کے اہل←  مزید پڑھیے

ابوجی کے نام۔۔۔۔طاہر حسین

مجھے آپ سے بہت شکائتیں ہیں اور بہت شکوے کرنے ہیں۔ آپ نے مجھ سے مرد بننے کی امید کیوں رکھی جبکہ آپ خود ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ جذبات کے اظہار کو کیوں آپ مردانگی کے خلاف جانتے تھے۔←  مزید پڑھیے

قربانی دیں اور محبت پھیلائیں۔۔۔عمران خان

میں آج جو کچھ لکھ رہا ہوں اس سے مجھے یقین ہے کہ بہت سارے لوگ ناراض بھی ہوں گے اور بہت سارے اتفاق بھی کریں گے۔ بہت سارے نفرت بھی کریں گے اور بہت سارے میرا مذاق بھی اڑائیں←  مزید پڑھیے

کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں۔۔۔الطاف حسین رندھاوا

بھارت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ کشمیر میں اس نے جس طرح انسانی حقوق کو پامال کیا ہے. پیلٹ گن سے کشمیری نوجوانوں اور معصوم بچوں تک کو بینائی سے محروم کیا ہے. چیک پوسٹوں پر کشمیریوں کو ذلیل←  مزید پڑھیے

دکھی ایکسپریس “صحرائے تھر، ہائے تھر”۔۔۔۔۔طاہر حسین

فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کیسے ہوا کرتی ہے اس کا علم تو نہیں لیکن اقبال کا شعر سنتے ہی گردن اس غرور سے تن جایا کرتی کہ کسی حد تک بندہ کوہستانی تو میں تھا لیکن مردان صحرائی کے←  مزید پڑھیے

ہم کہاں غلطی کررہے ہیں؟۔۔۔۔ریحان خان

پلوامہ حملوں کے بعد ملک سوگ کی کیفیت میں ہے۔ ایسے معاملات قومی المیہ ہوتے ہیں جن پر سیاسی سطح سے بالاتر ہوکر سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن حملوں کے بعد 49 لاشوں پر بھی سیاسی روٹیاں سینکنے کی←  مزید پڑھیے

جنم ۔۔۔انور زاہد

ہم ایسے لوگوں کا ۔۔۔۔۔۔۔کوئی جنم نہیں ہوتا ہمارا کام ہے، رکھنا چراغ رستوں پر ہمارا کام ہے راتوں کی روشنی بننا ہمارا کام ہی خوابوں کی پہرے داری ہے ہم ایسوں کے لئے راتیں ہی کام ہوتی ہیں ہمارے←  مزید پڑھیے

لذتِ آشنائی ۔۔۔۔طاہر حسین

جیسے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ابن آدم اور بنت حوا ایک دوجے کے لیے لازم ملزوم ہیں’ اسی طرح یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کون الزام علیہ اور کون ملزم۔ اس طرح کے کردار دنیا←  مزید پڑھیے