• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • “درویشوں کا ڈیرہ” کی تقریبِ رونمائی کا احوال۔۔۔۔مزمل صدیقی

“درویشوں کا ڈیرہ” کی تقریبِ رونمائی کا احوال۔۔۔۔مزمل صدیقی

کتاب درویشوں کا ڈیرا پر ہم نے بہتوں کی آراء سُنیں اور اپنے کانوں سے دھواں نکلتے محسوس کیا ۔بارے بار پہلی کوئی عقل کی باتیں کانوں میں پڑیں  ۔خلاصہ جس کا یہ ہے فرد کی آزادی دراصل کیا ہے ، مذہبی آزادی کس قدر اہمیت کی حامل ہے ، جنسی آزاد سماجی رویوں میں کس طور حوصلہ افزا ثابت ہوسکتی ہے، تصور خدا کیا ہے،اور  عورت کو بطور انسان دوست تصور کرنا   ایک مسلم معاشرے میں کیسا ہے، عورت اور مرد کے تعلق میں مکالمہ کس قدر وقعت کا حامل ہے، کیا عورت کے ساتھ صرف سونا کافی ہے، کیا چھ گھنٹے کے سفر میں   عورت کے ساتھ منہ بند کرکے منزل مقصود پر پہنچنا کافی ہے، کیا عورت صرف جنس کا محور ہے، اللہ اللہ کیا بتاوں میں ازلی مسیتڑ پر معاشرے کا نباض، بھئی یہ باتاں کان کھولتی لگیں ۔آج کل تو یہ   طور ہےعورت کو دیکھتے ہی آنکھیں پھوڑ ڈالو، شلواریں بھگوڈالو، ڈاکٹر صاحب نے بڑے صحت مندانہ مباحث بصورت مکالمہ اس کتاب میں کیے ہیں، اور  محفل میں دیر تک    مقرر کی حیثیت سے گفتگو    فرمائی ہے ۔بارے کتاب کے صورت جن کی خطوط پر رکھی گئی ہے اور بی بی رابعہ نے اسے 60 دن کی محنت شاقہ سے صورت کتاب شائع کیا ہے ۔چھپی یہ کینیڈا سے ہے ۔بارے محفل مُکتے ہی چائے، دہی بھلے، سموسے کافی، کباب، فروٹ چاٹ کے دور چلے ۔لو جی سویر کا بھوکا تھا منہ چھپاتے ٹوٹ پڑا۔۔میاں ظاہر اپنی آگ بجھانے میں لگ پڑا ۔اس دوران بینا گوئندی آپا دِکھی، پیٹ چھوڑ کر یاد اللہ کو پہنچ لیا،آہا قسم خدا وند کی محفل میں جان ڈال دیتی ہیں ہماری آپا ۔
بارے وہیں سلمیٰ آپا سے مکالمے کا موقع ملا، چھوٹتے ہی کہا آپا آپ وہی ہیں ناجد لکھنے کی آزادی چھن گئی تو یہ چھوٹی چھوٹی پرچیوں پر لکھا کرتی تھیں، بارے ایسی زندہ دلی سے مسکرائیں اور شانے سے لگا کر شفقت سے ہم کو بھر دیا ۔ہم کو اور بھی بہتے لوگ ملے اور محبت سے ملے، پر جب واں سلیم صاحب سے مکرر ملاقات ہوئی تو چھوٹتے ہی کہا۔سائیں ہاسے تے بغیر کانڈھے دے پر پروگرام چس چوا ڈتی اے ( تھے تو بن بلائے پر محفل نے لطف دیا ۔) آنکھیں پھیلا کر حیرت سے دیکھنے لگے پورا ڈٹھے وے۔( پورا پروگرام دیکھا) جی ہاں یہ کہتے ہی ہم مکان ہوئے مگر دروازے پر امیر جعفری صاحب ملے تو ہم نے ذرا دبکتے ہی کہا میاں برا نہ مانیں تو آپ ہم کو منصور آفاق لگے ہو، اس پر وہ ہاسا کیے گئے، اتنے میں بینا گوئندی آپا اپنی گاڑی میں لاد کر ہمکو چھاؤنی  سے پرے سپیڈو اڈے پر پھینکتی گئیں ۔ہم نے دعائیں پیٹ بھر کر آپا کو دیں  اور بیس روپے میں چوک کچہری اتر گئے اور ناصر باغ میں چھائی ویرانی تکتے ہوئےنیو ہاسٹل کی طرف اندھیرے میں گم ہوگئے  ۔ذرا سوچو اور دعا دو بینا آپا کو وہ گرنہ چُکتیں تو بارے کرایہ کے رکشہ چار سو سے کم پر ہم کو نہ لیتا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *