پچھتاوا۔۔۔۔۔اعظم معراج

مئی 2013 میں اس نے چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ کا حلف لیا، قائد سے ملاقات کی اور کہاں مائی باپ آپ نے مجھے زمین سے اٹھا کرآسمان پر پہنچایا، میں نے آپ کی خدمت کی اور اتنی کہ میرے پوتوں اور آپ کے نواسوں کی بھی نسلیں موج کریں گی۔ اب کیوں نہ ان اکیس کروڑ خاک نشینوں کے لیے بھی کچھ کیا جائے؟ ورنہ عمران خان جس طرف ان کو لگا رہا ہے، مجھے لگتا ہے ہمارے لیے مشکل ہو جائے گی۔ اب تو آپ کے بیرونی دوستوں نے اندرونی طاقتور لوگوں کو سمجھا لیا ہے لیکن یہ ہمیشہ  نہیں چلے گا۔ لہٰذا اب مجھے اجازت دیں، میں کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ قائد نے سمدھی کی آنکھوں میں پچھتاوے کی آگ میں جلی روح کی راکھ سے بغاوت کی چنگاریاں سلگتی دیکھیں تو سر ہلایا۔

سمدھی اول نے مزید کہا میں تو پوری انتخابی مہم کے درمیان ڈھنگ سے سویا نہیں۔ اگر کہیں میرے اعترافی بیان کو اردو میں ترجمہ کرکے کتابی شکل میں چھاپ کر ملک بھر میں بانٹ دیا جاتا تو اس میں جس طرح میں نے آپ کی اور اپنی وارداتوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔ قائد نے غصّے سے دیکھا تو وہ فوراً بولا آپ کو پتہ ہے میں مجبور تھا، گھبرا گیا تھا، وہ تو شکر ہے عمران کے ساتھی سارے پیسے کے زور پر اس کے قریب ہونے والے ہیں۔ عقل و دانش اور نظریات سے وہ بھی ہمارے جتنے ہی دورہیں ورنہ ہمیں تو شاید چند نشستیں بھی نہیں ملتی لیکن شکر ہے ہم پھر اقتدار میں ہیں۔ اس لیے ہمیں اب کچھ کر لینا چاہیے ورنہ  آگے یہ ایسے نہیں چلے گا۔ قائد نے شہنشاہوں کے انداز میں مزاح سے کہا ’’جا اسحاق جی لے اپنی زندگی‘‘۔

وہ وہاں سے نکلا اس نے اسلام آباد کی انتظامیہ کی اعلیٰ سطح کے عہدے داروں کی میٹنگ بلائی اسلام آباد کے نیشنل اسمبلی کے سارے حلقوں اور پچاس کی پچاس یوسیوں کی زمین جائیداد کو زیادہ سے زیادہ کیٹگریوں میں تقسیم کیا اور اسٹیٹ ایجنٹ بلڈرز و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر انتہائی منصفانہ سرکاری قیمتوں کو مارکیٹ قیمت کے تقریباً مساوی مقرر کر کے اسٹیمپ ڈیوٹی اور دیگر سرکاری اخراجات کو نہایت کم ریٹ مقرر کرنے کا حکم دیا اور رجسٹرار، پٹواری کی حدود کی سطح پر عام شہریوں اور متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری لوگوں پرمبنی بورڈ تشکیل دیئے، جو ماہانہ بنیادوں پر ان قیمتوں کا جائزہ لیں تاکہ کہیں حکومت یا عام شہری کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ اگلی میٹنگ اس نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تعاون سے مکران ڈویژن کی انتظامیہ سے رکھی وزیراعظم سے گوادر کے لیے کچھ خصوصی مراعات اور اسپشل پیکج حاصل کیے، جس میں صوبے کے مفادات کو اولیت دے کر گوادر کوخاص مراعات دلوائیں۔ وہاں کی انتظامیہ کے ساتھ اسلام آباد ماڈل کی طرز پر زمین جائیداد کی سرکاری قیمتوں کا نظام وضع کرنے کا کہا اور مقامی لوگوں کا شفاف ڈیٹا بیس تیار کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ مقامی لوگوں کو گوادر کی ترقی اور خوشحالی میں سے طے شدہ حصہ ملے اور وہ اسلام آباد کے مقامیوں کی طرح دس سال بعد باہر سے آنے والوں کے گھریلو ملازم بن کر اپنے اجداد کی سرزمینوں پر آہیں نہ بھرتے پھریں۔ ماسٹر پلان تیار کرکے فوراً پیش کرنے کا کہاں تاکہ وہاں زمینوں کی بندر بانٹ بندہو اور زمین جائیداد کی خرید وفروخت کا فائدہ ملک وقوم، صوبے، شہر اور مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ہو ۔ سرکاری افسران اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مبنی بورڈ تشکیل دیا جو ماہانہ بنیادوں پر زمین کی سرکاری قیمتوں کا تعین کرے، ترجیحی بنیادوں پر پالیسیوں کو ایسا رکھنے کی سمت دینے کے احکامات دیے کہ فائدے ان ترجیحات کی بنیاد پر ہوں۔ اول ملک دوئم صوبہ سوئم مقامی شہری اور چہارم جائز روزگار فراہم کرنے والے سرمایہ کارہوں تاکہ صرف سٹے باز اور زمینوں کی کساد بازاری کرکے آنی والی نسلوں کو ایڈوانس میں لوٹنے کے منصوبوں والے ہی ان کاموں سے مستفید نہ ہوں۔ سرکاری ٹیکسوں کی لوٹ مار بھی بندہو اور زمین کی سرمایہ کاری قومی معیشت کا بھی حصہ بنے۔ زمین جائیداد کے لین دین میں سو فیصد ٹیکسڈ اور رجسٹر ڈ سرمایہ لگے زمینوں میں کسادبازاری کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس طرح اسلام آباد میں بیس لاکھ کی آبادی پچاس یوسیوں کی جب چند دنوں میں ڈاکومنشن ہوئی کچھہ مافیاز نے گڑ بڑ شروع کی۔ لیکن حکومت کے تیور اور نیت دیکھ کر سب شانت ہوگئے۔ زمین کی قیمتوں میں شدید کمی ہوئی، عام صارفین آگے بڑھے اسلام آباد کی معیشت میں اچانک سرمایہ کاری بڑھی، زمین میں کسادبازاری کے لیے سرمایہ کاری کی جگہ ضرورت مند داخل ہوئے، تعمیرات بڑھنے لگی، تعمیراتی سامان کی صنعت چل پڑی، روزگار بڑھا۔

اسی طرح گوادر میں جب شفاف لین دین شروع ہوا تو ملک صوبے شہراور مقامی لوگوں کے دن بدلنے لگے۔ چند سٹے بازوں اور مافیاز کی جگہ بیرونی سرمایہ کاری کا سیدھا فائدہ ملک صوبے اور شہرکوہونے لگا۔ مقامی لوگوں کو بنیادی ضروریات کی اشیاء انتہائی مناسب قیمتوں پر مہیا کی جانے لگیں۔ شر پسندوں کے زہریلے پروپیگنڈے بے اثر ہونے لگے، زمینوں کی کساد بازاری کی جگہ سرمایہ کاری پیداواری صنعتوں میں ہونے لگی۔ ملکی سلامتی کے اداروں نے جب یہ دیکھا کے سماجی انصاف ھر طرح کے دہشتگردوں کے خلاف ایک بڑا ہیتھار ہوتا ہے تو وہ اس ماڈل کو سراہنے لگے اور انھوں نے سماجی انصاف کو قومی سلامتی کا اہم جز قرار دے کر اپنے تعلیمی اداروں میں اس پر تحقیقی مقالے لکھوانے شروع کئے۔ ساتھ ہی انہوں نے بھی اپنے ذیلی اداروں کو ہاؤسنگ برائے کاروبار نہیں صرف اپنے لوگوں کی فلاح کے بنیادی اصول پر چلانے کے پیغامات بھجوا دیے اور بجائے کاروبار کے اپنی اولین ترجیح دفاع وطن کے نصب العین پر زور دینے کے صاف احکامات جاری کردیے۔
جب گوادر اور اسلام آباد ماڈل کے اثرات دنوں میں آنے لگے تو اس نے وزیر اعظم کو یہ ماڈل دکھا کر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی اس نے تمام وزراء اعلیٰ کے سامنے ہاتھ جوڑے اور جذباتی انداز میں کہا دیکھو میرے بھائیوں ھم اشرافیہ نے مجھ سمیت اس ملک کے وسائل کو صرف چند گھرانوں کے لئے مختص کر رکھا تھا۔ آج دنیا بھر میں ہمارے اثاثوں کا کوئی شمار نہیں۔ اب اس ملک کے حقیقی وارثوں کو کچھ دینے کا وقت آگیا ورنہ اگلہ مرحلہ بڑا خوفناک منظر پیش کرتا ہے۔ اس لیے آئیں پہلے مرحلے میں زمین جائیداد کی سرکاری قیمتوں کو مارکیٹ ریٹ پر لانے کا نظام بنائیں۔

ہمارے پاس ڈویژن ضلع تحصیل سے یوسی سطح کا نظام موجود ہے، صرف نیت چاہیے۔ ھم برسوں کا رکا یہ کام دنوں میں کرسکتے ہیں۔ آپ اپنے قائدین کو اعتماد میں لیں ورنہ وفاقی سطح پر ہمیں بہت سخت اقدامات کرنے پڑیں گے۔ مثلاً ہم خود بھی وفاقی ایجنسیوں کے ذریعے کام کر سکتے ہیں لیکن ہم یہ کام قانون کا خوف پیدا کرکے اور حب الوطنی کا ذوق پیدا کرکے سلیقے سے کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ایف بی آر کا دائرہ کار اس ملک کی جغرافیائی حدود میں ہر جگہ نافذ العمل ہے۔ معاشی دہشتگردوں اور عام دہشتگردوں کے مقدمے دہشت گردی کی عدالتوں میں اکٹھے چلانے پڑیں گے۔اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں تعاون کریں ورنہ پلان ’’بی‘‘ بھی تیار ہے۔۔یہ ہے اسلام آباد اور گوادر ماڈل اس کے مطابق مجھے آپ کا تعاون درکار ہے۔ عام آدمی خوشحال ہوگا تو ہماری آپکی حکومتوں کو قائم رکھنے میں مدد ملے گی اور یہ سب بھول جائیں گے ماضی میں ھم نے ان کی اولادوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔ یہ بڑی معصوم قوم ہے۔ آؤ ان کی معصومیت سے اپنی اپنی عاقبت اور اپنے اور ان کے بچوں کا مستقبل سنواریں ورنہ آنے والی صورت حال بہت خوفناک ہو سکتی ہے۔ ھم نے پیداواری صنعتوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ برآمدات بڑھانی ہے، تجارتی خسارہ کم کرنا ہے۔ زمین جائیداد کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرکے عام پاکستانی کے اپنے گھر کے خواب کو پورا کرنے میں مدد دینی ہے۔ امن وامان کے لیے ہمارہ تعاون حاضر ہے۔ آپ اپنے حصّے کے وہ کام کریں جس کا ہم سب نے حلف اٹھا رکھا ہے۔ ہم اپنے حصّے کے فرائض انجام دیں گے۔ ادارے بھی ملکی مفاد میں ہمارے ساتھ ہیں۔ بس ان ماڈلز کے مطابق مجھے اعدادوشمار اور پالیسیوں کا نظام کچھ دنوں میں چاہیے۔ آ پکو وفاقی اداروں کا تعاون اس میں حاصل رہے گا۔

واپس آ کر اس نے وزیر اعظم کو آ رڈنیس کے ذریعے معاشی دہشتگردوں کے مقدمات دہشتگردی کی عدالتوں میں بھجوانے پر قائل کیا اور ایف بی آر کو شرفافرینڈلی اور معاشی دہشتگردوں کے لئے انتہائی سخت قوانین وضع کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی میڈیا پر علماء اور دانش وروں کی مدد سے معاشی دہشتگردی کے قوموں کی زندگیوں میں اثرات پر بحث کا آغاز کیا۔ مختلف مکتبہ فکر کے معیشت دانوں پر مبنی تھنک ٹینکس بنائے، جن کے بنانے ہوئے بیانئے پر مافیاز کے بیانیوں کا میڈیا پر جوا ب دیا جاتا۔ نادرا پر اس نے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر زور دینا شروع کیا۔ صوبوں کو کہا ٹریفک پولیس پر ہم بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں آپ انہیں مضبوط کریں۔ یہ ایف بی آر اور صوبائی ٹیکسوں کی کلیکشن میں بہت بڑا کردار ادا سکتے ہیں۔ کوئی ان ٹیکس ان رجسٹرڈ گاڑی انکی اجازت کے بغیر سڑکوں پر نہیں آسکتی۔ جب ریاست سماجی انصاف کے لیے حرکت میں آئی اور ریگولیٹری اتھارٹیز مضبوط ہوئیں تو معاشرے کے بڑے بڑے اژدے چھوٹے چھوٹے سرکاری اہلکاروں کے سامنے کیچوے ثابت ہونے لگے۔ اس طرح پھر جب سرمایہ پیداواری صنعتوں میں خون کی طرح دوڑنے لگا تو ملک میں خوشحالی کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچنے لگے۔ زمین جائیداد کی قیمت خرید عام پاکستانی کی پہنچ میں آنے لگی ۔اگر کوئی دم توڑتی مافیا چند سو لوگوں کو سڑکوں پر لاتی تو ہزاروں عام لوگ انکے خلاف سڑکوں پر آجاتے اور انھیں دم دبا کر بھاگنا پڑتا۔ میڈیا پر مسلسل معاشی دہشتگردوں کی وارداتوں کے طریقے زیر بحث آتے اور اسکے عام آدمی پر اثرات کو زیر بحث لایا جاتا۔ مثلاً کسی بھی شعبے کا سٹہ کس طرح آنے والی نسلوں کو بھی ایڈوانس میں کئی کئی بار لوٹ لیتا ہے۔ کچھ دو نمبر سرمایہ دار سرمایہ کو باہر نکال کر لے جانے کی دھمکی دیتے۔ حکومت کہتی ضرور لے جائیں ملکی قوانین کے مطابق غیر قانونی سرمایہ باہر لے جاتے ہوئے جو پکڑا جائے گا اس کا کیس دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائیں گے۔ باقی بھی ریاست جو ایسے غیر قانونی اقدامات کے خلاف کر سکتی ہے کرے گی۔ زمین جائیداد میں ٹریڈنگ کرنے والے کبھی دیگر 48 اور کبھی 72 دوسری صنعتوں کے تباہ ہونے کی شیند سناتے۔ حکومت کہتی وہ ٹریڈنگ سے نہیں تعمیرات سے چلتی ہیں۔ آؤ مثبت رویوں سے تعمیراتی کام کرو ، ہم سہولتیں دیتے ہیں۔ نجی ہاؤسنگ والوں کو صاف پیغام دیا گیا۔ اس جغرافیائی حدود میں جو کام کروں گے حکومت کو ٹیکس دینا پڑے گا۔ کسینو معیشت کے مضمرات کو میڈیا پر اجاگر کیا جانے لگا۔ صرفِ دو حرفی بیانیے’’ سماجی انصاف‘‘ نے قوم کے اجتماعی شعور کو یکسو کردیا۔ جب خوشحالی ھرطرف پھیلنے لگی، وہ جدھر جاتا لوگ سڑکوں پر نکل آتے اس سے والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے۔ وہ کریڈیٹ اپنے قائدین کو دیتا تاکہ انہیں اس سے خوف نہ ہو۔ ایسی ہی ایک تقریب میں جب وہ تقریر کر رہا تھا تو لوگوں نے جزباتی نعرے بازی شروع کردی وہ بھی اس میں شاملِ ہوگیا۔ فرطِ جذبات سے اس کا گلا رندھ گیا۔ پھر باقاعدہ روتے ہوئے اس نے ’’پاکستان زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!‘‘ کے دیوانہ وار نعرے لگانے شروع کردیے۔ وہ روتا جاتا اور نعرے بازی کرتا جاتا۔

اسی دوران اچانک اسے اپنے وجود کا وزن ختم ہوتا محسوس ہوا اور وہ ہوا میں تیرنے لگا اور اسکی آنکھ کھل گئی۔ جب وہ خواب سے حقیقت میں آیا تو اسے یاد آیا کچھ دیر پہلے اسکے بیٹے نے کہاں تھا آپ لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں کچھ صحافی اسپتال میں آپکی عیادت کے بہانے آنے والے ہیں۔ اسی دوران اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے آج پھر یہ خوبصورت خواب دیکھا، جسے وہ چاہتا تھا کبھی ختم نا ہو۔ اس نے اپنے بیٹے سے روتے ہوئے کہا۔ میری اسد عمر سے بات کروائیں ورنہ میں اس خوبصورت خواب کے زیر اثر کسی دن اگلے جہاں چلا جاؤں گا۔ خدارا میری بات کروائیں۔ فون ملتے ہی اس نے کہاں اسد دیکھو اس قوم کی بدقسمتی کہ  میرے جیسا اکاؤنٹس کا آدمی اور تمہارے جیسا مارکیٹر اس ملک کے وزیر خزانہ لگتے ہیں۔ لیکن میرے بھائی میں یہ خواب پچھلے کئی دنوں سے دیکھ رھا ہوں۔ اس میں جو پیغامات مل رہے ہیں وہ سن لو پھر اس نے تفصیل سے خواب بیان کیا اور کہا دیکھو آج ان اکیس کروڑ کے لئے کچھ کرلو۔ تمہیں ایک یہ ایڈوانٹج بھی ہے کہ تمہیں اچھا کام کرنے میں رکاوٹ نہیں ملے گی۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں، میں جو کام ایک دو خاندانوں کے لیے  کرتا تھا تم چند گروہوں اور گروپوں کے لئے و ہی کام کررہے ہو۔ وقت گزر جاتا ہے میرے بھائی، بعد میں کوئی کام نہیں آتا۔ ٹھنڈے ملکوں کے اسپتالوں کے گرم کمرے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی لعن طعن اور قبروں تک ساتھ دینے والے پچھتاوے ہوتے ہیں۔ کرلوں اکیس کروڑ کے لئے جن کے مفادات کا حلف لیا ہے۔ صرف چند کاروں کے پرزے جوڑنے والوں اور بلڈرز کے مفادات کی نگرانی کا حلف نہیں لیا تم نے! کچھ کر لو، روز یہ موقعے نہیں ملتے ورنہ میری طرح پچھتاؤ گے ،ساری عمر!

تعارف
اعظم معراج رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں، اس موضوع پر کتاب بھی لکھ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں مسیحی برادری کے تعیمرو دفاع پاکستان میں کردار پر متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں، ا ن کی کتاب’’ شان سبز و سفید‘‘ کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *