قربانی دیں اور محبت پھیلائیں۔۔۔عمران خان

میں آج جو کچھ لکھ رہا ہوں اس سے مجھے یقین ہے کہ بہت سارے لوگ ناراض بھی ہوں گے اور بہت سارے اتفاق بھی کریں گے۔ بہت سارے نفرت بھی کریں گے اور بہت سارے میرا مذاق بھی اڑائیں گے۔ لیکن انسان جب تک کسی تجربے سے نہ گزرے وہ نہیں سیکھ سکتا جو میں نے ایک تجربے سے گزر کر سیکھا وہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔ میرا مقصد صرف ایک معمولی شعور اجاگر کرنا ہے۔ نہ کسی کی دل شکنی مقصود ہے اور نہ کسی کی تعریف و تحسین۔ اپنے آس پاس مساٸل پر نظر رکھیں اور انھیں خود حل کریں۔یہ واقعہ میرے گاوں کا ہے جو ایک دور میں ایک خاندان جیسا تھا۔ ہمارے پڑوس میں جہاں ہم 38 سال سے رہائش پذیر ہیں بیچ مرکزی سڑک کے پانی کا ایک حوض بن چکا تھا۔ یہاں میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ پانی جمع ہونے کا یہ مسئلہ صرف 4یا5سال سے کیوں ہے؟ صرف اتنا اشارہ دوں گا کہ انسان کے پاس جب دولت، اختیار اور طاقت آتی ہے تو اس کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے وہ بدلتا نہیں ہے اس کی اصلیت سامنے آتی ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ دنیاوی زندگی چکی کی مانند گھومتی ہے آج جس کے پاس دولت، اختیار اور طاقت ہے اگلے چکر میں وہ نیچے اور نیچے والے مفلس، بے اختیار اور مظلوم اوپر جاتے ہیں۔صرف ظرف آزمانے کی بات ہے۔ آمدم برسر مطلب کہ اس سڑک پر گاوں کے ہر قسم کے  لوگوں گا گزر ہوتا تھا۔ کوئی گالی دے کر گزرتا تو کوئی  دونوں  فریقین کے تصادم کی دعا مانگتا۔ کوئی  طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجاکر گزرتا تو کوئی کہتا اس مسئلے کا حل ضروری ہے۔ ان میں بچے، بوڑھے، جوان، آوارہ گرد، نام نہاد سیاسی رہنما، قومی نمائندے، علما، ملا و صوفی سب شامل تھے۔ مسئلہ جوں کہ توں رہا یہاں تک کہ اس پانی کی وجہ سے قریبی گھر کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور اس کے کسی بھی وقت گرنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ مسئلہ پھر بھی جوں کا توں رہا۔ دن گزرتے رہے مہینہ  دو تین اور سال لیکن انتظار صرف دوباتوں کا تھا ایک یہ کہ یہ گھر کب گرتا ہے اور دوسرا یہ دونوں فریقین کے درمیان تصادم کب ہوتا ہے؟

قارئین کرام! جب سارے لوگ ان باتوں کا انتظار کرنے لگے تو سمجھو اب انسانوں والی صفات ہم میں نہیں رہیں بلکہ انسانوں کے درمیان رشتہ داری ، پڑوسی پن، دوستی اور پیار محبت کا رشتہ صرف نطق اور گویائی کی وجہ سے ہے۔ انسان عقل رکھتا ہے اور اپنا مافی الضمیر الفاظ کے ذریعے بیان کرسکتا ہے۔ اگر یہ نطق اور گویائی رس ٹپکائے تو خلفائے راشدین کا 42سالہ دور بن جاتا ہے اور اگر زہر گھولے تو قابیل کے قاتل ہونے سے لے کر امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی تک ہر گھر، گاوں، قصبہ، صوبہ اور ملک کی کہانیاں ہمارے سامنے ہیں۔ قابیل پچھتایا اور امریکہ مذاکرات کی میز پر آیا یعنی بات جہاں سے شروع ہوئی وہیں پہ آکر ختم بھی ہوئی۔ مسئلے کی طرف آتا ہوں کہ جب گاوں کے سب لوگ اس مسئلے پر دھیان نہیں دے رہے تھے تو انجام کار وہی ہوا جسے تصادم کہتے ہیں۔ اگر چہ یہ باولے کتوں کی لڑائی نہیں تھی۔

یہاں آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا دونوں فریق بھی اس بات کا انتظار کررہے تھے کہ تصادم اور لڑائی ہوجائے؟ تو اس کو جواب یہ ہے کہ جب قربانی دینے کے بجائے لوگ انا کی بات پر اڑجائیں تو پھر فرعون بھی جانتا ہے کہ موسی سچ کہہ رہا ہے، ابوجہل بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ پیغمبر سچا ہے لیکن بات انا اور ضد و  ہٹ دھرمی کی ہوتی ہے۔ بہر حال جیسا کہ امام خمینی ایران کے انقلاب کا موجب بنا، محمد مرسی، ماوزے تنگ، عبدالغفار خان، مولانا مودودیؒ، مولانا قاسمؒ، سر سید احمد خان، گاندھی جی، اقبال، ہٹلر، صلاح الدین ایوبی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مثالیں ہیں کہ یہ لوگ اکیلے اٹھے تھے اور کارواں بناکر دکھایا۔ تکالیف، مخالفت، اپنوں کی بے رخی، دھوکا دہی ان لوگوں کا راستہ بند نہیں کرسکی۔ ایسے ہی ایک مرد قلندر جس کام لینا نہیں چاہتا اٹھے اور  سارے مسئلے کو اچھی طرح پرکھ لیا، نوعیت کی جانکاری حاصل کی اور اگلے دو دن میں اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالا جس پر فریقین کو اعتراض نہیں تھا۔ یہ حل اچھا تھا یا برا، اس کا نقصان ہوا یا فائدہ، مخالفت ہوئی  یا حمایت اور گاوں جو کسی دور میں ایک خاندان کی طرح تھا اب سب نے تماشائی کا کردار خوب نبھایا لیکن پھر بھی وقتی طور پر ہرروز کے تصادم اور نفرت کا بہاو  کم بلکہ کسی حد تک ختم ہوگیا۔ اس سڑک پر کام کیا گیا جس کے اخراجات دونوں فریقین نے اپنی جیب سے ادا کیے اگر چہ سڑک پورے گاوں کی تھی۔ فریقین نے دیگر نقصانات کا ازالہ بھی خود کرنے کا فیصلہ کیا یعنی اپنے اپنے نقصان کا۔ میں نے بات طویل کی لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ہماری یہی حالت رہی تو اس کا انجام کیا ہوگا؟ مجھے تو آج حقیقت میں نفرت ہوگئی  انسان کے روپ میں شیطانوں سے، سیاستدانوں سے، اس صوفی و ملا سے جو ممبر پر بیٹھ کر امریکہ کی مخالفت کرتا ہے اور USAIDکی ایک بوری گندم کے لیے سب سے پہلے قطار میں کھڑا ہوتا ہے، ان چرب زبان نمائندوں سے جو ایک کے خلاف دوسرے کو اکساتے ہیں تاکہ ان کی قلعی چمکے، مجھے ان بزرگوں سے بھی نفرت ہوگئی جو محض تماشا کرنے لیے بھی اپنا درشن نہ دکھا سکے، مجھے اخلاقیات کا درس دینے والوں سے بھی نفرت ہوگئی۔ میں سیاستدانوں بلکہ نام نہاد سیاستدانوں کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہوں کہ میری آواز شاید آپ تک نہ پہنچ پائےلیکن تین مہینے بعد پھر الیکشن ہے کس منہ سے دروازہ کھٹکھٹاوگے؟ ہم واقعی بے وقوف ہیں لیکن گھاس تو نہیں کھا رہے۔ میں نے نفرت اور محبت کی کئی بہاریں دیکھی ہیں اور اسی بنیاد پر نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جہاں آپ کو مالی نقصان ہو یا انا کی قربانی دینی پڑے۔ وہاں قربانی دیں اور محبت پھیلائیں۔ کوئی آپ کا مسئلہ حل نہیں کرے گا، بلکہ الٹا آپ پر ہنسیں گے۔ یہ زندگی مختصر ہے یہاں چنگیز خان کا نام بھی زندہ ہے اور عمر بن عبدالعزیزؒ کا بھی لیکن دونوں کو لوگ کیسے یاد کرتے ہیں؟ اس میں محبت کے لیے بھی وقت کم ہے تو نفرت کیسے کریں گے؟ نوجوانو! مجھے اپنی عمر اور اپنی عمر سے بڑے لوگوں نفرت ہوگئی ہے لیکن آپ سے امید رکھتا ہوں۔ آنے والا کل آپ کا ہے۔ مسائل آتے ہیں اور حل بھی ہوجاتے ہیں بس انسان کا ظرف آزمایا جاتا ہے کہ کون سچا اور ایماندار ہے اور کون منافق۔ آخر میں اس مرد قلندر، پڑوسی اور فریق دوم کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *