فریق مخالف بضد تھا کہ اپنی مرضی کی شرائط لکھوائے گا کہ اس ضد میں بزعوم خود اپنی کامیابی کی ماہوم امید لگائے بیٹھا تھا۔ فریق اول بھی شرائط نرم کرتا گیا کہ مقصد ہرصورت محاذ آرائی سے بچنا تھا۔یقین کامل تھا کہ فتح ونصرت کی خوشخبریوں کے سوتے اسی کے اندر سے پھوٹیں گے۔ پھروہی ہوا کہ شرائط نرم کروا کے بظاہر خوشی منانے والے صفحہ ہستی سے نابود ہوگئے اور کٹھن راہ کا انتخاب کرنے والے اپنی صلح جوئی ، حسن سلوک ، نرمی اور یقین کامل کے ساتھ ترقیات کی منازل طے کرتے مسند پر جا بیٹھے۔
← مزید پڑھیے