• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ڈاکٹر فرحان ورک اور ڈاکٹر جوزف گوئبلز ۔۔۔ صدام جمالی

ڈاکٹر فرحان ورک اور ڈاکٹر جوزف گوئبلز ۔۔۔ صدام جمالی

حال ہی میں الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ آئی ہے جس میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے روح رواں ڈاکٹر فرحان ورک کا انٹرویو دکھایا گیا ہے کہ کس طرح وہ اور ان کی ٹیم پاکستان میں سوشل میڈیا پر کسی خبر کو trend یعنی مشہور بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مخالفین کے خلاف پراپیگینڈا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں- اس انٹرویو کو دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ سوشل میڈیا خاص کر ٹویٹر Twitter پر ہونے والے بحث و مباحث میں پی ٹی آئی کے کارکن اور سوشل میڈیا اکیٹوسٹ social media activist کسی ایک موضوع کو توجہ طلب بنانے اور دوسرے موضوعات کو منظر عام سے ہٹانے کیلئے کن ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے آرہے ہیں- کس طرح ایک خبر ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ top trend بن جاتی ہے جب کے کئی اہم موضوعات لوگوں کی توجہ حاصل کرنے سے رہ جاتے ہیں –

جو دوست پراپیگینڈا کی اصطلاح سے واقف ہیں ، ان کیلیئے شاید یہ کوئی نئی بات نہ ہو مگر اکیسویں صدی اور انٹرنیٹ کے دور میں پراپیگینڈا کے طور طریقے ایک جدید طرز اختیار کر چکے ہیں- جہاں سوشل میڈیا نے اخبار کی جگہ پکڑ لی وہیں پراپیگینڈا کے ماہرین نے قلم چھوڑ کر کی بورڈ keyboardسنبھال لیا اور اسے بطور ہتھیار کبھی اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا تو کبھی اپنے ہی جاننے والوں کو گمراہ کرنے کیلئے کار آمد بنایا – عوام کی ذہن سازی کیلیئے حکومتی سطح پر ایسی ٹیمیں teams تشکیل دی گئی جو دن رات ایک کر کے مخالف قوتوں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے پر مصروف رہتی ہیں اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کے چرچے بیان کرنے کا فرض نبھاتی ہیں-

چونکہ ڈاکٹر فرحان ورک کے انٹرویو کے بعد یہ حقیقت کافی واضح ہوچکی ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک منظم طریقے سے نہ صرف ملک کے اندر مخالفین کے خلاف پراپیگنڈہ کی مہم چلائی بلکہ پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جنگی اور دیگر محاز پر ہونے والی الزام تراشی کا بھی مقابلہ کیا – ڈاکٹر فرحان کے بقول وہ اور انکی ٹیم ممبر کسی بھی واقع کو عوامی سطح پر اچھالنے اور مشہور بنانے کا گر جانتے ہیں – انہوں نے یہ کام امریکی پراپیگینڈا بلاگر blogger اسٹیو بینن steve bannon سے سیکھا جن کو وہ اس کام میں اپنا آئیڈیل مانتے ہیں- نیز ان کا اس کام سے اتنا لگائو ہے کہ انہوں نے اپنی ہونے والی زوجہ کو بھی شادی کے تحفے کے بطور ایک سوشل میڈیا اکائونٹ دیا جس کے ہزاروں followers تھے – تاہم وہ اکائونٹ کچھ عرصے استعمال کرنے کے بعد بلاک ہوگیا –

لیکن کیا ڈاکٹر فرحان وہ واحد انسان ہیں جو یہ کام کرتے ہیں ؟ کیا پراپییگنڈا ایک نئی اصطلاح اور اکیسویں صدی کی ایجاد ہے ؟ کیا اسے سے پہلے ہمیں منظم پراپیگینڈا کی کوئی مثال نہیں ملتی ؟ ان سوالات کا جواب جاننے کیلیئے ہمیں تاریخ میں زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں – اگر آپ نازی جرمنی Nazi Germany تاریخ کے بارے میں تھوڑا بہت جانتے ہیں تو اڈولف ہٹلر سے ضرور واقف ہونگے جس نے نہ صرف جرمنی کی حکومت پر قبضہ کرکے اسے ایک فسطائی fascist ریاست میں بدل دیا بلکہ دیگر یورپی ممالک یعنی فرانس اور پولینڈ پر حملہ کرکے پوری دنیا میں جنگی تباہی کا آغاز کیا – ہٹلر نے اقتدار پر اپنے قبضے کو اس حد تک مضبوطی سے قائم رکھا کہ پہ درپے جنگی مہم جوئیوں کے باوجود ملک کے اندر اس کی حکومت کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھ سکی اور وہ تب تک اقتدار پر قابض رہا جب تک جنگ عظیم دوم میں اسے روس کے ہاتھوں شکست نہ ہوئی اور روسی فوج برلن میں گھس آئی –

ہٹلر کی آمریت بلاشبہ تاریخ کے سیاہ بابوں میں سے ایک ہے – انسانی ذہن سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ کس طرح ایک شخص لاکھوں جرمن لوگوں کے ذہن پر حاوی رہا ، اپنی فسطانہ سوچ کو ان کے اندر منتقل کرنے میں کامیاب رہا اور اس کے نازی نظریات جرمن عوام میں اس حد تک صراحیت کر گئے کہ سچ اور جھوٹ کی تعریف بھی ان کے آگے وہی ہوتی جو ہٹلر کے منشا کے مطابق تھی- ہٹلر کا کہا حرف آخر ٹھہرتا اور جس اس اختلاف کرتا ، عوام اس سے نفرت کرتی اور اسے ملک دشمن سوچ قرار دیتی- ہٹلر اگر کہتا کہ ہم جنگ جیت رہے ہیں تو عوام اس کی تائید کرتی ، برعکس اس کے کہ حقیقت میں جرمن فوج وہ جنگ ہار رہی ہوتی – دن کو رات ، ہار کو جیت اور جھوٹ کو سچ بنانے کا کامیاب تجربہ ہٹلر کے دور میں ایک اعلیٰ سطح پر کامیابی کی ساتھ کیا گیا-

جس طرح ہر کامیاب تجربے کی پیچھے کوئی نہ کوئی ذہن کار فرما ہوتا ہے ، ہٹلر کے دور میں جرمن عوام کی ذہن سازی کے پیچھے بھی ایک شاہکار کا کمال تھا – اس شاہکار کا نام ڈاکٹر جوزف گوئبلز Dr. Joseph Goebbels تھا- ڈاکٹر گوبلز نازی جرمن پارٹی کا ایک اہم رکن تھا اور جرمنی میں نازی حکومت کے قیام پر اسے پراپیگنڈہ اور عوامی شعور Propaganda and Public Enlightenment کا وزیر بنایا گیا – وزارت کے نام سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گوئبلز کا کام لوگوں کئ ذہن سازی اور ان کے خیالات کو رخ موڑنا تھا- گوبلز کے بارے میں ایک بات کافی مشہور تھی کہ ایک نجی محفل میں اس نے اڈولف ہٹلر کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ واقعی جرمن عوام پر حکومت کرنا چاہتا ہے تو اسے ان کے ذہنوں پر بیٹھنا ہوگا- یہاں گوبلز کا یہ فقرہ کافی مشہور ہوا تھا کہ ” تم مجھے تعلیم اور میڈیا کا قلم دان دو، میں تمہیں ایک نئی قوم بنا کر دوں گا “(You give me the control of media, I will give you a new nation.” اس فقرے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گوبلز عوام کی ذہن سازی کے گر سے اس حد تک واقف تھا کہ اسے Father of Propaganda یعنی پراپیگنڈہ کے استاد کا لقب ملا –

اور گوبلز نے اس فن میں اپنی مہارت کو ثابت کر دکھایا – وزارت کا قلم دان ملتے ہی اس نے اخبار ، ٹی وی اور ریڈیو سے لیکر سنیما تک کو اپنے قبضے میں لے لیا- جرمن عوام تک پہنچنے والی کوئی بھی خبر اس کی مرضی کے بغیر نہیں پہنچ سکتی تھی – اخبارت میں وہی چھپتا تھا جس کی اجازت گوبلز سے ملتی اور ٹی وی اور ریڈیو پر وہی نشر ہوتا جو وہ چاہتا- نیز سنیما میں بھی وہی فلم دکھائے جاتے جو پہلے اس کی نظروں سے گزر کر جاتے اور وہ ان پر اتفاق کرتا-
نتیجہ یہ نکلا کہ جرمن عوام کے ذہن میں حقیقت اور جھوٹ کی وہی تصویر بنی جو ہٹلر اور گوبلز چاہتے تھے- نازی حکومت کو عوام کی طرف سے کوئی مخالف رد عمل دیکھنے کو نہ ملا اور وہ اپنی توجہ عالمی جنگی مہم جوئی پر مرکوز رکھ سکے- جنگ میں مختلف مراحل پر جرمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا مگر اس کی خبر جرمن ٹی وی اور ریڈیو پر کبھی نشر نہیں ہوپاتی ورنہ اندیشہ تھا کہ جرمن عوام اپنی حکومت کی جنگی پالیسی پر کوئی سوال اٹھاتی- تمام اخبارات میں یہی خبر سننے کو ملتی کہ جرمن فوج نے مخالفین کو شکست دی ہے اور اب اگلے محاز کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے- یہ سلسلہ اسی طرح کامیابی سے چلتا رہا اور جرمن عوام کے ذہن میں یہ تھا کہ انکی فوج روس سمیت دیگر ممالک ہر قبضہ کرچکی ہے-

جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس تھی- جرمن فوج مختلف محازوں پر لڑ لڑ کر تھک چکی تھی اور پہ در پہ جانی و مالی نقصانات اٹھا رہی تھی- روس میں ناکام حملے کے نتیجے میں لاکھوں فوجی بھوک اور سردی کے شدت سے روزانہ کے بنیاد پر مر رہے تھے اور انہیں ہتھیار ڈال کر جان بچانے کی اجازت بھی نہیں مل رہی تھی- روسی فوج لاکھوں جرمن فوجیوں کو جنگی قیدی بنا چکی تھی اور اب برلن berlin پر قبضے کیلیئے پیش قدمی کر رہی تھی- دلچسپ بات یہ تھی کہ جس وقت یہ سب کچھ ہورہا تھا ، جرمنی کے اخبارات ، ٹی وی اور ریڈیو پہ یہی نشر ہورہا تھا کہ جرمن فوج روس کو شکست دے چکی ہے اور روس کے دارلحکومت ماسکو Moscow ہر قبضہ کرنے جارہی ہے –

اس ساری حقیقت کا اندازہ جرمن عوام کو تب ہوا جب روسی فوج بالآخر جرمن دارالحکومت برلن میں داخل ہوئی اور وہاں اپنا جھنڈا لہرا دیا- ہٹلر شکست سے چھپنے کیلیئے ایک کوٹھی bunker میں چھپ گیا اور وہیں اپنی بیوی سمیت خود کشی کر لی- اسی طرح کا دلچسپ اختتام ڈاکٹر جوزف گوئبلز کا ہوا جس نے اپنی گرل فرینڈ girlfriend سمیت خود کو گولی مار دی – اور یہ وہ لمحہ تھا جب جرمن عوام کو اندازہ ہوا کہ وہ اب تک جو کچھ سنتے آرہے تھے ، وہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ حقیقت یہ تھی کی جرمن فوج شکست کھاچکی تھی اور ان کا ملک روسی فوج کے زیر آچکا تھا-

ڈاکٹر جوزف گوئبل کو آج بھی نازی جرمنی کی تاریخ کا ایک اہم کردار مانا جاتا ہے – جس نے اپنی پراپیگینڈہ کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی- گوئبلز کا ایک تاریخی فقرہ جو پراپیگینڈہ کی دنیا میں آج بھی دہرایہ جاتا ہے ” اگر ایک جھوٹ کو بار بار بولا جائے تو بالآخر وہ سچ مانا جاتا ہے -“A lie repeatedly told becomes a truth.”

ڈاکٹر فرحان ورک جیسے لوگوں کے طور طریقے شاید جدید ہوں مگر جس نظریہ پر وہ کار بند ہیں وہ کوئی نیا نہیں – پراپیگینڈہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بنی نوع انسان کی – ڈاکٹر جوزف گوئبلز سے جب کوئی شخص پوچھتا تھا کہ تم پراپیگینڈہ کیوں کرتے ہو تو وہ جواب دیتا تھا ، ” اگر لوگوں کی ذہن سازی اپنے منش کے مطابق کرنا پراپیگینڈہ ہے تو اس حساب سے مذہبی پیشوہ اور پیغمبر حضرات سب سے بڑے پراپیگنڈہ استاد ہیں۔” “If a fine gentlemen says you are only a propagandist, ask him , what was Jesus doing when preaching Christianity? What was Muhammad doing when preaching Islam?”

ٖفرحان ورک جیسے لوگ ہمارے دور کے ڈاکٹر جوزف گوئبلز ہیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *