• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ساتھی محمد خان کا نوحہ -بائیں بازو کا گمنام سپاہی:عاصم علی شاہ

ساتھی محمد خان کا نوحہ -بائیں بازو کا گمنام سپاہی:عاصم علی شاہ

پاکستان کی سوشلسٹ اور عوامی جمہوری تحریک ایسے کارکنوں اور رہنماؤں سے بھری پڑی ہے جن کی انتھک جدوجہد اورقربانیوں کا تزکرہ کئے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ نامکمل رہے گی۔
اُنہی ناموں میں سے ایک انتہائی نمایاں نام مزدور تحریک کے رہنما محمد خان کا ہے ۔ 18 جون کو محنت کشوں کا یہ دلیر اور جرّی رہنما سوات میں حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث خاموشی سےہم سے بچھڑ گیا۔ ساتھی محمد خان کو انکی خواہش کے مطابق 1972 کے مزدور شہیدوں کے پہلو میں شہدا قبرستان کراچی میں سپردِخاک کر دیا گیا۔ نہ تو کسی اخبار میں کوئی خبر چھپی اور نہ ہی کسی تعزیعتی ریفرنس کا اعلان ہوا، سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی چند فقروں پر مشتمل کچھ پوسٹیں اور بس۔۔ ایک مزدور آدمی کی موت پر اس سے زیادہ ہو بھی کیا سکتا ہے۔کامریڈ محمد خان
محمد خان کی بائیں بازو اور مزدور تحریک سے وابستگی لگ بھگ ساٹھ سالوں پر محیط ہے۔ نظریاتی طور پر انکا تعلق مارکسی، لیننی، فکرِ ماؤزے تنگ سے تھا۔ انہوں نے تمام عمر انتہائی سچائی کے ساتھ اپنے نظریات اورتنظیم وفاداری نبھائی اور کبھی اپنے نظریاتی ساتھیوں کو دغا نہ دیا۔ انکی جدوجہد اور اولولعزمی نے نہ صرف مزدور تحریک کو جلا بخشتی بلکہ وہ پاکستان کی مارکسی تحریک کے ایک ایسے مجاہد تھے جن کی زندگی مارکسی فکر سے جڑے کارکنوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
ساتھیمحمد خان کے خاندان کا تعلق سوات کے ایک محنت کش گھرانے سے تھا۔ تقسیم ہندوستان سے قبل انکے والد حیدر آباد دکن کی ایک ٹیکسٹائل مل میں مزدور تھے ۔ تقسیم کے بعد وہ پہلے سوات اور پھر روزگار کے سلسلہ میں کراچی آ بسے۔ محمد خان بھی 1959 میں چھٹی جماعت کی تعلیم کو چھوڑ کر گیارہ سال کی عمر میں والد کے پاس کراچی آ گئے اور غیر ہنرمند مزدور کے طور پر ایک فیکٹری میں دو روپے یومیہ پر مزدوری کرنے لگے۔

بائیں بازو اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں سے اُنکی آگاہی مارچ 1963 کی مزدور تحریک سے شروع ہوئی۔ محمد خان کے مطابق ”اُس وقت میری عمر کوئی 14-15 برس کی ہو گی جب میں اپنے مکان کے باہر بیٹھاتھا کہ سامنے سے مزدوروں کا ایک جلوس گزرا اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔ جلوس سائیٹ ایریا میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کر کے آٹھ مزدوروں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال لے جایا گیا تو ہسپتال انتظامیہ نے یہ کہہ کر انہیں ہسپتال سے نکال دیا کہ ایوب خان کا حکم ہے کہ سرکاری گولیوں سے زخمی ہونے والے کسی شخص کو طبی امداد نہ دی جائے۔ اس واقع کے بعد کراچی میں مزدوروں کے احتجاجی جلوسوں پر فائرنگ کا خونین سلسلہ شروع ہو گیا ۔ سینکڑوں مزدور شہید ہوئے اور صنعتی علاقوں کی سڑکیں مزدوروں کے خون اور لاشوں سے بھر گئیں”۔


پر امن مزدوروں پر اس ریاستی بربریت نے محمد خان پر گہرے اثرات مرتب کئے اور وہ بائیں بازو کے زیر اثر ہونے والی مزدوروں کی سرگرمیوں اور سٹڈی سرکلز میں حصہ لینے لگے۔1967 میں انہیں یونین سازی کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا اور وہ چھ ماہ تک کراچی سینٹرل جیل میں قید رہے۔ انہیں 1968 کی ایوب مخالف تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں بھی گرفتار کیا گیا اور اُن کے ساتھی مزدوروں کو زنجیروں سے باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔
محمد خان 1972 کی سائیٹ اور لانڈھی کی مزدور تحریکوں میں بھی پیش پیش رہے اوربھٹو دور حکومت میں ان پر بغاوت کے مقدمہ سمیت کئی جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے جن کے باعث انہیں متعدد بار روپوشی اور قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں ، ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے اور وہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے۔ اسی تحرک کے دوران پیشہ ور ‘مزدور لیڈروں’ اور نام نہاد بائیں بازو کے رہنماؤں نے اصولی جدوجہد کی حمایت کی بجائے مصلحت کا راستہ اختیار کیا اور مزدوروں کی ہڑتالوں کو تڑوانے کی کوششیں کیں۔


ساتھی محمد خان نے مختلف ٹریڈ یونینز کے قیام کے ساتھ ساتھ ورکرز آرگنائیزنگ کمیٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے قیام میں کلیدی کردار کیا اور ان کے بانیوں میں شامل تھے۔ 2007 میں جب کچھ ساتھیوں نے ایک بار پھر این ایس ایف اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کو از سر نو فعال کرنے کا بیڑہ اٹھایا تو ساتھی محمد خان ایک بار پھر انکے ہمرکاب تھے۔
اگرچہ ساتھی محمد خان گھریلو حالات کے باعث رسمی تعلیم جاری نہ رکھ سکے تھے لیکن ان کی علمی درسگا ہ جدوجہد کا میدان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نام نہاد دانشوروں کے برعکس وہ نظریاتی اور سیاسی طور پر انتہائی پختہ تھے اور اپنی فکر و عمل میں کبھی ابہام کا شکار نہیں ہوۓ۔ انہوں نے مارکس، لینن، ماؤزے تنگ، کم ال سنگ سمیت کئی مارکسی مفکریں کی تحریروں کا مطالعہ کیا اور اس عِلم کو عمل کی کسوٹی پر پرکھا ۔ روائیتی ٹریڈ یونین رہنماؤں کے بر عکس ساتھی محمد خان سمجھتے تھے کہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو صرف بونس، گریجوئیٹی، سوشل سیکورٹی کے حصول اور ٹھیکے داری نظام کے خاتمے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ مسائل پاکستان کے طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں اور محنت کشوں کی حقیقی نجات کے لئے پاکستان کے معاشی ڈھانچے اور اس پر استوار طبقاتی سیاسی نظام کو ڈھا نا ہو گا۔

 

محمد خان سے گاہے بگاہے فون پر تو رابطہ رہتا لیکن ایک طویل عرصہ کے بعد مارچ 2018 میں فرنٹئر کالونی کراچی میں واقع انکی رہائش پر تفصیلی ملاقات ہوئی۔ این ایس ایف کراچی کے سابق صدر آصف شجاع بھی میرے ہمراہ تھے۔ تئیس برس بعد ہونے والی یہ ملاقات بھی اُسی چھوٹے سے گھرمیں ہوئی جو کبھی کراچی کی مزدور تحریک کا مرکز تھا ۔ میں اپنے زمانہ طالبعلمی اور این ایس ایف سے وابستگی کے دنوں پہلے بھی یہاں آچکا تھا۔ اِسی گھر کی بیٹھک میں کبھی ڈاکٹر رشید حسن خان کا کلینک ہوا کرتا تھا ، کونے والے کمرے میں پرچون کی دکان اب بھی موجودتھی۔ بیٹھک کی دیوار پر اب بھی مارکس، لینن، سٹالن، ماؤ اور ہوچہ منھ کی تصاویر آویزاں تھیں۔ محمد خان نے نہ تواپناعزم بدلا تھا اور نہ ہی گھر ،جبکہ ہم میں سے بہت سے لوگ یا تو حالات کے جبر یافکرِ معاش سے مجبور دربدرہوۓیا پھر کچھ خوب سے خوب کی خواہشوں میں الجھے چھوٹے گھروں سے محل نما گھروں اور کچھ فارم ہاؤسوں میں منتقل ہو چکے تھے۔ ساتھی محمد خان سے بہت سی باتیں ہوئیں لیکن انکی باتوں میں کسی مایوسی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ اپنی دگرگوں صحت کے باوجود انقلابی نظریے پر انکا پختہ یقین تھا۔ انہوں نے اپنی باتوں میں ڈاکٹر رشید حسن خان، ذین الدین خان لودھی اور انکی جدوجہد اور قربانیوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا کہ کیسے ہر کڑے سے کڑےوقت میں بھی یہ ساتھی اپنے مزدور ساتھیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کرتے اور خود کو مزدور طبقے کا ایک فرد سمجھتے تھے۔ ساتھی محمد خان نے اپنی جدوجہد اور تنظیم میں اتار چڑھاؤ بارے بہت سے واقعات سنائے جس پر میں نے ان سے درخواست کی کہ اپنی یاداشتوں کو تحریر کریں تاکہ انہیں شائع کیا جائے تاکہ نئے کارکنوں کو اس سے ہماری تنظیم کی تاریخ اورجدوجہد سے آگاہی اور رہنمائی حاصل ہو۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی یاداشتوں کو ضبط تحریر میں لائیں گے۔
اس ملاقات کے بعد انکی صحت کی تشویش کے باعث میں نے کئی ساتھیوں کو آگاہ کیا اور ان سے مناسب طبعی سہولتوں کی فراہمی کی درخواست کی لیکن نفسانفسی کے اس دور میں وقت ہی کس کے پاس تھا۔ وہ محمد خان جسے کبھی اس شہر کے ڈاکٹر بڑے فخر سے اپنے جلسوں میں کرسی صدارت پر بٹھایا کرتے اور قائد ہے مزدور قائد ہے کے نعرے لگایا کرتے تھے اب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو چکے تھے۔ اب انکا قائدمحمد خان علاج اور دوا کے لئے شہر کے ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال دوائی کی پرچیاں لئے پھرتا۔

عاصم شاہ
اس سال فروری میں پاکستان جانا ہوا تو ان سے فون پر رابطہ ہو اور انہوں نے ملاقات کے لئے کراچی آنے کی دعوت دی جو بدقسمتی سے تنگئی وقت کے باعث ممکن نہ ہو پائی۔ پچھلے ماہ رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یاداشتوں پر مشتمل کتاب مکمل ہو گئی ہے، ڈاکٹر امین بیگ نے رابطہ کر لیا ہے اور وہ چھپائی کے لئے مدد کر رہے ہیں اور کتابت کے بعد وہ مجھے جلد اسکا مسودہ مجھے بجھوائیں گے۔ سوچا تھا اس کتاب کی رونمائی دھوم دھام سے کریں گے، ان سے بیتے ہوے کل اور آنے والے دنوں کی باتیں سانجھی کریں گےلیکن صدافسوس زندگی نے انہیں مہلت ہی نہیں دی۔
اکثر اوقات محنت کش طبقے کے بڑے نام ساتھی محمد خان کی طرح بڑی جنگ لڑ کر بھی گمنامی کی موت مر جاتے ہیں۔ پیٹی بورژوازی ہر دم ہماری صفوں میں اپنے پر تولتی رہتی ہے، ہم زندہ لوگوں سے زیادہ مردہ لوگوں کو منزلت دیتے ہیں، شاید اس لئے کہ مردہ لوگ ہم سے خود ہمارے ماضی اور حال بارے سوال نہیں کرتے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *