انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو (حصہ اوّل) ۔۔۔ عمر خان

جولائی سن 2009 کی بات پے، مختلف وجوہات کی بنا پر 3 ماہ سے کبھی یہاں کبھی وہاں، کبھی اس شہر تو کبھی اس شہر، یہاں تک کے 4 دن راولپنڈی کے فیض آباد اڈے پر بھی گزارے۔ 2 دن سستا سا ہوٹل لے کر اور 2 دن وہاں موجود ایک سنوکر کلب میں جو 24 گھنٹے کھلا رہتا تھا ۔ایک دفعہ تو رات کا کھانا کھانے فیض آباد سے سکیم تھری پیدل گیا تھا۔
آخر جب مسائل سے نبردآزما ہونے کی کوئی صورت حال نظر نہیں آئی اور بھاگتے بھاگتے بھی تھک گیا تو ابن انشاء کی غزل “انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو” کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ادھر ادھر سے فنڈ اکھٹا کئے کچھ منت ترلا کر کے ادھار پکڑا امارات کے وزٹ ویزہ کا جگاڑ لگایا۔ اب 24 جولائی رات 12 بجے میرا انٹری پرمٹ ایکسپائر ہو جانا تھا اور 20 تاریخ تک ٹکٹ کے دور دور تک آثار نہیں تھے۔ خیر وہ ایک الگ کہانی ہے کہ کس طرح غائیبانہ مدد سے ٹکٹ کا بندوبست ہوا اور میں 24 جولائی 2009 کو امارات کی جانب عازم سفر ہوا۔
ائیرپورٹ کی بلڈنگ میں داخل پوتے وقت گیٹ پر کھڑے سنتری مہاراج نے پاسپورٹ اور ٹکٹ دیکھ کر نظروں سے اندر دفع ہونے کا اشارہ کیا تو چند قدم چلنے کے بعد اے این ایف (ANF) والے استقبال کے لئے نظر آئے، پاسپورٹ لیا اور پوچھا “کتھے چلے او” عرض کیا “دبئی” دوسرا سوال آیا ” کنے کیپسول کھادے جے” میں حیران جمع پریشان کہ یہ کیسا سوال ہے، پوچھا “کیپسول کیوں کھانے تھے” بولے “چیک کر لواں” عرض کی جناب کر لیں لیکن مجھے کیپسول اور چیکنگ کے بارے اور طریقہ کار بھی بتا دیں۔ کچھ لمحہ میری جانب دیکھنے کے بعد بیگ کھولنے کا کہا اور پھر میرے ترتیب سے لگے کپڑے جو اماں نے سیٹ کئے تھے اٹھا باہر مارے اور سب کی مدر کم سسٹر ایک کر دی، بیگ کو ٹھوک بجا دیکھنے کے بعد آرڈر ملا جاو تسی۔ میں نے پوچھا کیسے؟ اینو بند کون کرئے گا؟ اس نے ایسے میری طرف دیکھا جیسے میں نے جناتی زبان بولی خیر جواب آیا ” تسی کرو گے ہور کنے کرنا” میری ہنسی نکل گئی میں نے کہا “میرے پئیو نو وی نہیں آندا ے کرنا” خیر قصہ مختصر اس نے کچا چبا جانے والی نظروں دے دیکھتے ہوئے اور خاتون اہلکار کو آواز دے کر میری مدد کرنے کا کہا۔ وہاں سے فارغ ہو کر بورڈنگ پاس کے لئے چل پڑا۔

جب بورڈنگ پاس کے لیے ائیرلائن کاونٹر پر کھڑا تھا تو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ شاید یہاں سے ہی سفر کی اجازت نہ ملنے کا بھی چانس ہے، خیر پاسپورٹ اور ٹکٹ کاونٹر کے دوسری جانب موجود عفیفہ کے حوالے کیا اور انتظار کرنے لگا کہ بورڈنگ کارڈ تھمایا جائے لیکن بورڈنگ کارڈ کے بجائے ایک سوال آیا “آپ کے پاس 1500 درہم ہیں شو منی کے” میں اس سوال کے لیے تیار نہیں تھا، حیرانگی سے میرے منہ سے نکلا “جی” اس نے لہجے پر غور کئے بغیر پوچھا “درہم یا دوسری کرنسی” تب تک میرا دماغ حاضر ہو چکا تھا میں نے جواب دیا “درہم” شاید چہرے کی معصومیت یا کانفیڈنس سے اس نے شو منی دکھانے کا نہیں کہا اور یقین کر کے بورڈنگ کارڈ میرے حوالے کر دیا۔
برسیل تذکرہ بتاتا چلوں میرے پاس 515 درہم اور کچھ سکے تھے۔(یہ ایک ایسے بندے کا احسان ہے جو شاید میں نہ اتار سکوں زندگی بھر)

وہاں سے فارغ ہو کر خراماں خراماں چلتے پاسپورٹ کنٹرول کی جانب بڑھا. امیگریشن آفیسر “کہاں جا رہے” جواب “دبئی” کیوں” ایسے ہی” امیگریشن آفیسر “ہممممم” پہلے کبھی پاکستان سے باہر گئے ہیں ” جواب “سر پرانا پاسپورٹ ساتھ لگا ہے اب میں کیا گنواوں” ۔ صاحب نے ایگزٹ سٹیمپ لگا کرایک طرح سے پاسپورٹ میرے منہ پر مارا۔

وہاں سے فارغ ہو کر ویٹنگ لاونج کی طرف بڑھا تو ایک ایف آئی اے کا اہلکار لائن بنوا کر کھڑا اور وہی لاحاصل سوال کیوں جا رہے؟ اب میں جو حالات کی وجہ سے پہلے پریشان تھا، دوسرا یہ شو منی والی بات دماغ میں گھوم رہی کہ اگر دبئی ائیرپورٹ پر یہ مسئلہ ہوا تو “پتر فیر کی بنے گئی”، میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا ” یار جنہوں نے ویزہ ایشو کیا انہوں نے ایسا سوال نہیں کیا کہ کیوں آ رہے تو دروازے سے لے کر یہاں تک اس بات کی گردان سمجھ نہیں آ رہی، وزٹ ویزہ ہے لکھا ہے اوپر اب یہ سوال کیوں” جواب ملا ” ہم صرف اپنا کام کر رہے” اور پاسپورٹ میرے ہاتھ میں واپس دے دیا، اسکا موڈ شاید اچھا تھا ورنہ اسکی صوابدید تھی وہ یہ پاسپورٹ کہیں “اور” بھی دے سکتا تھا”۔

اب جناب ہم تھے اور ویٹنگ لاونج، جیب میں پاکستانی 2 ہزار کے قریب رقم تھی، ایک کیفٹریا پر گیا ایک چائے اور زیرہ پلس لیا بل بنا 85 روپے، دماغ بھک سے اڑ گیا خیر پیسے دئیے اور سکون سے کرسی پر بیٹھ کر 85 روپے کو روتے ہوئے احتیاط سے کھانے لگا کہ بسکٹ کا بھورا بھی نہ گرئے 85 روپے خرچے تھے۔
پیچھے ایک کپل بیٹھا تھا وہ خاتون اپنے شوہر(گمان یہی ہے) کہہ رہی تھی زیادہ سگریٹ لے لیتے وہاں تو مہنگے ہیں بھائی کے آنے تک آپ کا گزارہ چل جاتا۔ اب ایک نئی مصیبت کہ وہاں کتنے کا ہے سگریٹ۔ اب پوچھتے ہوئے شرم آئے کہ یہ کیا سوچیں گے “چول جیا پہلی واری چلا اے” خیر اور کوئی آپشن نہیں تھی میں نے پوچھ ہی لیا کہ کتنے کا پیکٹ ہے بینسن کا بولے 8 درہم کا۔ اب میں نے پڑی لکڑی لے لی فضول میں کہ “اچھا اب 8 ہو گیا” اس نے طنزیہ نظروں سے دیکھا اور بولا” پائی جام بوہت دیر دا 8 دا ای اے”۔ بستی جئی نہیں ہو گئی۔۔۔۔

خیر فورا حساب لگایا تو اپنے ڈیلے باہر آ گئے کہ سگریٹ پئیا گا کہ روٹی کھانوا گا۔۔۔۔ ذرا دیر سوچا کہ فی الحال یہاں سے 10 پیکٹ لے لیتا وہاں کی وہاں دیکھی جائے گئی۔ واپس گیا کیفٹریا پر اس کو ہزار کا نوٹ دے کر کہا ایک ڈنڈا بینسن کا دے دو اس نے کہا 100 روپے اور دے دیں۔ لو جی باہر 720 کا ڈنڈا تھا یہاں 1100 کا۔ مرتا کیا نہ کرتا خریدا اور اسی پر خوش ہو گیا کہ چلو وہاں سے تو سستا مل گیا۔

خیر فلائیٹ کے لئے لائن میں لگا، اندازہ ہے کہ جہاز شاید 60 پرسنٹ بھرا تھا، جن اپنی سیٹ پر پہنچا جو کہ ونڈو سیٹ تھی وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے، عرض کی ” جناب یہ سیٹ میری ہے” وہ بولے” یار اتنی خالی ہے کسی پر بھی بیٹھ جاو” میں نے گھور کر دیکھا اور کہا ” یقینا اپنے مشورے پر خود عمل کرنا ایک نیا تجربہ ہو گا آپ کے لئے، تو یہ نیک کام آپ خود کیوں نہیں کر لیتے” انہوں نے حیرانگی سے دیکھا اور سیٹ سے باہر آ گئے میرے اپنی سیٹ پر بیٹھے کے بعد وہ Aisle پر بیٹھ گئے۔

جہاز ٹیک آف ہوا، سیٹ بیلٹس کھولی گئیں، ٹینشن سے سگریٹ کی شدید طلب لیکن نو سموکنگ کا موا سائن منہ چڑھا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اییر ہوسٹس پانی دے کر گئی(مانگنے پر) تو وہ صاحب گویا ہوئے
“کہاں جا رہے ہیں”
یقین کریں اس پریشانی میں مجھے یہ سوال دنیا کا سب سے زیادہ بیوقوفانہ سوال لگا، میں نے دنیا جہاں کا طنز سمیٹتے ہوئے کہا
” اگلے سٹاپ پر اتر جاونگا” ۔۔
لیکن وہ میرے طنز کو نظر انداز کرتے استفہامیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے تو میں مصنوعی چاشنی گھولتے کہا
“اب یہ جہاز دبئی جا رہا ہے تو میں بھی وہاں ہی جاونگا نا”
لیکن انکو چین نہیں آیا وہ پھر بولے
” دبئی میں کہا جانا ہے”
اس وقت سب سے زیادہ مشکل سوال لگا دنیا کا جسکا جواب میرے پاس نہیں تھا۔ دبئی کا بس نام سنا تھا یا فلموں میں دیکھا تھا، لیکن ہے کیا کچھ خبر نہیں تھی۔ سو سیدھا جواب دیا کہ
“نہیں معلوم”
انہوں نے پوچھا
“کوئی لینے آنے والا ہے؟”
میں بولا
“نہیں”
وہ بولے
“کوئی دوست رشتے دار جسکے پاس جا رہے یا کوئی ایجنٹ؟”
میں بولا
“کوئی بھی نہیں”
انہوں نے پوچھا
“کرنے کیا جا رہے”
میں بولا
“نوکری ڈھونڈنے”
وہ بولے “رہنا کہاں ہے؟”
میں بولا” معلوم نہیں”
اب دنیا جہاں کی حیرت انکے لہجے میں صاف نظر آئی
“پاگل ہو؟”
جواب دیا
“کیوں”
کہنے لگے
“ایسے منہ اٹھا کر آ گئے ہو، ایئرپورٹ سے نکل کر جاو گے کہاں؟”
میں نے جواب دیا
“اللہ مالک ہے”
سن شاید انہوں نے یقینا مجھے پاگل ڈیکلیئر کر دیا تھا کہ بڑبڑائے “ہاں صرف تیرا ای مالک اے اللہ”

تھوڑی دیر چپ رہے اور پھر بولے “میرے ساتھ چلنا میں انتظام کر دونگا پریشان نہیں ہو”
اب میں کچھ اور سمجھنے لگا میں مے جیب سے پیسے نکالے اور انکے سامنے کر دییے ” یہ یہاں ہی لے لیں ایویں باہر نکل کر کیوں چھیننے”
انہوں نے منہ دوسری طرف کر لیا اور چند لمحوں بعد سیٹ سے اٹھ کر چلے گئے۔

انکے جانے کے بعد سر ٹکا کر آنکھیں بند کیں تو سو گیا، لینڈنگ سے پہلے ائیر ہوسٹس نے اٹھایا کہ اٹھ جائیں سیٹ بیلٹ لگا لیں۔

دبئی ائیرپوٹ پر لینڈ ہوئے اب آگے کہاں جانا میری جانے بلا، پوچھتے پچھاتے آئی سکین کی لائن میں لگا جو شیطان کی آنت جیسی لمبی تھی 2 گھنٹے بعد آئی سکین کروا کر رات 11 بجکر 45 منٹ پر امیگریشن کاونٹر پر کھڑا تھا۔ اب یہاں قسمت نے پھر ساتھ دیا مجھ سے شو منی بارے پوچھا ہی نہیں گیا حالانکہ مجھ سے پہلے والے سے صاف آواز آئی کے پوچھا گیا تھا۔
اینٹری سٹیمپ لگوا کر بیگج کلیم میں گیا، بیگ کے کر باہر نکل آیا، باہر آتے ہی ڈبی نکال کر سگریٹ سلگایا اور ایک لمبا سا کش لیا، ابھی کش پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ کسی نے پیچھے کندھے پر تھپھتپایا ۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی جہاز والے بھائی۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ یہ بندہ ڈھائی گھنٹے سے میرا انتظار کر رہا ہے۔ وہ بولے کہ “کیا خیال ہے چلنا ہے؟ بہت بھوک لگ رہی ہے”
اب میں تذبذب میں کہ کیا کروں کیا نہ کروں، انہوں نے کہا ” تمہارے لئے کھڑا ہوں بیوقوف انسان، رل جاوگے ورنہ”
اللہ کا نام لے کر چل پڑا، انکی گاڑی کے پاس پہنچے
تو ایک صاحب گاڑی میں بیٹھے تھے جنکا نام عمیر تھا، بڑے تپاک سے ملے اور بولے” بڑے دلیر ہو بیوقوفی کی حد تک یا انتہائئ چوتئیے ہو”
اب میں نے جہاز والے بھائی جنکا نام اکبر تھا ملامتی نظروں سے فٹے منہ والا پیغام دیا کہ کمپنی کی مشہوری شروع کر دی ہے۔ خیر ٹرمینل سے گاڑی نکلی اور سیدھا قصیص کراچی دربار ریسٹورنٹ جا کر رکی۔

کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ہوئے، دو گلی چھوڑ کر اکبر صاحب کا گھر تھا، عمیر صاحب نے ہم کو گھر ڈراپ کیا اور بیگ بھی انہوں نے نکال کر لفٹ میں رکھا کہ آپ آج ہمارے مہمان ہو(میں سمجھا کہ شاید اج رات کا ہی مہمان ہوں، دماغ فل بٹا فل نیگیٹو تھا)۔ عمیر صاحب کے جانے کے بعد اکبر بھائی نے کہا اگر نہا کر فریش ہونا پے تو ہو لو میں چائے بناتا ہوں۔ دل میں آخری غسل کا خیال لے کر جیسے شاور کھولا۔۔۔ پ د س نصیبو کا گانا موڈیفائیڈ ہو کر نکلا ” سڑ گئی نی سڑ گئی میں” اینا گرم پانی۔۔۔۔ میں نے آواز لگائی “اکبر بھائی سادہ پانی والی سائیڈ کونسی ہے یہاں گیزر کا پانی آ رہا دونوں طرف” جواب میں آنے والا قہقہہ ابھی تک یاد ہے۔ جواب آیا” یہ دبئی پے لاہور نہیں”
خیر باہر آیا چائے کا کپ سامنے تھا چائے اور سیگریٹ پیتے انہوں نے بس ایک بات کی ” یہاں تمہارا کوئی اپنا ہے تو وہ تم خود ہو، اس بات کو جتنا جلدی سمجھ لو گے تمہارے لئے آگے کا راستہ اتنا آسان ہو گا” ۔

جہاں تک مجھے یاد ہے میں ان سے بات کرتے سو گیا، صبح جب آنکھ کھلی تو میرے نیچے میٹرس بچھا تھا اور اوپر کمبل دیا تھا۔ بستر سے نکلا تو گھر میں کوئی بھی نہیں، میرے موبائل کے نیچے ایک کاغذ پڑا تھا جد پر لکھا تھا، میں جا رہا کام پر گھر کی ایک چابی دروازے کے ساتھ لگی ہے، فریج میں ضرورت کا سامان ہے، گھر کا ایڈریس بلڈنگ نمبر فلیٹ نمبر وغیرہ، باہر نکلو تو راستہ یاد رکھنا، شام کو ملاقات ہو گئی۔

خیر ناشتہ وغیرہ کیا، اب سارا دن یہ سوچتے گزرا کہ آگے کرنا کیا ہے، کیسے کرنا ہے۔ باہر نکلا جا کر سم لی، گروسری گیا وہاں اخبار دیکھا وہ لیا اور گھر واپس آگیا۔ اور لگ گیا کام پر ۔۔۔نوکری ڈھونڈنے۔۔۔ مختلف چیزیں مارک کی اور انتظار اکبر بھائی کا کہ وہ آئیں تو آگے پوچھوں کہ انٹرنیٹ وغیرہ کا۔
اب جس کا میں انتظار کر رہا تھا وہ 8 9 گھنٹے پہلے تک میرے لئے ایک لٹیرا تھا جو مجھے لوٹنا چاہتا تھا کہ یہ نیا ہے یہاں لیکن وہ بندہ صرف اللہ کی رضا کے لئے کل رات راستے سے میرے پیچھے لگا تھا کہ کہیں یہ رل نہ جائے۔

شام کو اکبر بھائی کے آنے کے بعد چائے وغیرہ پی گئی پھر کھانے کے لئے باہر گئےاور کھانے کے بعد وہاں ہی چائے کا کپ لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیے۔
انہوں نے کہا کہ” تم یہاں ایک ہفتہ اور رہ سکتے ہوں پھر میری فیملی آ جائے گئی میں تمہاری رہائش کا انتظام کر دونگا پریشان نہیں ہونا، رہائش کا انتظام ایسے علاقے میں ہے کہ تم کو سب کچھ پاس ملے گا، بس ہوٹل انٹرنیٹ وغیرہ سب کچھ”۔ میں نے کہا” ایک ہفتہ کیوں اگر ممکن ہے ابھی چلتے تاکہ میرا وقت بچ جائے کیونکہ میرے پاس بس 30 دن ہیں”، وہ بولے “لیکن یہ یاد رکھنا وہ جگہ میرے گھر جیسی نہیں اور ہو سکتا ہے کہ تم کو لگے کہ میں کہاں پھینک کر جا رہا ہوں لیکن یہ یاد رکھو وہاں اس وقت نہ رہنا تمہارے پاس ایسی کوئی آپشن نہیں لیکن وہاں سے کتنی جلدی نکلنا وہ صرف تمہارے ہاتھ میں ہے”۔

انہوں نے اپنے بھائی کو کال کی وہ آیا لینے اب گاڑی قصیص سے نکل کر ڈیرہ کی طرف جا رہی اور میں بس باہر کا نظارہ کر رہا ” اچھا دس از دبئی” گاڑی پارک ہوئی، سامان باہر نکالا گیا اور ہم ایک ولا میں داخل ہوئے(یہ سب لکھتے ایک فلم سی چل رہی دماغ میں) ولا میں اتنے ڈھیر سارے لوگ جیسے کوئی میلا لگا تھا، وہاں سے کمرے میں گئے، کمرے میں جاتے ہی آنکھیں ساکت ہو گئیں۔ 10×10 کا۔کمرہ جس کے تین جانب ٹرپل بیڈ لگے تھے۔ یا اللہ اے کتھے آ گیا میں۔ اس وقت کمرے میں موجود 5 لوگ اٹھ کر اپنے بستروں سے نیچے اتر کر ملے(یہ بعد میں پتا چلا کمپنی کی مشہوری پہلے سے پہنچ چکی تھی یہاں)۔

“تھک گیا لکھ کر، باقی رات کو ان شاء اللہ”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *