طارق عزیز دلوں میں زندہ رہیں گے۔۔محمد منیب خان

زندگی کو لمبی تمہید چاہیے۔ نو ماہ کوکھ میں پلتی ہے۔ پھر بچپن میں دمکتی ہے، جوانی میں مہکتی ہے، ادھیڑ عمر میں دہکتی ہے اوربڑھاپے میں سلگتی ہے۔ لیکن موت کے لیے بس ایک تمہید کافی ہے اور وہ تمہید ہے زندگی۔ منٹو نے لکھا تھا کہزندگی موت کا دیباچہ ہے۔ زندگی کے وجود میں آنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن جس لمحے زندگی وجود میں آ جاتی ہے اسی لمحے موت کا آنا لکھ دیاجاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان انسانوں کو لمبی زندگی کے دعا دیتے ہیں۔ ایسی دعا جو اگر قبول بھی ہو جائے تو ایک اذیت بن جائے۔

ان وبا کے ایام میں لگتا ہے  لمبی عمر کے لیے دی جانے والی بہت سی دعائیں بے اثر ہو گئی ہیں۔ جیسے تسبیح ٹوٹتی ہے تو لاکھ کوشش کے باوجود اس کے گرتے دانوں کو تھاما نہیں جا سکتا۔ جیسے آندھی یا طوفان میں ریت کو بکھرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایسے ہی ان وبا کے ایام میں ایک کے بعد ایک خبر آ رہی ہے اور ہم سب گنگ زبانوں اور دنگ آنکھوں سے  ہم تو رب کے ہیں اور ہم اسی رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیںکا وظیفہ کرتے جا رہے ہیں۔ ہم کسی جاتے ہوئے کو نہیں روک پا رہے۔

یوں تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات رسمی کہی جاتی ہے لیکن حقیقت میں طارق عزیز ہی وہ شخصیت تھے جو اپنی ذات میں انجمن تھے۔ ایک ایسی  انجمن جس نے کم و  بیش چار دہائیوں تک  سجائے رکھی۔ پاکستان کی کم از کم چار نسلیں براہ راست ان کی شخصیت سے متاثر ہوئیں۔ ان چار نسلوں نے ان کی ذات کی وساطت سے اتنا کچھ سیکھا جتنا شاید درجنوں کتابوں کے مطالعہ سےبھی نہ سیکھا جا سکتا۔ یوں تو میرا علم اور مشاہدہ بہت محدود ہے لیکن میں نے طارق عزیز کے علاوہ   انور مسعود صاحب کے سوا کسی اور شخصیت کو گفتگو میں اشعار کا اتنا برملا استعمال کرتے نہیں دیکھا۔ پھر طارق عزیز صرف شعر نہیں پڑھتے بلکہ ہر شعرمیں ان لفظوں کے جذبات کی عکاسی کرتا انکا  لہجہ بھی جھلکتا تھا۔ یوں تو کلامِ شاعر بزبان شاعر کسی بھی کلام کو سننے اور اسکی کیفیت سے محظوظ ہونے کی معراج ہوتا ہے لیکن بہت سے کلام محض طارق عزیز کی زبان سے ادا ہونے کی وجہ سے نا صرف اپنی معراج کو پہنچے بلکہ زبان زد عام ہوئے۔

طارق عزیز کی علم و ادب سے محبت اپنی جگہ مسلّم، لیکن اگر کوئی سیکھنے والا علم و ادب سے شغف نہ بھی رکھتا ہو تو وہ ان کی شخصیت سے زندہ دلی کا سبق سیکھ سکتا ہے۔ ان کے چند ماہ اور چند سال پرانے انٹرویو دیکھ کر کون اندازہ کر سکتا ہے کہ طارق عزیز زندگی کی آٹھ دہائیوں کے نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں۔ ان کی آنکھوں کی چمک اور لہجے کی دھمک اخیر تک برقرار تھی۔ ایسےجوان اور تروتازہ لہجے والا انسان جس بھی عمر میں رخصت ہو اس کی موت وقت سے پہلے ہی محسوس ہوتی ہے۔

واصف باصفا رح کا قول ہے۔انسان زندہ کب ہوتا ہے جب دل میں اترتا ہے اور انسان مرتا کب ہے جب دل سے اترتا ہے۔ طارق عزیز کافن اور شخصیت لاکھوں لوگوں کے دلوں میں اتر چکی ہے لہذا طارق عزیز مر کر بھی زندہ ہیں۔ جبکہ انکی وفات کے بعد ایک ایسےگروہ نے بھی سر اٹھایا جو ان کی سیاست اور سیاسی تنازعات کا ذکر کر کے شاید ان کو لوگوں کے دلوں سے اتارنا چاہ رہا تھا۔طارق عزیز طبعی موت مرے لیکن وہ چند مٹھی بھر لوگ ان کی شخصیت کو قتل کرنا چاہ رہے تھے۔ صد شکر کہ طارق عزیز قتل ہونےسے بچ گئے۔ لوگوں نے طارق عزیز کی سیاسی وابستگی اور تنازعات کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔ آج خوبصورت لب و لہجے کا شخص منوں مٹی تلے سو رہا ہے۔ لیکن اس کی شخصیت کے علمی اور ادبی اثرات پاکستان کی کئی نسلوں پہ دہائیوں تک قائم رہیں گے۔ میں شاید تحریر کو اس جملے پہ ختم کر دیتا لیکن واجد امیر کا ایک خوبصورت شعر یاد آگیا

خاک کو خاک بناتی ہے چلو مان لیا

موت لیکن لب و رخسار کہاں پھینکتی ہے؟

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *