ابو جہل کا تربوز اور چِبَّھڑ۔۔معین نظامی

برسوں پہلے جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ تربوز کو فارسی میں بھی پنجابی کی طرح ہندوانہ ہی کہتے ہیں تو اس دھاری دار سبز لباس والے سرخ اور رسیلے پھل کے ساتھ ہماری دِلی اپنائیت یک دم کئی گنا بڑھ گئی اور ہم اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وہی سلوک روا رکھنے لگے ،جو اپنوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ برتاؤ تو خیر ہم خربوزے سے بھی وہی کرتے ہیں لیکن قدرے کم اپنائیت کے ساتھ۔

ہندوانہ کے فارسی تلفظ اور اس کی لکھنوی طرزِ ادا میں اتنی زیادہ نفاست و لطافت ہے کہ اسے سن کر ذہن میں تربوز کی نہیں، کشمش یا چلغوزہ نما کسی پھل کی تصویر بننے لگتی ہے جسے ہاتھ لگانے کی نیت سے بھی ٹھیس لگ سکتی ہے۔ اس کے رس بھرے پنجابی تلفظ میں بہت تنوّع اور حقیقی پن ہے۔ بالکل تربوز، مکمل تربوز اور بہت زیادہ تربوز کی تصویر بنتی ہے۔ سنتے ہی منہ  میں پانی بھر آتا ہے۔

تربوز کے ساتھ اپنے گہرے عقیدت مندانہ تعلقِ خاطر کو سندِ جواز فراہم کرنے اور اسے مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ہم نے قدیم و جدید طبّی مطالعات سے بھی خوب مدد لی اور تربوز کے تا حال جملہ معلومہ فوائد ازبر کر لیے لیکن تربوز بہ ہر حال اپنے بارے میں ہونے والے تمام مطالعات و تحقیقات سے کہیں زیادہ لذیذ ہے۔

فارسی میں ایک ہندوانۂ ابو جہل بھی پایا جاتا ہے یعنی ابو جہل کا تربوز۔ کمال ہے۔ یہ تو بہت دل چسپ چیز ہو گی۔ ابو جہل کوئی معمولی نسل کا تربوز تو نہیں کھاتا ہو گا۔ اس جستجو کے نتائج بہت شدید تلخ نکلے۔ کڑواہٹ اور ذائقے کی تندی و تلخی کے استعارے حَنظَل کو ہندوانۂ ابو جہل کہتے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جو پنجابی میں تُمّا اور کَوڑ تُمّا کہلاتی ہے۔ ایرانیوں نے اس کا یہ نام رکھ کر دل کی بھڑاس خوب نکالی۔

مزید دل چسپ بات یہ ہے کہ اسی کو خربُزۂ ابو جہل بھی کہتے ہیں۔ ابو جہل کے علاوہ دنیا و آخرت میں شاید ہی کسی کو یہ سہولت حاصل ہو کہ ایک ہی پھل میں اسے تربوز کا ذائقہ بھی ملے اور خربوزے کا بھی۔

کڑواہٹ کی دو اور علامتیں بھی اہم ہیں، نیم اور چرائتا۔ لیکن سب سے نمایاں حنظل ہی ہے۔ فارسی میں کبست، کبستہ اور کوست کے علاوہ تلخک بھی۔ یہ آخری نام بہت خوب صورت ہے۔ ہندی میں غالباً اسے اندرائن کہا جاتا ہے۔ معلوم نہیں اس کا اردو نام کیا ہے۔ پرانی طب میں اس کے کئی فائدے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ معدے اور خون کی اصلاح، بعض جِلدی امراض اور کئی دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے اس کا سفوف، شربت اور مُربّہ بہت مجرّب بتایا جاتا تھا۔

امرا کا طبقہ ایسا مربّا بھی بنوایا کرتا تھا جس میں تلخی نام کو بھی نہیں ہوتی تھی جیسے بہی، سیب یا گاجر کا مربا ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے کئی ماہر خواتین کریلوں کی کڑواہٹ نکال کر باہر رکھ دیا کرتی ہیں۔ حنظلی دوائیں عموماً برسات کے موسم میں استعمال کی جاتی تھیں۔ آٹھ دس برس کی عمر میں ہمیں بھی دو ایک بار اس کے سفوف اور مربّے سے واسطہ پڑا تھا جس نے واقعی کرشماتی اثرات مرتّب کیے تھے۔ بعض ستم ظریف احباب کے خیال میں ہمارے مزاج اور لہجے کا دھیما پن طبعی نہیں، انہی چند حنظلی دواؤں کی دین ہے۔

تُمّا عربی، فارسی اور پنجابی کے بہت سے شعروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ یقیناً دوسری زبانوں میں بھی اس کے شواہد ملتے ہوں گے۔ فارسی کے عظیم شاعر حکیم ناصر خسرو نے ایک دائمی سچ یوں بیان کیا ہے کہ سرکاری کارندے رشوت کے بغیر زہر اور حنظل بنے ہوئے ہوتے ہیں، رشوت پیش کر دی جائے تو فوراً میٹھی گِری اور شَکّر بن جاتے ہیں:

بی رشوہ تلخ و بی مزہ چون زہر و حنظل اند
با رشوہ خوب و شیرین چون مغز و شکّر اند

سعدی شیرازی نے بہت کمال کی بات کی ہے۔ میٹھے اخلاق و آداب والے کسی شخص کے ہاتھ سے تُمّا کھا لینا، کسی بد اخلاق اور بد تمیز شخص کے ہاتھوں مٹھائی کھانے سے بہتر ہے:

اگر حنظل خوری از دستِ خوش خوی
بِہ از شیرینی از دستِ تُرُش روی

اسی گھرانے کا ایک مُنّا سا پھل پنجابی میں چِبَّھڑ کہلاتا ہے۔ اردو میں اسے نجانے کیا کہتے ہیں۔ اس ننّھے تربوز نما خود رو پھل کا ذائقہ کھیرے اور کَکڑی سے ملتا جلتا ہے۔ اس کی مختصر سی بیل بہت خوب صورت ہوتی ہے اور نازک نازک پیلے پھول بھی بہت من موہنے ہوتے ہیں۔ گاؤں میں یہ اس موسم میں وافر ملتے تھے اور بچپن میں ہم لوگ بہت اشتیاق سے کھایا کرتے تھے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *