مرِزا مدثر نواز کی تحاریر
مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

عام ہو نا ایک جرم۔۔مرزا مدثر نواز

اسے سعودی عرب میں پر کشش تنخواہ کے عوض ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ ویزہ کے لیے سعودی کلچرل مشن سے تعلیمی اسناد کی تصدیق لازمی ہے اور ادارے کے مطابق بیچلر ڈگری کی تصدیق کے لیے متعلقہ یونیورسٹی کے شعبہ←  مزید پڑھیے

سنہرے لوگ۔مرزا مدثر نواز

آج کا دور بلاشبہ معاشی سبقت کا دور ہے‘ انسان نے سرمایہ کو اپنی منزل بنا لیا ہے اور شب و روز اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے کی فکر میں ہے ‘سرمایہ دارانہ نظام کے طفیل اس کو صرف اپنی←  مزید پڑھیے

عشق مصطفیٰﷺٗ قولی یا عملی؟۔۔۔ مرزا مدثر نواز

مجنوں لیلیٰ کے عشق میں بے چین تھا۔ یہ بے چینی بڑھی تو اس نے اونٹنی پر سوار ہو کر اسے لیلیٰ کی بستی کی طرف ہانکنا شروع کر دیا۔ وہ لیلیٰ کے تصور میں غرق تھا۔ اونٹنی کی مہار←  مزید پڑھیے

پشیمانی سے بچاؤ۔۔۔ مرزا مدثر نواز

وہ گریجویٹ اور سمجھدار شخص ہے جس نے انتہائی مشکل حالات میں ملازمت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا۔ انٹر کے بعد اس نے ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازمت اختیار کر کے عملی زندگی میں قدم←  مزید پڑھیے

عورت غلام نہیں۔مرزا مدثر نواز

معاشرے میں یہ عجیب و جاہلانہ سوچ سرایت کر چکی ہے کہ عورت صرف اور صرف مرد کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے اور اس سے ہمیشہ غلاموں جیسے رد عمل کی توقع کی جاتی ہے۔ آغاز دنیا←  مزید پڑھیے

لوگ کیا کہیں گے۔مرزا مدثر نواز

آپ شادی کی تقریب پر اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرنے کا ارادہ کیوں رکھتے ہیں‘ اتنے زیور کی کیا ضرورت ہے‘ کھانوں کی زیادہ اقسام بھی اسراف ہے‘ مہندی اور اس جیسی دوسری رسومات کی ادائیگی ضروری تو نہیں‘←  مزید پڑھیے

ووٹ ۔مرزا مدثر نواز

محمد سہیل کھیڑا اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے جس نے تعلیم حاصل کرنے کا شوق پورا کرنے کے لیے کافی جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔ تعلقات بنانے اور محفل سجانے کا ماہر‘ زیادتی کلام میں خوشحال‘ انتہائی رقیق القلب اور←  مزید پڑھیے

سب سے بڑا سیکولر دین.آخری حصہ

اسلام کے قانون کی بنیاد اللہ کی رضا جوئی اور اطاعت کے لیے زمین سے فتنہ و فساد کا دفع‘ اس کے بندوں کے درمیان عدل و انصاف اور امن و اطمینان کا قیام اور معاملات میں لوگوں کے درمیان←  مزید پڑھیے

سب سے بڑا سیکولر دین۔حصہ اول

اعلیٰ تعلیم یافتہ میں آزاد خیال طبقہ اس وقت سیکولر نظام حکومت کا سب سے بڑا داعی ہے جن کے افکار و خیالات کی اشاعت کا بڑا ذریعہ موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا ہے۔ مغربی نظام تعلیم سے مستفید اور←  مزید پڑھیے

عید,ایثاراورہم

شہروں میں مقدس ترین شہر ہے جس میں گھر وہ ہے جو اس روئے زمین پر معبود برحق کی عبادت کے لیے سب سے پہلے بنایا گیا جہاں اپنے آپ کو مومن کہلوانے والے دور دراز کا سفر کر کے←  مزید پڑھیے

خوش کلامی

کسی زمانے میں ایک شہد فروش تھا وہ شہد بھی بیچتاتھا اور اپنی شیریں کلامی کے شہد سے بھی لوگوں کا منظور نظر تھا۔ لوگ اس کے گرد شہد کی مکھیوں کی مانند جمع رہتے تھے اس کے شہد کے←  مزید پڑھیے

حقِ حکمرانی

ایک اونٹ کسی جگہ کھڑا تھا اس وقت اس کی مہار زمین پر گری ہوئی تھی۔ ایک چوہے کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے اونٹ کی مہار تھام لی‘ اب چوہا آگے تھا اور اونٹ پیچھے پیچھے‘ چوہا←  مزید پڑھیے

حقیقت یا افسانہ

حجاج بن یوسف نے اپنے چچا زاد بھائی اور داماد عماد الدین محمد بن قاسم کو جو سترہ برس کا نو عمر نوجوان تھا چھ ہزارجنگ آزما شامی امیروں کے ہمراہ راجہ داہر کی سرکوبی کے لیے ترانوے ہجری میں←  مزید پڑھیے

ملوکیّت یا جمہوریت

کہا جاتاہے کہ ایک کسان کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔ قریب ہی کھڑا ایک آدمی اسے دیکھ رہا تھا جس نے ہل چلانے والے کی توجہ دلائی کہ فلاں جگہ رہ گئی ہے جہاں تم نے ہل نہیں چلایا۔←  مزید پڑھیے

خود بینی

چاچا رفیق اقامت گاہ کا نگران تھا‘ وہ ایک سابق فوجی ہے جو چوہتر برس کی عمر میں بھی خاصا صحت مند ہے ‘ سستی و کاہلی تو اس کے پاس سے بھی نہیں گزری۔ اس نے بیالیس سال بطور←  مزید پڑھیے

بڑی لکیر

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا ,طلباء کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈکی طرف‘ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھاکیونکہ یہ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے←  مزید پڑھیے

جینے کے لیے جینا

’’جینے کے لیے جینا مجھے گوارہ نہیں‘‘ یہ الفاظ مو ہن داس کرم چند گاندھی کے ہیں جس نے اپنی ساری زندگی خدمت خلق کے لیے وقف کر دی تھی‘ مشکل ترین حالات کا سامنا کیا‘ قید و بند کی←  مزید پڑھیے

غمخواری یا اداکاری

ایک کتا قریب المرگ تھا اور اس کا مالک اس کے قریب بیٹھا رو رہا تھا۔ وہ اس قدر رویا کہ اس کی ہچکی بندھ گئی۔ وہ روتا بھی جا رہا تھا اور ساتھ ہی آہ و فغاں بھی کر←  مزید پڑھیے

انصاف

ایک طوطے طوطی کا گزر ویرانے سے ہوا‘ وہ دم لینے کے لیے ایک ٹنڈ منڈ درخت کی شاخ پر بیٹھ گئے۔ طوطے نے طوطی سے کہا اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا←  مزید پڑھیے

عدالت یا ہجوم

عدالت یا ہجوم مرِزا مدثر نواز سقراط کو شاید دیوتاؤں کی توہین یا ان کے انکار جیسے الزامات کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اس پر مقدمہ چلا ‘ سزائے موت سنائی گئی اور اسے زہر کا پیالہ پینا←  مزید پڑھیے