حقیقت یا افسانہ

حجاج بن یوسف نے اپنے چچا زاد بھائی اور داماد عماد الدین محمد بن قاسم کو جو سترہ برس کا نو عمر نوجوان تھا چھ ہزارجنگ آزما شامی امیروں کے ہمراہ راجہ داہر کی سرکوبی کے لیے ترانوے ہجری میں شیراز کے راستہ سے سندھ روانہ کیا۔ راجہ داہر نے لومک کے باشندوں کے خلاف کارروائی کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تھا جنہوں نے نہ صرف اسلامی تخت گاہ جانے والے تحائف و ہدیوں کو لوٹابلکہ چند مسلمان عورتوں کو بھی جو جزیرہ سراندیب سے حج کے لیے روانہ ہوئی تھیں گرفتار کر لیا۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر اور اس کی رانی کو شکست دی ‘ کئی راجپوت تہ تیغ کیے اور ہزاروں کو قید کیا۔ قیدیوں میں راجہ داہر کی دو لڑکیاں بھی تھیں جن کو محمد بن قاسم نے خلیفہ کے لیے حجاج کے پاس روانہ کیا۔ حجاج نے بادشاہ سندھ کی بیٹیوں کو دمشق روانہ کر دیا اور یہ لڑکیاں خلیفہ کے حرم میں رہنے لگیں۔

ایک مدت کے بعد چورانوے ہجری میں خلیفہ نے ان کو یاد کیا ولید نے ان لڑکیوں کا نام دریافت کیا بڑی بہن نے کہا کہ میرا نام سریا دیوی ہے جبکہ دوسری نے جواب دیا کہ مجھے پرمل دیوی کہتے ہیں۔ ولید بڑی پر والہ و شیفتہ ہو گیا اور اسے اپنے محل میں داخل کرنا چاہا‘ سریا دیوی نے دعا دینے کے بعد خلیفہ سے عرض کیا کہ میں بادشاہ کے محل میں داخل ہو نے کے لائق نہیں ہوں اس لیے کہ یہاں آنے سے پیشتر محمد بن قاسم تین روز میرے پاس شب باش ہو چکا ہے کیا مسلمانوں میں یہی رسم ہے کہ پہلے نوکر دست خیانت دراز کریں اور اس کے بعد اس عورت کو تحفے کے طور پر خلیفہ کے پاس بھیجیں۔ ولید یہ تقریر سن کر بے حد خفا ہوا اور اسی وقت اپنے قلم سے ایک فرمان اس مضمون کا لکھا کہ محمد بن قاسم جہاں بھی ہو اپنے کو گائے کے چمڑے میں بند کر کے تخت گا ہ میں حاضر ہو۔ محمد بن قاسم نے اپنے آپ کو چمڑے میں لپیٹ کر کہا کہ مجھے صندوق میں بند کر کے خلیفہ کے پاس روانہ کر دو۔ محمد بن قاسم دمشق پہنچا اور ولید نے راجہ داہر کی دختر کو حاضر کر کے کہا کہ میں ایسے مجرموں کو اس طرح سزا دیتا ہوں۔

سریا دیوی نے د وبارہ بادشاہ کو دعا دی اور کہا کہ خلیفہ کو چاہیے کہ دوست و دشمن کی گفتگو میزان عقل میں تولے بغیر باور نہ کرے اور اس کے متعلق اس طرح کا فرمان جاری نہ کرے‘ خلیفہ کی اس حرکت سے معلوم ہوا کہ وہ عقل سے بالکل بے بہرہ ہے اور محض تقدیر کے بھروسے پر حکمرانی کرتا ہے ۔ محمد بن قاسم اور میرے درمیان حقیقی بھائی اور بہن کا برتاؤ رہا ہے اس نے کبھی مجھ پر دست درازی نہیں کی چونکہ اس نے میرے باپ اور قرابت داروں کو قتل کر کے ہماری قوم کو تباہ اور ہم کو خود شاہی کے مرتبہ سے غلامی تک پہنچایا تھا اس لیے اس سے انتقام لینے کے لیے اس پر تہمت لگائی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی۔ ولید یہ سن کر شرمندہ ہوا لیکن چونکہ تیر کمان سے نکل چکا تھا اب اس کا کوئی چارہ کار نہ تھا۔(تاریخ فرشتہ)

تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں حاسدین و مخالفین نے ایکدوسرے کو زک پہنچانے کی خاطر دروغ گوئی کا سہارا لیا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ بے عقل صاحب اقتدار لوگوں نے کہی سنی بات کو حقیقت جان کر اپنے مخلص ساتھیوں کی مفارقت کا صدمہ اٹھایا اور بعد میں سچ آشکار ہونے پر شرمندگی کا منہ دیکھنا پڑا۔ عام مشاہدہ ہے کہ بالواسطہ سنی ہوئی بات کو درست مان لیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر کسی کے بارے میں ایک رائے قائم کر لی جاتی ہے جو تعلقات کی خرابی اور تلخی کا سبب بنتی ہے‘ اکثر لڑائی جھگڑوں اور چپقلش کے پیچھے سنی سنائی روایات اور مفروضات کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کے کان میں یہ کہے کہ فلاں نے تمہارے متعلق ایسے کہا ہے تو اس کو من و عن سچ ماننے کی بجائے اس کی تحقیق کریں اور متعلقہ شخص سے خود اس کی وضاحت مانگیں‘ایک دوسرے کی بات کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے بات کریں۔ بالواسطہ کی بجائے بلاواسطہ اصل کی تہہ تک پہنچا جائے تو کافی حد تک تنازعات اور غلط گمانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے اور بد گمانی سے منع فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے،
ترجمہ: اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دوپھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔ (الحجرات،۶)
ترجمہ: اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرواور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ (الحجرات،۱۲)

یہ بھی مناسب ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی ایسا کام کر رہا ہو یا کسی ایسی حالت میں ہو جس سے دوسرے کو بد گمانی کا موقع ہو تو وہ اس بدگمانی کو دور کر دے تا کہ دوسرا فتنہ میں نہ پڑے۔ اس کی مثال خود مخبر صادقﷺ نے پیش فرمائی ہے۔ ایک دفعہ آپﷺ اعتکاف میں بیٹھے تھے‘ رات کو ازواج مطہراتؓ میں سے کوئی آپ سے ملنے آئیں آپ ان کو واپس پہنچانے چلے کہ اتفاقاََ راستہ میں دو انصاری آ پڑے‘ وہ آپ کو کسی عورت کے ساتھ دیکھ کر اپنے آنے کو بے موقع سمجھے اور واپس پھرنے لگے‘ آپ نے فوراََ آواز دی اور فرمایا یہ میری بیوی فلاں ہیں‘ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! اگر مجھے کسی کے ساتھ بد گمانی بھی کرنی ہوتی تو آپ کے ساتھ کرتا؟ ارشاد ہواشیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑ جاتا ہے۔(صحیح مسلم باب انہ یستحب )
(ہیچمداں)

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *