پشیمانی سے بچاؤ۔۔۔ مرزا مدثر نواز

وہ گریجویٹ اور سمجھدار شخص ہے جس نے انتہائی مشکل حالات میں ملازمت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا۔ انٹر کے بعد اس نے ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازمت اختیار کر کے عملی زندگی میں قدم رکھا اور اب تک بیس سے زائد قومی و بین الاقوامی اداروں میں خدمات سر انجام دے چکا ہے جہاں اس کی ملازمت کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ تین سال سے زیادہ نہیں ہے۔ اتنے زیادہ ادارے تبدیل کرنے کی وجہ اس کا غصیلا پن اور برداشت کی کمی ہے‘ ملازمت کو بطور پیشہ اختیار کرنے کے باوجود وہ کسی کی بات سہنے یا برداشت کرنے سے قطعی طور پر قاصر ہے۔ کسی بھی ادارے سے رخصت ہوتے ہوئے اسے استعفیٰ لکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرنا پڑی کیونکہ لڑائی جھگڑا‘ منہ ماری اور گالم گلوچ ہی کافی تھے‘ اگر ادارے کو مالی بوجھ کم کرنے کے لیے ملازمین کو رخصت کرنا پڑا تو فہرست میں سب سے پہلا نام اسی کا تھا۔ تعلیم یافتہ‘ سمجھداراور چالیس کے پیٹے میں ہونے کے باوجود وہ آج تک اپنے اندر کے جاٹ کو دبا نہیں سکا جو ہمیشہ اس کے لیے پشیمانی کا باعث بنتا ہے اور جس نے اس کی ازدواجی زندگی کو بھی ناکامی سے دوچار کیا‘ یہی جاٹ پن اسے پل بھر میں تعلیم یافتہ ‘ عقلمند ‘ سمجھدار و معقول شخص سے جاہل مطلق‘ بدتمیز‘ اجڈ‘ گنوار اور بے وقوف شخص بنا دیتا ہے۔
غیظ و غضب کی بے اعتدالی بھی بہت بڑی برائی ہے‘ بہت سے ظالمانہ اور بیدردانہ کام انسان صرف غیظ و غضب اور غصہ میں کر بیٹھتا ہے اور بعد کو اکثر نادم و پشیمان ہوتا ہے‘ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنے غصہ پر قابو رکھے اور بے سبب غیظ و غضب کا اظہار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر ایک سو چونتیس اور سورہ شوریٰ کی آیت نمبر سینتیس میں اچھے مسلمانوں کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ اپنے غصہ کو دبا لیتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔انسان کا سکون کی حالت میں معاف کر دینا آسان ہے لیکن غصہ کی حالت میں جب وہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے معاف کرنا آسان نہیں ہے‘ ایک مسلمان کی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ اس وقت بھی اپنے کو قابو میں رکھے اور معاف کر دے‘ اسی لیے آپﷺ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے‘ پہلوان وہ ہے جو غصہ میں اپنے کو قابو میں رکھے۔
کئی صحابہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آ کر رسول اللہ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت فرمایئے‘ ارشاد ہوا کہ غصہ نہ کیا کرو‘ اس کو یہ معمولی بات معلوم ہوئی تو اس نے دوبارہ سہ بارہ عرض کی ‘ آپﷺ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو‘ مسند احمد میں ہے کہ ان صاحب کا بیان ہے کہ پھر میں نے دل میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ غصہ میں ساری برائیوں کی جڑ ہے۔مشہور صحابی ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے عصر کی نماز کے بعد صحابہ کو کھڑے ہو کر نصیحتیں فرمائیں جن میں سے ایک یہ تھی‘ فرمایا‘ آدم کے بیٹے کئی طبقوں میں پیدا کئے گئے ہیں‘ ان میں کوئی ایسا ہے جس کو غصہ دیر میں آتا ہے اور سکون جلد ہو جاتا ہے اور کسی کو غصہ بھی جلد آتا ہے اور دور بھی جلد ہو جاتا ہے تو ان دونوں میں ایک بات کی دوسری بات سے اصلاح ہو جاتی ہے اور کوئی ایسا ہے کہ اس کو غصہ جلد آتا ہے اور دفعہ بہت دیر میں ہوتا ہے‘ تو ہاں! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جس کو غصہ دیر میں آئے اور دور جلد ہو جائے اور ان سب سے برا وہ جس کو غصہ جلد آتا ہو اور دور بہت دیر میں ہوتا ہو‘ ہاں! غصہ ابن آدم کے دل کی ایک چنگاری ہے‘ دیکھتے نہیں کہ اس کی آنکھیں لال اور اس کی رگیں پھول جاتی ہیں‘ تو جس کو اپنے غصہ کا احساس ہو اس کو چاہئے کہ وہ زمین سے لگ جائے۔
رحمت کائناتﷺ نے غصہ کے تین علاج بتائے ہیں‘ ایک روحانی اور دو ظاہری۔ روحانی تو وہی ہے جس کا ذکر سورہ اعراف کی آیات نمبر ایک سو ننانوے سے لے کر دو سو میں اور سورہ حم السجدہ کی آیات نمبر چونتیس سے لے کر چھتیس میں ہے یعنی یہ کہ چونکہ یہ غصہ شیطان کا کام ہے اس لیے جب غصہ آئے تو فوراََ دعا کرنی چاہئے کہ یااللہ! میں شیطان سے بھاگ کر تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اللہ اس کی سنے گا اور شیطان کی اس چھیڑ سے اس کو محفوظ کر لے گا‘ ظاہری طور سے بھی دیکھئے کہ جب کسی مسلمان کو دل سے یقین ہو گا کہ غصہ شیطانی حرکت ہے تو اللہ کا نام لینے کے ساتھ وہ اس سے دور ہو جائے گا۔ دو ظاہری علاجوں میں سے ایک تو یہ ہے کہ انسان کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے‘ مقصود اس سے یہ ہے کہ تبدیل ہیئت سے طبییعت بٹ جائے گی اور غصہ کم ہو جائے گا‘ دوسرا علاج یہ ہے کہ وضو کر لے‘ اس سے منشا یہ ہے کہ غصہ کی حالت میں گرمی سے خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے‘ آنکھیں لال ہو جاتی ہیں‘ چہرہ سرخ ہو جاتا ہے تو پانی پڑنے سے مزاج میں ٹھنڈک آئے گی اور غصہ کی گرمی دور ہو جائے گی۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا تھا جو کہ بہت بد مزاج اور غصیلا تھا۔ اس کے باپ نے ایک دن اسے کِیلوں سے بھرا ایک تھیلا دیا اور اسے بتایا کہ ہر دفعہ جب اسے غصہ آئے تو وہ ایک کِیل کو گھر کی باڑ میں ٹھونک دے۔ پہلے دن اس نے سینتیس کِیل ٹھونکے لیکن بتدریج کِیلوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ اس لڑکے نے یہ جان لیا کہ غصے کو قابو کرنا کیل ٹھونکنے سے زیادہ آسان ہے اور بالآخر وہ دن آ گیا جب اس لڑکے کا غصیلا پن ختم ہو گیا۔ اس نے بڑے فخر سے اپنے باپ کو یہ بات بتائی‘ اسکے باپ نے مشورہ دیا کہ اب وہ ہر روز غصے کو قابو کرتے ہوئے ایک کِیل روزانہ نکالے۔ کچھ دن بعد اس لڑکے نے اپنے باپ کو بتایا کہ اس نے تمام کیل نکال لیے ہیں۔ باپ نے اسے دکھایا کہ باڑ کے اندر کئی سوراخ ہو چکے ہیں‘ اب یہ باڑ پہلے جیسی نہیں رہی‘ اسی طرح ہر بار جب تم غصہ کرتے ہو تو یہ تمہاری زندگی میں بد نما داغ کی طرح نشان چھوڑ جاتا ہے‘ اگر تم کسی کو چاقو سے زخمی کرتے ہو اور پھر اسے نکال لیتے ہو اور ساتھ میں یہ بھی کہتے ہو کہ مجھے معاف کر دو تو ایسا کرنے سے اس شخص کا زخم ٹھیک نہیں ہو گا۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *