سب سے بڑا سیکولر دین۔حصہ اول

اعلیٰ تعلیم یافتہ میں آزاد خیال طبقہ اس وقت سیکولر نظام حکومت کا سب سے بڑا داعی ہے جن کے افکار و خیالات کی اشاعت کا بڑا ذریعہ موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا ہے۔ مغربی نظام تعلیم سے مستفید اور صرف مغربی مصنفین کی تصانیف سے متاثر اس طبقہ کے ایسے افکار و خیالات پر تعجب کا اظہار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بیڑے میں شامل ان لوگوں پر افسوس ضرور ہوتا ہے جو اپنے آپ کو مذہبی و اسلامی سکالر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سیکولر طبقہ کے نزدیک کسی ملک کی ترقی کا راز صرف اور صرف سیکولر نظام میں پوشیدہ ہے۔ آبادی و مملکت کی حفاظت و مصلحت کے قوانین کا نام سیاست ہے جبکہ سرکش بنی نوع انسان کو طاقت کے زور سے ان قوانین کے ماننے پر مجبور کرنے والی مقتدر طاقتوں کو حکومت و ریاست کہتے ہیں۔ رب العالمین کی مرضی کے برخلاف اور قانون سازوں کی عقل کے موافق قوانین مرتب کیے جائیں جن میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے پیروکاروں کو کسی بھی قسم کی برتری حاصل نہ ہو تو ایسے اصول کو سیکولرازم کہتے ہیں۔ جیسا کہ انسانی عقل کے مطابق سودی نظام نفع بخش معلوم ہوتا ہے‘ ہم جنس پرستی‘ مردو عورت کے لباس‘ شادی کے بغیر میل جول وغیرہ وغیرہ میں کوئی مضائقہ نہیں جیسے تمام افعال کو قانونی شکل دی جاسکتی ہے۔

کاروبار حکومت میں مذہب کی کوئی گنجائش نہیں‘ یہ اس روئے زمین پر خالق و بزرگ و برتر کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی بغاوت ہے اس سے پہلے بغاوت معبود برحق کے ساتھ معبودان باطلہ کی عبادت تک محدود تھی۔ حاکمیت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں لہٰذا وہ جو چاہیں قوانین بنائیں‘ حکم الہٰی کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ اللہ اور اس کے تصور کو صرف مسجد‘ گرجاگھر‘ گوردوارہ یا کسی بھی معبد تک محدود کر دیا گیا ہے‘ اللہ جی آپ نہ ہمارے گھروں میں آئیں‘ نہ پارلیمنٹ میں‘ نہ بینکوں میں‘ نہ بازاروں میں‘ ہمیں جب ضرورت ہو گی یا ہمارا جی چاہے گا تو ہم آ جائیں گے چاردیواری میں ماتھا ٹیکنے نام لینے۔

مختلف مذاہب کے درمیان برابری کا درس دینے والے نام نہاد دانشور شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام سب سے بڑا سیکولر دین ہے جو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کا درس دیتا ہے نہ کہ صرف اپنے پیروکاروں کا۔ اسلامی نظام سلطنت پر معترض اپنے اور بیگانے یا تو اس کے بارے میں کم علمی کا شکار ہیں یا پھر بے جا مخالف۔ اسلامی سلطنت کا مقصد نہ جزیہ کا حصول نہ خراج کا وصول ہے‘ نہ غنیمت کی فراوانی نہ دولت کی ارزانی‘ نہ تجارت کا فروغ‘ نہ جاہ و منصب کا فریب‘ نہ عیش و عشرت کا دھوکہ اور نہ شان و شوکت کا تماشہ ہے‘ بلکہ سرتاسر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجاآوری اور اس کے لیے جدوجہد اور سعی و محنت کی ذمہ داری کا نام ہے۔

دنیا میں اس وقت دو قسم کی سلطنتیں ہیں‘ ایک وہ جس میں سلطنت کو مذہب سے قطعاََ علیحٰدہ رکھا ہے اور یہ کہاگیا ہے کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو اللہ کا ہے وہ اللہ کو دو‘ اس تعلیم میں قیصر اور اللہ دو متقابل ہستیاں فرض کی گئی ہیں جن میں سے ایک کا حکم دوسرے سے بالکل الگ ہے‘ اسی پر یورپ کی موجودہ سلطنتیں قائم ہوئی ہیں اور اسی کی بنا پر دین و دنیا کی دو علیٰحدہ حدیں بنائی گئی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ سلطنتیں اللہ پرستی‘ دین داری‘ صداقت اور اخلاص نیت کے ہر منظر سے عاری اور خالی ہو کر رہ گئی ہیں۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی       سماتی کہاں اس فقیری میں میری
خصومت تھی سلطانی و راہبی میں       کہ وہ سر بلندی ہے یہ سر بزییری

دوسری قسم کی سلطنت وہ ہے جس میں مذہب کو اس سے الگ نہیں رکھا گیا لیکن مذہب کی لطیف و نازک روح کو سلطنتی قوانین و آئین و ضوابط کی رسیوں میں اس طرح جکڑ دیا گیاکہ مذہب کی لطافت جاتی رہی اور رسوم و قوانین کی خشکی نے اس کی جگہ لے لی‘ یہودیت اور برہمنیت اس کی بہترین مثالیں ہیں۔سیکولر جمہوری نظام میں ملکی و غیر ملکی قوم اور غیر قوم‘ امیر و غریب‘ سرمایہ دار و مزدور‘ تجارت پیشہ و زمیندارطبقہ اور غیر طبقہ‘ پارٹی اور غیر پارٹی کے بیسیوں حجابات اور دیواریں حائل ہیں جن میں سے ہر ایک اس قدر مضبوط ہے کہ اس کا ہٹانا آسان نہیں‘ جب کوئی تجویز معرض بحث میں آتی ہے تو انسانیت کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ملک‘ قوم‘ جماعت‘ طبقہ اور پارٹی کے نقطہ نگاہ سے اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس کو جمہور کے لیے آیہ رحمت ثابت کیا جاتا ہے۔ اس جوش و خروش اور قوت اور دلیل سے جو تجویز آیہ رحمت بن کر منظور ہوتی ہے اس کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ ہر دوسری مجلس وہ بیک دفعہ یا چند منزلوں کے بعد بدل جاتی ہے۔ تغیرات کے باوجود جو قانون بنتا ہے چونکہ وہ صرف ظاہری طاقت پر مبنی ہوتا ہے اس لیے اس کے چلانے میں اس کے چلانے والوں کا دل شریک نہیں ہوتا‘ اس لیے قدم قدم پر اس کے چلانے والوں کے ذاتی مفاد سے ٹکراتا ہے اور بارہا وہ حرص و طمع‘ غرور و تکبر‘ ہواو ہوس‘ رشوت اور انتفاع ناجائز و خوف و ہراس اور مکر و حیلہ کے بیسیوں خلاف انسانیت جذبات سے ٹکرا کر چور چور ہو جاتا ہے اور عدل و انصاف کی میزان ہاتھ سے ٹوٹ جاتی ہے۔
؂جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

اسی سبب سے مصلحت الہٰی کا تقاضا یہ تھا کہ عدل و انصاف کی یہ میزان خود دست الہٰی میں ہو‘ وہ جو کسی فرقہ اور کسی پارٹی میں نہیں‘ کسی کا ایسا نہیں جو دوسرے کا نہیں‘ وہ سب کا ہے اور سب کے لیے ہے اور تمام نفسانی اغراض سے پاک و بے نیاز ہے جس کو اپنے لیے اور اپنی غرض کے لیے کچھ نہیں چاہیے جس کو دنیا اور اس کی فطرت کا ایک ایک راز معلوم ہے اور جو کائنات کے ذرہ ذرہ سے آگاہ اور گوشہ گوشہ سے باخبر ہے‘ ٹھیک اسی طرح جس طرح دنیا میں عرش سے فرش تک اس نے اپنا تکوینی فرمان جس کو قانون طبعی کہتے ہیں جاری کر رکھا ہے اسی طرح زمین پر اپنا تشریعی فرمان جس کو شریعت کہتے ہیں جاری فرمائے جو تمام تر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔(جاری ہے)

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *