خوش کلامی

کسی زمانے میں ایک شہد فروش تھا وہ شہد بھی بیچتاتھا اور اپنی شیریں کلامی کے شہد سے بھی لوگوں کا منظور نظر تھا۔ لوگ اس کے گرد شہد کی مکھیوں کی مانند جمع رہتے تھے اس کے شہد کے خریدار اتنے تھے کہ سارا شہد دیکھتے دیکھتے ہی بک جاتا تھا ۔ ایسے انسانوں سے حسد کرنے والے بھی پیدا ہو جاتے ہیں اس کے حاسد ہر وقت حسد کی آگ میں جلتے رہتے اور اس فکر میں مبتلا رہتے کہ اس شخص کی مقبولیت کیسے کم کی جائئے۔ آخر کار انہیں اس میں کامیابی ہو ہی گئی۔ شہد فروش اب ہر ایک سے تلخ کلامی کرتااس کے گاہکوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ شہد فروخت ہونا تقریباََ ختم ہوگیا تو نوبت فاقوں تک پہنچ گئی کیونکہ اس کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہ تھا۔
ایک دن اس نے بیوی سے کہا‘ مجھے یوں لگتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ہمارا رزق تنگ ہوگیا ہے۔ بیوی نے جواب دیا‘ نہیں یہ بات نہیں‘ اللہ ناراض نہیں ہوا بلکہ تمہارے اخلاق اور رویے میں تبدیلی آ گئی ہے تمہاری باتوں کی مٹھاس میں اب تلخ کلامی کا زہر شامل ہو گیا ہے وہ حسن اخلاق جس سے تم لوگوں کے دل جیت لیا کرتے تھے وہ کہیں گم ہو گیا ہے‘ جب تک تم شیریں کلام رہے لوگ ساری دوکانیں چھوڑ کر تم سے شہد خریدنے آتے تھے۔ اب تمہاری کڑوی باتوں کی وجہ سے کوئی بھی تم سے شہد خریدنے نہیں آتا‘ میں تو یہ کہوں گی کہ وہی جو کبھی تم سے محبت کرتے تھے اب تم سے نفرت کرنے لگے ہیں(حکایت سعدی)۔
خوش کلامی سے مقصد یہ ہے کہ باہم ایک انسان دوسرے انسان سے باتیں کرنے میں ایک دوسرے کے ادب و احترام اور لطف و محبت کا پہلو ملحوظ رکھے تاکہ آپس میں خوشگوار تعلقات پیدا ہوں اور باہم مروت اور محبت بڑھے۔ سلام کرنا‘ شکریہ ادا کرنا‘ حال پوچھنا‘ ایک دوسرے کو نیک دعائیں دینا‘ اچھی باتیں کرنا‘ اچھی باتیں سمجھانا‘ اسی ایک صفت کے مختلف جزئیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تورات میں بنی اسرائیل کو لوگوں کے ساتھ خوش کلامی کا جو حکم دیا تھا ‘ اس کو قرآن پاک میں بھی دہرایا ہے:’’اور کہو لوگوں سے اچھی بات‘‘(بقرہ)۔ اس اچھی بات کہنے میں لوگوں کے فائدہ اور کام کی باتوں کا کہنا‘ نصیحت کرنا‘ اچھی باتوں کی تعلیم اور تلقین کرنا بھی داخل ہے۔ ایک اور آیت میں یہی حکم دوسرے لفظوں میں اس طرح دیا گیا ہے کہ یہ وصف اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی پہچان بن جاتا ہے‘ ارشاد ہے ’’اور اے (پیغمبرﷺ!)میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو‘ بے شک شیطان لڑاتاہے آپس میں ‘ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘ (بنی اسرائیل)۔
آیت کے پچھلے حصہ میں دعویٰ کی دلیل بھی دے دی گئی ہے کہ خوش گوئی اور خوش کلامی آپس میں میل ملاپ پیدا کرتی ہے اور بدگوئی و بد کلامی پھوٹ پیدا کرتی ہے‘ جو شیطان کا کام ہے۔ وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں غصہ ‘ نفرت ‘ حسد اور نفاق کے بیج بوتا ہے۔ اس لیے اللہ کے بندوں کو چاہیے کہ نیک بات بولیں‘ نیک بات کہیں‘ اچھے لہجے میں کہیں اور نرمی سے کہیں کہ آپس میں میل ملاپ اور مہر و محبت پیدا ہو۔
آنخضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان نہ طعنہ دیتا ہے‘ نہ لعنت بھیجتا ہے‘ نہ بد زبانی اور فحش کلامی کرتا ہے(صحیح بخاری باب طیب الکلام)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کی شان اس قسم کی غیر مہذبانہ باتوں سے بہت اونچی ہونی چاہیے۔ اس کی زبان سے حق و صداقت‘ بہبودی و خیر خواہی اور نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی اور بات نہ نکلے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ جو اللہ اور روز جزا پر یقین رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات بولے ورنہ چپ رہے(صحیح مسلم کتاب الایمان)۔ ایک دفعہ آپﷺ نے بار بار دوزخ کا ذکر فرمایا اور روئے انور پر اس کی تکلیفوں کے تصور سے اثر ظاہر ہوا۔ پھر ارشاد فرمایا‘ دوزخ سے بچو اگرچہ چھوہارے کے ایک ٹکڑے کی خیرات سے ہو‘ اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی اچھی بات سے (ترمذی)۔
ایک دفعہ آپﷺ نے جنت کا ذکر فرمایا اور اس کی خوبی و وسعت کو بیان کیا‘ ایک بدوی صحابیؓ مجلس میں حاضر تھے ‘ بیتابانہ بولے کہ یا رسول اللہﷺ یہ جنت کس کو ملے گی؟ فرمایا جس نے خوش کلامی کی‘ بھوکوں کو کھلایا‘ اکثر روزے رکھے اور اس وقت نماز پڑھے جب دنیا سوتی ہے (ترمذی)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ اچھی بات صدقہ ہے‘‘(ؓبخاری کتاب الصلح)یعنی جس طرح صدقہ دے کر کسی غریب کی حاجت روائی اور دلجوئی کی جاتی ہے اسی طرح زبان کی مٹھاس سے اس کے زخموں پر پھاہا رکھا جا سکتا ہے اور سچی سعی و سفارش سے اس کو مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے‘
’’خوش مزاجی ہمیشہ خوبصورتی کی کمی کو پورا کر دیتی ہے لیکن خوبصورتی خوش مزاجی کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی‘‘
’’اگر آپ کی آنکھ خوبصورت ہے تو آپ کو دنیا اچھی لگے گی لیکن اگر آپ کی زبان خوبصورت ہے تو آپ دنیا کو اچھے لگو گے‘‘
’’ اپنی زبان کو نرم گفتگو اور سلام کا عادی بناؤ کہ اس سے تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے‘‘
’’ کامیاب لوگ اپنے ہونٹوں پہ دو چیزیں رکھتے ہیں ‘ خاموشی اور مسکراہٹ‘ مسکراہٹ مسئلے حل کرنے کے لیے اور خاموشی مسئلوں سے دور رہنے کے لیے‘‘
’’ مسکراہٹ دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے‘‘

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *