مدثر ظفر کی تحاریر
مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

سو لفظوں کی کہانی ۔ تصویر

گرد سےاٹاچہرہ ۔ تیکھے دلکش نقوش۔ بڑی بڑی ویران آنکھیں، پتلے ہونٹ۔ ستواں ناک دھنسے ہوئے عارض ۔اس کے وجود پر فاقوں نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔۔ سگنل پر رک کر میں نے مختلف زاویوں سے اس کی کئی تصاویر←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ کاغذ

وہ  گھر میں اپنے مخصوص  کمرےمیں آئی۔ ہرچیز جوں کی توں تھی  جیسے ابھی بھی یہیں رہ رہی ہو۔ اس نے اپنی الماری کامقفل  دراز کھولا۔وہ محبت نامے جن میں آج بھی   خوشبو رچی ہوئی تھی،یونہی  پڑے تھے۔ رومانوی←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ بولیاں

ایک کبوتر  دیکھا جو اسٹیج پر کھڑا کائیں کائیں کر رہا تھا ۔۔۔میں حیران ہوا۔ پھر ایک گائے  دیکھی  جو بھونک رہی تھی۔۔ ایک شیر دیکھا جو بکریوں کے مجمع سے حقوق نسواں کے موضوع پر خطاب کر رہا تھا۔←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ـ پَر

بھائی کریلے کیسے دیئے۔؟ اسی روپے کلو۔۔۔ سبزی والے نے جواب دیا۔۔۔ افف سبزی کو تو پر لگے ہوئے ہیں۔۔۔ میرےمنہ سے نکلا۔۔۔ بھیا دودھ کیسے دیا۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔۔ نوے روپے کلو۔۔۔ گوالے نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ـ بری کتاب

یہ کون سی کتاب ہے ؟ جوجو نے میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔ اوپر لکھا ہوا ہے۔ میں نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔ تمھیں کیسی کتابیں پسند ہیں۔؟ جوجو نے ایک اور سوال داغا۔۔۔ مجھے ہر قسم←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ خوشی

پھل خریدتے ہوئے سوچنے لگا آج خلاف معمول قصہ خوانی بازار میں چہل پہل ہے۔ وہ بہت زیادہ خوش تھا اور چہک رہاتھا۔ آج گیارہ سال بعد اس کے آنگن میں پھول کھلا تھا۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اچانک←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ نو سیکھیا

کیا بات ہے تم آجکل مرجھائے ہوئے نظر آتے ہو ؟ میں نے راشد کا لٹکا ہو امنہ دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ کچھ نہیں یا ر،وہ اپنے شیخ صاحب ہیں ناں پہلے پہل انہیں معلوم ہوا کہ میں ایم اے←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ پاک ٹی ہاؤس

یہ پاک ٹی ہاؤس ہے ۔میں نے اسے بتایا ۔ یہاں بڑے بڑے ادیبوں کی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ جن میں فیض احمد فیض ، سعادت حسن منٹو ، میرا جی ، منیر نیازی ، کمال رضوی ، ناصر کاظمی←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ قرب قیامت

عزیزو اقارب سے سن رکھا تھا کہ وہ بہت پہنچے ہو ئے بزرگ ہیں۔ مجھے کو ئی بھی مسئلہ نہیں تھا لیکن چاہتا تھا کہ کسی بزرگ کی صحبت سے فیض یاب ہوں۔ ان کے آستانہ پر حاضر ہوا ۔۔۔←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ ادھاری چائے

تم آئے نہیں۔۔؟ رات دو بجے تک انتظار کیا ، تھک ہار کر میں سو گئی۔۔۔ میں وہ ۔۔۔۔ کیا میں وہ۔۔۔؟ کتنی مشکل سے سب کو چائے پلائی ، تمھاری دی ہوئی نیند کی گولیاں ملائیں ،، دروازے کو←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ سستا ایمان

شناختی کارڈ میں غلط مذہب لکھ دیا گیا ہے ۔تصحیح کر دیں میں نے کہا۔۔۔ ہم کسی کا مذہب تبدیل نہیں کرسکتے۔۔۔ افسر نے دوٹوک جواب دیا۔۔۔ آپ کر سکتے ہیں ، پیسے لے لیں ، میں نے آفر کی۔۔۔←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ رزق حلال

رقص و سرور کی محفل برپاء تھی ۔ شہر کے نامور تاجر صنعت کار بیوروکریٹ جمع تھے ۔ شیخ صاحب جنکی فیکڑی میں مزدور کو کبھی وقت پر تنخواہ نہیں ملی۔ حاجی صاحب چاول کی ملاوٹ میں ید طولیٰ رکھتے←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ کامل پیر

جیسے ہی پیر صاحب گھر پدھارے گھرے والے ان کے آگے بچھ بچھ گئے ۔ اہل خانہ نے خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ توفیق سے بڑھ کر اپنے پیر و مرشد کی تواضع کی۔ صاحب خانہ نے اپنی←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ سانپ

مجھے سانپ پالنے کا شوق ہو ا ۔سانپوں کی دکا ن پر گیا۔ رنگ برنگے سانپ مرتبانوں میں سجے تھے۔ زہر کی مقدار کے حساب ان پرقیمتیں درج تھیں۔ کنگ کوبرا ، امریکن کوپر ہیڈ ، کارن سنیک ، ریٹل←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ جہیز

تم آخر کر کیا رہی ہو۔؟ شفقت اپنی زوجہ کوکچھ جمع تفریق کرتے دیکھ کر پوچھ ہی بیٹھا۔۔۔ آپ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔۔۔ بھئی کچھ بتاؤ گی یا پہیلیاں ہی بجھوانی ہیں۔۔۔ ارے سلمیٰ کی نسبت کیئے ایک←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی(بیوہ)

ہر چوتھے دن غفور کا اس محلہ میں چکر لگتا تھا ۔۔۔۔ لیکن اب تک وہ اتنی ہی سن گن لے پایا تھا کہ وہ بیوہ ہے ۔۔۔۔ حسب معمول آج جب اس نے آواز لگائی ٹین ڈبہ بیچو ،←  مزید پڑھیے

سو لفظی کہانی(سگا دادا)

تمھیں معلوم ہے تھرپارکر کے لوگوں کے حافظے بہت تیز ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ ایک سات سال کے بچے کو اپنے گیارہ داداؤں کے نام یاد تھے۔۔۔ وہ بولا واقعی؟ ہاں وہ بچہ کسی ٹیپ ریکارڈر کی طرح شروع ہو گیا تھا۔۔←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ بڑا لیڈر

تمھارے ہاں بڑا لیڈر کیسے بنتا ہے۔۔۔؟ میں نے چانگ سےپوچھا ۔۔۔ معاشی اصلاحات کرتا ہے،مستقبل کی منصوبہ سازی کرتا ہے، تجارت کو فروغ دیتا ہے، خوشحالی لاتا ہے۔۔۔۔ چانگ نے سینہ پھلا کر بتا یا۔۔۔ تمھارے ہاں بڑا لیڈر←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی۔بے شرم

آنکھوں پر موٹی سی عینک چڑھائےسمارٹ فون کی اس دنیامیں۔۔ بس میں بیٹھا، کتاب پڑھتا ہواوہ نوجوان کسی اور ہی دنیا کا مسافر معلوم ہو تا تھا۔۔۔ تھپڑ کی زناٹے دار آواز نے مسافروں کو لڑکے کی طرف متوجہ کیا←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ انکل سام

انکل سام ملنے آئے خیرو نے بتایا۔ انہوں نے میرے گھر کا جائز ہ لیا ۔۔تمھیں تمھارے پڑوسیوں سےخطرہ ہے ،تمھارے پاس اسلحہ ہے ؟ نہیں ،خیرو نے حقیقت بیان کی۔۔۔ میں اعلی قسم کا پستول بناتا ہوں، مجھ سے←  مزید پڑھیے