مدثر ظفر کی تحاریر
مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

سولفظوں کی کہانی ۔ سیٹ/مدثر ظفر

میں ڈاکٹر ہوں میری ڈیوٹی ایمرجنسی میں ہے ۔ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ لیٹ ہاسپٹل پہنچا ۔ جیب میں ہاتھ ڈالا خیال آیا بجلی کا بل جمع کروانا ہے ۔ بینک پہنچا لیکن متعلقہ افسر سیٹ پر نہیں تھا←  مزید پڑھیے

موسم(سو لفظوں کی کہانی)۔۔۔مدثر ظفر

میں بچپن میں ہر موسم انجوائے کرتا تھا ، بچے ایسا ہی کرتے ہیں۔۔ فکر معاش سے بیگانہ ، آزد منش ، ہر حال میں تفریح طبع کر لیتے ہیں۔ میں نے لاہوری بچے سے پوچھا ، تمھیں کون سا←  مزید پڑھیے

کتوں کا قاتل پل۔۔۔مدثر ظفر

 Overtoun Bridge Scotchland اس پل کو Dog Suicide Bridge بھی کہا جاتاہے ۔ یہ ایک عام سا پل ہے جو 1895ء میں تعمیر ہو ا ۔ پچاس فٹ اونچے اس پل کو آج سے پچاس سال پہلے تک کوئی خصوصیت←  مزید پڑھیے

ایک سبق ریاضی کا۔۔۔ مدثر ظٖفر

تمھارے پاس دس روپے ہوں تو تم ایک درجن کیلے خرید سکتے ہو  ، اگر پندرہ روپے ہوں تو کتنے کیلے آئیں گے ؟ لیکن سر میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں ۔ اس کے جواب  سے  مایوسی  جھلک رہی←  مزید پڑھیے

طوطا اور مینا(سو لفظوں کی کہانی)۔۔۔مدثر ظفر

وہ ایک  خوبصورت طوطاتھا جس  کےسامنے والے پیڑ پر مینا کا بسیرا تھا  ۔ کرنا خدا کا ،طوطا جنگل میں شکاریوں کےجال میں پھنس گیا،جنہوں نے اسے شہر لےجاکر بیچ دیا۔ شومئی قسمت  ایک دن موقع پاکر فرارہوا ۔جنگل کی←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ تصویر

گرد سےاٹاچہرہ ۔ تیکھے دلکش نقوش۔ بڑی بڑی ویران آنکھیں، پتلے ہونٹ۔ ستواں ناک دھنسے ہوئے عارض ۔اس کے وجود پر فاقوں نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔۔ سگنل پر رک کر میں نے مختلف زاویوں سے اس کی کئی تصاویر←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ کاغذ

وہ  گھر میں اپنے مخصوص  کمرےمیں آئی۔ ہرچیز جوں کی توں تھی  جیسے ابھی بھی یہیں رہ رہی ہو۔ اس نے اپنی الماری کامقفل  دراز کھولا۔وہ محبت نامے جن میں آج بھی   خوشبو رچی ہوئی تھی،یونہی  پڑے تھے۔ رومانوی←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ بولیاں

ایک کبوتر  دیکھا جو اسٹیج پر کھڑا کائیں کائیں کر رہا تھا ۔۔۔میں حیران ہوا۔ پھر ایک گائے  دیکھی  جو بھونک رہی تھی۔۔ ایک شیر دیکھا جو بکریوں کے مجمع سے حقوق نسواں کے موضوع پر خطاب کر رہا تھا۔←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ـ پَر

بھائی کریلے کیسے دیئے۔؟ اسی روپے کلو۔۔۔ سبزی والے نے جواب دیا۔۔۔ افف سبزی کو تو پر لگے ہوئے ہیں۔۔۔ میرےمنہ سے نکلا۔۔۔ بھیا دودھ کیسے دیا۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔۔ نوے روپے کلو۔۔۔ گوالے نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ـ بری کتاب

یہ کون سی کتاب ہے ؟ جوجو نے میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔ اوپر لکھا ہوا ہے۔ میں نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔ تمھیں کیسی کتابیں پسند ہیں۔؟ جوجو نے ایک اور سوال داغا۔۔۔ مجھے ہر قسم←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ خوشی

پھل خریدتے ہوئے سوچنے لگا آج خلاف معمول قصہ خوانی بازار میں چہل پہل ہے۔ وہ بہت زیادہ خوش تھا اور چہک رہاتھا۔ آج گیارہ سال بعد اس کے آنگن میں پھول کھلا تھا۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اچانک←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ نو سیکھیا

کیا بات ہے تم آجکل مرجھائے ہوئے نظر آتے ہو ؟ میں نے راشد کا لٹکا ہو امنہ دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ کچھ نہیں یا ر،وہ اپنے شیخ صاحب ہیں ناں پہلے پہل انہیں معلوم ہوا کہ میں ایم اے←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ پاک ٹی ہاؤس

یہ پاک ٹی ہاؤس ہے ۔میں نے اسے بتایا ۔ یہاں بڑے بڑے ادیبوں کی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ جن میں فیض احمد فیض ، سعادت حسن منٹو ، میرا جی ، منیر نیازی ، کمال رضوی ، ناصر کاظمی←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ قرب قیامت

عزیزو اقارب سے سن رکھا تھا کہ وہ بہت پہنچے ہو ئے بزرگ ہیں۔ مجھے کو ئی بھی مسئلہ نہیں تھا لیکن چاہتا تھا کہ کسی بزرگ کی صحبت سے فیض یاب ہوں۔ ان کے آستانہ پر حاضر ہوا ۔۔۔←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ ادھاری چائے

تم آئے نہیں۔۔؟ رات دو بجے تک انتظار کیا ، تھک ہار کر میں سو گئی۔۔۔ میں وہ ۔۔۔۔ کیا میں وہ۔۔۔؟ کتنی مشکل سے سب کو چائے پلائی ، تمھاری دی ہوئی نیند کی گولیاں ملائیں ،، دروازے کو←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ سستا ایمان

شناختی کارڈ میں غلط مذہب لکھ دیا گیا ہے ۔تصحیح کر دیں میں نے کہا۔۔۔ ہم کسی کا مذہب تبدیل نہیں کرسکتے۔۔۔ افسر نے دوٹوک جواب دیا۔۔۔ آپ کر سکتے ہیں ، پیسے لے لیں ، میں نے آفر کی۔۔۔←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ رزق حلال

رقص و سرور کی محفل برپاء تھی ۔ شہر کے نامور تاجر صنعت کار بیوروکریٹ جمع تھے ۔ شیخ صاحب جنکی فیکڑی میں مزدور کو کبھی وقت پر تنخواہ نہیں ملی۔ حاجی صاحب چاول کی ملاوٹ میں ید طولیٰ رکھتے←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ کامل پیر

جیسے ہی پیر صاحب گھر پدھارے گھرے والے ان کے آگے بچھ بچھ گئے ۔ اہل خانہ نے خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ توفیق سے بڑھ کر اپنے پیر و مرشد کی تواضع کی۔ صاحب خانہ نے اپنی←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ سانپ

مجھے سانپ پالنے کا شوق ہو ا ۔سانپوں کی دکا ن پر گیا۔ رنگ برنگے سانپ مرتبانوں میں سجے تھے۔ زہر کی مقدار کے حساب ان پرقیمتیں درج تھیں۔ کنگ کوبرا ، امریکن کوپر ہیڈ ، کارن سنیک ، ریٹل←  مزید پڑھیے

سولفظوں کی کہانی ۔ جہیز

تم آخر کر کیا رہی ہو۔؟ شفقت اپنی زوجہ کوکچھ جمع تفریق کرتے دیکھ کر پوچھ ہی بیٹھا۔۔۔ آپ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔۔۔ بھئی کچھ بتاؤ گی یا پہیلیاں ہی بجھوانی ہیں۔۔۔ ارے سلمیٰ کی نسبت کیئے ایک←  مزید پڑھیے