کتوں کا قاتل پل۔۔۔مدثر ظفر

 Overtoun Bridge Scotchland اس پل کو Dog Suicide Bridge بھی کہا جاتاہے ۔ یہ ایک عام سا پل ہے جو 1895ء میں تعمیر ہو ا ۔ پچاس فٹ اونچے اس پل کو آج سے پچاس سال پہلے تک کوئی خصوصیت حاصل نہ تھی ۔ باقی پلوں کی طرح برساتی ندی پر بنا یہ ایک عام سا پل تھا ۔ تقریبا ًپچاس سال قبل اس پل سے کتوں کے پے درپے چھلانگ لگانے کے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ پل لوگوں اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔ 1950 ء سے لے کر اب تک اس پل سے کتوں کے چھلانگ لگانے کے 600 سے زائد واقعات سامنے آچکے ہیں ۔ ان میں عام آوارہ کتے بھی شامل ہیں ، پالتو اور با قاعدہ سدھائے ہوئے کتے بھی ۔ اس پر سے گزرتے وقت کتے اچانک برج کی چار فٹ اونچی دیوار پھلانک کر ندی میں چٹانوں پر جا گرتے ہیں۔ ان 600 میں سے پچاس کتے اب تک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ باقی کتے مرنے سے تو بچ رہے لیکن اکثر اپنی ہڈیاں تڑوا نے کے ساتھ معمولی زخمی بھی ہوئے۔

بعض انسانوں نے بھی اس پل سے کود کر خود کشیاں کیں لیکن کتوں کی کثرت کے باعث انسانوں کی خود کشیاں توجہ حاصل نہ کر سکیں ۔ پے در پے ہونے والے متعدد واقعات کے بعد انتظامیہ نے پل پر ایک سائن بورڈ لگا دیا جس پر انگریزی میں درج ذیل عبارت کنندہ  ہے۔ Dangerous Bridge , Please keep your dog on a lead پچاس فٹ اونچے اس پل کے نیچے ندی میں سخت چٹانیں ہیں جن پر گرنا کتوں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے ۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے RSPB نامی جانوروں کے رویوں پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے نے 1994ء میں اپنا ایک ماہر کتوں کی خود کشی کی کوششوں کی وجوہات جاننے کے لیئے بھیجا ، جو مختلف نوعیت کے تجربات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس پل کے اطراف جنگل میں بڑی تعدا د میں Mink (آبی نیولے) موجود ہیں جن کی بو آنے پر کتے پل پر سے چھلانگ لگا دیتے ہیں ۔

ان پر اسرار واقعات کے ضمن میں کئی طرح کی کہانیاں گردش کرتی ہیں ، مثلا ًیہ کہ کتوں کی نظر کمزور ہوتی ہے اور چار فٹ چوڑے اس پل کی ساخت ایسی ہے کہ کتے بر ج کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتے اور چھلانگ لگا دیتے ہیں ۔پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ندی میں پانی کے بہاؤ سے پیدا ہونے والی آواز کتوں کو مشتعل کر تی ہے اور وہ ندی میں کود جاتے ہیں ۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ ندی کے پانی کا عکس optical illusion یعنی فریب نظر پیدا کرتا ہے جس کے سحر میں جکڑ کر کتے ندی کی جانب چھلانگ لگا دیتے ہیں ۔ اس طرح کے پر اسرار اوراپنی نوعیت کے اس انوکھے معاملہ کو بھوت پریت سے منسوب کیا جانا بعید از عقل نہیں، چنانچہ یہ بھی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں کہ پل پر کسی ایسی نادیدہ قوت کا قبضہ ہے جو کتوں سے نالاں ہے ۔ 1994 میں نفسیاتی مریض ایک شخص نے اپنی دو ماہ کی بچی کو اس پل سے نیچے پھینک دیا جو ان چٹانوں پر گرنے کی وجہ سے مرگئی ۔ اس شخص کا خیال تھا کہ یہ شیطان کی بیٹی ہے ۔چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس پل پر بچی کی روح کا قبضہ ہے جو کتوں کو اٹھا کر نیچے پھینک دیتی ہے ۔

یاد رہے ایک بات جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ کتے برج کی ایک مخصوص جگہ اور صرف ایک ہی طرف سے ندی میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ اس سارے منظر نامہ میں کتوں کی خود کشی کی توجیحات متعدد سوالوں کو جنم دیتی ہیں، مثلاً، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ Mink کی بو کی وجہ سے کتے چھلانگ لگاتے ہیں ، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ منک پل کے اطراف ہر سمت پائے جاتے ہیں تو کتے پل کی ایک مخصوص جگہ سے ایک ہی سمت میں کیوں کو دتے ہیں ۔؟ بو تو کسی بھی سمت سے آ سکتی ہے۔ ایک شخص جو پچاس سال سے وہاں رہ رہا ہے اس کا بیان ہے کہ 2004 سے پہلے یہاں کوئی Mink نہ تھے جب  کہ کتے اس سے قبل بھی یہاں خود کشیاں کر چکے ہیں ۔ اگر کتے اپنی کمزور نظر کی وجہ سے پل کی ساخت سے دھوکہ کھاتے ہیں تب بھی وہ پل کی ایک طرف ہی کیوں چھلانگ لگاتے ہیں ۔؟ یہ سوال بھی لاینحل ہے۔

ندی کے پانی کی آواز کی وجہ سے ؟ اس پر بھی وہی سوال اٹھتا ہے کہ آواز تو ہر دو اطرف سے آتی ہے مگر کتے ایک مخصوص جگہ اور پل کی مخصوص سمت میں ہی چھلانگ کیوں لگاتے ہیں ؟ Optical illusion کے متعلق بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے ۔اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو برج کی دیوار جو کہ چار فٹ اونچی ہے کتے ندی کے پانی میں پیدا ہونے والے اس illusion کو برج پر سے کیسے دیکھ لیتے ہیں۔؟ معزز قارئین کیا آپ اس کی کوئی توجیح بیان کر سکتے ہیں؟ آخر کتوں کے اس طرح کودنے کا محرک کیا ہو سکتا ہے ؟ آج کے اس جدید دور میں بھی “اورٹن برج” سے کتوں کا کودنا ایک معمہ ہے اور حضرت انسان کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے ۔ کیا کبھی یہ عقدہ وا ہو سکے گا۔ ؟ شاید ہاں ۔۔۔۔شاید نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن سر دست یہ کائنات کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز ہے , ایک Unsolved Mystery ۔

Save

Save

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *