سو لفظوں کی کہانی ۔ کاغذ

وہ  گھر میں اپنے مخصوص  کمرےمیں آئی۔

ہرچیز جوں کی توں تھی  جیسے ابھی بھی یہیں رہ رہی ہو۔

اس نے اپنی الماری کامقفل  دراز کھولا۔وہ محبت نامے جن میں آج بھی   خوشبو رچی ہوئی تھی،یونہی  پڑے تھے۔

رومانوی شاعری سے لبریز ، بےپناہ محبت کا اعتراف  ، عہد و پیمان ساتھ جینے مرنے کی قسمیں  تھیں،

اس نے ایک خط کھولا ۔۔۔آخر پر لکھا تھا ، یہ خط نہیں میرا دل ہے ۔اسے سنبھال کر رکھنا۔۔۔

اس نے سارے کاغذ پھر سلیقے سے واپس رکھے۔

ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں پکڑا طلاق نامہ  ان کے اوپر سنبھال کر رکھ دیا!

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *