ابنِ حیدر کی تحاریر
ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بازگشت

کون ھے ؟؟ میں ھوں۔ کون “میں” ؟ میں ھوں۔۔جہاں زاد۔ کون جہاں زاد ؟ میں۔ اچھا تم! رات کے اس پہر ؟ کیسے آئے ھو ؟ رات ؟ مگر باہر تو دن ھے۔ اچھا !؟ اندر تو رات ھے۔←  مزید پڑھیے

غبارے ۔۔۔ ابن حیدر

“غبارے لے لو، پھول لے لو، شاپنگ بیگز لے لو” بوڑھے نے صدا لگائی۔ نحیف بدن جس میں ان گنت جھریاں پڑ چکی تھیں، جھکی ھوئی کمر اور گہری تیز مایوس آنکھوں والے بوڑھے کی آواز میں ایک عجیب سی←  مزید پڑھیے

خوابیدہ حقیقت۔۔حیدر چاچک

“میں کہاں ہوں؟” وہ بولا “تم۔۔دنیا ہائے دنیا میں ہو” آواز آئی- “دنیا ہائے دنیا! …یہ کون سی جگہ ہے؟کیا یہ کوئی خواب ہے؟” “اس کا فیصلہ تو تم پر ہے” آواز گونجی- مجھ پر۔۔کیوں؟ میں یہاں آیا کیسے؟۔ “وہ←  مزید پڑھیے

پردیسی بیٹے کا عید پر خط

23-بی ماڈل ٹاؤن لاہور پچیس جون دو ہزار سترہ عزیز از جان و قریب از قلب اہل گھرانہ السلام علیکم ! سب سے پہلے امی جان کے قدموں کو میرے ان الفاظ کا بوسہ جو گو کہ میرے لبوں کی←  مزید پڑھیے

زندہ تصویریں

پیشے کے اعتبار سے وہ فوٹو گرافر۔۔۔۔۔ اسے اسکا پیشہ کہنا غلط ہے،یہ اسکا جنون تھا,پاگل پن تھا, عشق تھا۔۔۔ مناظر ہوں یا انسان ۔۔۔۔وہ ایک ہی لمحے میں انہیں قید کر لیتا۔۔۔ پھر گھنٹوں بیٹھ کر ان تصاویر کو←  مزید پڑھیے

تفریق کا فرق

ایک دانشور جو انسانی تمدن و تاریخ کا ماہر تھا اور انسان و جانور کے ماحول پر خوب لکھتا تھا، کل رات کو سویا تو وہ ایک بندر بن چکا تھا۔ وہ شاید کانگو کے کسی جنگل میں تھا یا←  مزید پڑھیے

مشال کو ہم سب نے مارا ہے

مشال مر گیا اور ہم سب کو جیتے جی مار گیا۔ دل پر بوجھ ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسروں کی تو بات چھوڑئیے، خود پر سے اعتماد جاتا رہا ہے۔ صوابی کے اس حسین و جمیل نوجوان کا←  مزید پڑھیے

بیٹیاں تو رحمت ہیں

شہزادہِ رسول حضرت قاسم رضی اللہ عنہ وصال پا چکے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہِ اقدس پر شفقتِ پدری نمایاں ہے۔ دشمنوں تک خبر پہنچتی ہے تو بغلیں بجانا شروع ہو جاتے ہیں۔ نقل کفرکفر نا←  مزید پڑھیے

گھڑی اور وقت

اس کی کلائی پر گھڑی صبح کے نو بجا رہی تھی، جب کہ دیوار کی گھڑی پر رات کے نو بجے تھے۔ درحقیقت جب وہ سفر سے واپس آیا تو اس نے اپنی گھڑی درست نہیں کی۔۔ پہلی نظر میں←  مزید پڑھیے

تیسری طرف سے

وہ کتاب خریدتا ہے۔اس کا عنوان اور سرورق دیکھ کر صفحات گنتا ہے۔ کتاب کھولنے سے قبل وہ عنوان، سرورق اور صفحات کی تعداد کے سانچے میں ایک کہانی سوچتا ہے۔ پھر وہ کتاب کھول کر پڑھتا ہے اور اپنی←  مزید پڑھیے

مذہب کے ٹھیکیداروں کے نام

سنو !اے فتویٰ بردارو۔۔ خدا کی فوج کے بندوں، تمہارا کیا تعلق ہے ؟؟ میری ہستی کے گلشن سے، میری دانش کے آنگن سے، ارے او ، دیں نما بے دیں دکاں دارو۔۔ علم کے دشمنو، چوروں، دغابازوں، تمہیں مطلب←  مزید پڑھیے

کانفلکشن(تصادم)

وہ جہاں سے آیا تھا وہاں نام لے کر نہیں پکارا جاتا تھا اور جنس کا فرق تو تھا ہی نہیں۔ یہاں آیا تو سب نے اسے کوئی نہ کوئی نام دے دیا۔۔۔ محلے والے اسے اپنی مرضی کے نام←  مزید پڑھیے

فیس بُکی حسینہ اور خود کلامی

میری جان ! تم مجھے شاعری کے ایک گروپ میں کسی پوسٹ پر ملیں۔ تمہاری پروفائل فوٹو میں اک عجیب سی کشش تھی۔ نا جانے کیوں دل تمہاری طرف کھنچتا چلا گیا۔انتہائی شریف النفسی کا عدیم المثال مظاہرہ کرتے ہوئے←  مزید پڑھیے

سرگذشت حیات سے قبل

ٹیمز ہمالیہ کنارے بہہ رہا ہے اور چوٹیوں پر سائبیرین ریچھ برف میں اٹے ہوئے ہیں ۔۔۔۔جہاں سے نیاگرا کی آبشار گر رہی ہے۔ سومالین بچے کناروں پر لگے انناس کے باغ میں کھیل رہے ہیں جبکہ چلی کے ملاح←  مزید پڑھیے

ابو جی آپ عظیم ہیں

زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرا۔ بچپن سے جوانی تک جب بھی ان کی آنکھوں میں جھانکا ایک عجیب سا سکون نصیب ہوا۔ ان کے چہرے کو دیکھ کر ہمیشہ قرار آیا۔ باپ امیر ہو یا غریب، وہ کسی←  مزید پڑھیے

زندگی

وہ رٹا لگاتا ہے۔۔ سب کچھ یاد کرتا ہے۔ کلاس میں استاد سوال پوچھتا ہے تو سوال ہی سمجھ نہیں آتا۔۔ وہ سمجھ کر یاد کرتا ہے اور چند سوال چھوڑ دیتا ہے۔ امتحان میں وہی سوال آ جاتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

دھوکہ

خدا سے دھوکہ ہوا۔۔۔دوسری دفعہ۔۔ پہلی دفعہ اس نے موسی کو طور پر بلایا اور قوم نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔۔بنا بنایا کام بگڑ گیا۔ اس دفعہ معاملہ عجیب ہوا۔ وہ جنت فرشتوں کے حوالے کر کے خود←  مزید پڑھیے

درایت

دیوار کریدو۔۔ دیوار میں ہے سب کچھ۔۔ یہ سن سن کر اور دیوار میں آنکھیں لگا لگا کر وہ تھک گیا تھا۔۔۔ خالی دیوار پر کچھ بھی نہیں تھا، اسے اس سنکی بڈھے پر غصہ آتا تھا جس نے کہا←  مزید پڑھیے

تبدیلی

سال پہلے کے لفظ بوسیدہ ہو گئے ہیں اور معانی نے اپنا رستہ بدل لیا ہے۔۔۔ وہ لفظ تراشتا تھا اور معانی کا انبار اس کی ہئیت بےمزہ کر دیتا تھا۔پھر اس نے معانی تراشنے شروع کئے۔۔۔لفظ قطار در قطار←  مزید پڑھیے

اوجھل دنیا

سڑک کے اطراف سفیدے کے درخت بہت بھلے لگ رھے تھے۔آج کافی عرصے بعد اسے سورج کی ہلکی ہلکی دھوپ اچھی لگ رہی تھی۔جب وہ نسبتا گنجان گلی میں داخل ھوا تو ھوٹل کے باہر بیٹھے فقیر، سکول جاتے بچے،←  مزید پڑھیے