پردیسی بیٹے کا عید پر خط

23-بی ماڈل ٹاؤن لاہور
پچیس جون دو ہزار سترہ
عزیز از جان و قریب از قلب اہل گھرانہ
السلام علیکم !
سب سے پہلے امی جان کے قدموں کو میرے ان الفاظ کا بوسہ جو گو کہ میرے لبوں کی تشنگی اور اماں کی زیارت کے لئے تڑپتی آنکھوں کے کرب کو کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بعد ازاں ابا جان کو ایک زوردار جپھی جس کی گرماہٹ سے قلب و جگر کی تمازت ممکن ہےاور نئے ولولے کی امید صبح جس کے سبب سے ہوتی ہے۔
یہ خط تمام کو لکھ رہا ہوں باری باری سب میری ندائے الفت کو سن لیجئیے !
امی جان میری جنت فردوس !
یقیناً کل میرے تمام بھائی اور بہنیں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے مگر مجھے یقین ہے آپ کی آنکھیں مجھے تلاشتی رہیں گی یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں یہاں نہیں ہوں۔ میری ربیہِ اول میری مادرِکریم میں اس عید پر گھر نہیں آ پایا، فتنہ ھائے شکم اور مصائب ہائے روزگار نے یہ عید بھی میرے نصیب سے نوچ کر وقت کے ظالم درندے کے آگے ڈال دی ہے جس کے سامنے میں اور آپ بے بس ہیں۔ آپ کی ایک تصویر میرے پرس میں موجود ہے جس میں آپ کی آنکھوں سے چھلکتی شرابِ الفت سے میں نے سحری اور افطاری میں بلاناغہ استفادہ کیا ہے۔ انہیں آنکھوں کے فیضِ سے کل کی عید گزار لوں گا۔ آپ کی بارگاہ میں میرا سلام پیش ہے، دستِ شفقت سے نواز کر پردیسی بیٹے کے آنسوؤں کو امر کیجئے۔

ابا جان میرے مولائی و مرشدی !
آپ تو خیر بڑے مرد ہیں، مگر جانتا ہوں میرے بغیر یہ عید کتنی کٹھن ہو گی آپ کے لئے۔ خیر چھوٹے بھائیوں کے ساتھ عید نماز پڑھنے جائیے گا اور میرے حصے کی جپھی ادھار رہی۔۔۔وہ میں آ کر وصول لوں گا۔ اور ہاں۔۔۔اس دفعہ نیا سوٹ لازمی سلوا لیجئیے گا، ہمیشہ کی طرح مت کیجئیے گا ورنہ میں آپ سے نہیں بولوں گا۔ میری بہنوں کو میری طرف سے عیدی بھی آپ دے دیجئیے گا اور آج جلدی سے گوشت اور دیگر سامان بھی لے لیجئیے گا۔اور وہ گلی کے نکڑ پر جو خالہ نزیراں رہتی ہیں عید کے دن ان کے ہاں ہو آئیے گا، بیوہ عورت کی عید نا ہو تو محلے کی عید کیسی عید۔۔

برادرِ صغیر میرے ہم زلف و ہم شیر !
سن رہا ہوں کہ برخوردار کے مزاج کافی بگڑتے جا رہے ہیں۔ بہنوں پر رعب جھاڑتے ہو اور اماں ابا کی نہیں سنتے۔ یہیں کان مروڑوں کہ سدھر جاو گے خود ہی ؟ اچھا سنو میں اس دفعہ بھی نہیں آ پایا مگر عید کے لئے حسب سابق تمہارے جیسا ہی کرتا سلوایا ہے، بس تمہاری جپھی کی لذت سے محروم رہ جاؤں گا۔ عید نماز پڑھ کر ایک چکر قبرستان کا لگا آنا۔ دادا جان اور چاچو مرحوم کو مل آنا اور میرا سلام کہنا۔
میری جانِ الفت امِ پسری
بیگم اس کھلے خط میں تمہیں کیا لکھوں۔ جس طرح تمہارے جذبات اور ہجر کے نوحے لفاظی کے بکل میں چھپائے نہیں چھپتے،ویسے ہی میرے وجود سے اٹھتی ٹیسیں بھی یہاں بیان ہونا ممکن نہیں۔ بیگم میں نہیں آ سکا۔ آتا تو نوکری کا ہرج ہوتا اور پیٹ کی ستم ظریفی کے آگے دل کی مچلن کو کچلنا پڑا ہے، نہیں آ پایا۔ یہ کہنا تو انتہائی غیرمعقول ہو گا کہ اداس مت ہونا، مگر اس کے علاوہ کچھ کہنے کو ہے بھی نہیں۔ کل کاجل ضرور لگانا، تمہاری گہری آنکھوں کو کاجل سے دور رکھنا حوروں کو گھمنڈ میں ڈالتا ہے اور تمہاری ایک مسکراہٹ حورانِ بہشت کے چھکے چھڑا دیتی ہے۔
میرے بچو !
تمہارے چاچو تمہیں کھلونے اور من پسند چیزیں لا کر دیں گے مگر میں جانتا ہوں تم پھر بھی ابا ابا کرتے پھرو گے۔ دیکھو میں اگلی عید پر ضرور آؤں گا۔ ہاں پچھلی عید پر بھی وعدہ کرکے نہیں آیا تھا مجھے یاد ہے مگر اس دفعہ کا وعدہ پکا ہے کہ اگلی عید پر آؤں گا۔ اچھا اب امی کو کہو تمہارے گالوں پر نقشِ محبت رقم کرے، بوسے دے۔ کل کی عید بھرپور انداز سے کیجئیے گا۔
اچھا امی جان، ابو جی، بھائی صاحب اور میری جانِ الفت مجھے اب اجازت دیجئیے، کام پہ نکلنا ہے۔ میری طرف سے سب کو عید مبارک
آپ کا پردیسی بیٹا
ابنِ حیدر

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *