سفرنامہ لاہور۔۔۔۔عارف خٹک/قسط1

اسلام آباد ایئرپورٹ پر اُترا۔ تو عبدہُ کا فون آیا کہ جلدی نکل آ،لاہور چلنا ہے۔ میں نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور یارِ غار فضل بڑیچ کو یاد کیا۔پھرخود ہی خود کو لعن طعن کیا کہ پنجاب کا آلۂ کار لاہور نہیں جائےگا تو کیا کابل جائے گا؟
بیگم کو کال کرکے منمنائی ہوئی آواز میں اجازت مانگی۔
جو دس قسم کی فرمائشوں والی لسٹ ماننے کے بعد مل گئی۔لاؤنج سے باہر نکلا تو کافی پنڈی بوائز ٹائپ ڈرائیور آئے،کہ صاحب ہنڈا سِوک گڈی ہے۔ 700 میں فیصل موورز کے ٹرمینل پر پُہنچا دیں گے۔میں ان سب پر نخوت بھری نگاہ ڈال کر بولا،کہ تم لٹیروں سے اچھے تو کریم والے ہیں۔ لہٰذا کریم ٹیکسی کی بُکنگ کروالی۔پرائیویٹ ٹیکسی ڈرائیوروں کو دیکھتا ہوا کریم کی گو پلس ایئرکنڈیشنڈ کار میں گُھس گیا۔اور پورے رستے کریم والوں کو دُعائیں دیتا رہا۔ دُعاؤں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا،کہ فیصل موورز کا ٹرمینل آگیا۔ سٹائل سے مونچھوں کو تاؤ دیا۔اور ایک بانکی سی مُسکراہٹ ڈرائیور کی طرف اُچھال کر پوچھا۔۔۔
بچے کرایہ؟
اُس نے اینڈرائیڈ سے کرایہ دکھا دیا۔ مونچھیں جو اک آن سے دو بجکر پچاس منٹ بجا رہی تھیں ۔کرائے کے نام پر 1380 روپے کی خطیر رقم دیکھنے کے بعد پانچ بج کر پینتیس کے ہندسے پر لٹک گئیں۔ کریم والوں کو دل کھول کر گالیاں دیں۔ مونچھیں دوبارہ دو بجکر پچپن منٹ پر لے گیا۔اور فیصل موورز کی بزنس کلاس میں مُبلغ پندرہ سو روپے کا ٹکٹ لےلیا۔ کیا شاندار گاڑی تھی۔ کُھلی اور آرام دہ سیٹ،ایسا لگا جیسے باجی مسرت شاہین نے گود بٹھا لیا ہو۔ اپنا لیپ ٹاپ کھولا،اور آتے جاتے مسافروں پر دھاک جمانے لگا۔کہ پٹھانوں میں بھی پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں۔یہ الگ بات کہ اگلے دس منٹ لیپ ٹاپ اسکرین پر نظریں جمائے فضل خان بڑیچ کو ہی سوچتا رہا کہ ایسا کونسا کام کروں،جس سے پنجابیوں پر اپنی برتری واضح ہوجائے۔ اتنے میں چچا رحیم خٹک خیالوں میں آ کُودے۔سو فضل بڑیچ پر لعنت بھیج دی۔اور ہینڈز فری لگا کر پشتو فلم “مات کہ زنجیرونہ”(توڑ دو زنجیریں)کے ٹوٹے دیکھنے لگا۔


اچانک ہی ایکسکیوز می کی ایک زنانی آواز نے کانوں سے ہینڈز فری نکالنے پر مجبور کرڈالا۔۔۔۔ مسرت شاہین کے گرم ڈانس سے آلودہ نظریں جیسے ہی اُٹھائیں۔ تو ایک اماں جی سامنے کھڑی تھیں۔کہنے لگیں کہ بیٹا یہ سیٹ میری ہے۔
ساڑھے چار گھنٹے کے سفر میں اماں سے ساری گفتگو اس موضوع پر ہوتی رہی۔کہ بہویں اتنی حرامن کیوں ہوتیں ہیں اور داماد اتنے اچھے کیسے ہوتے ہیں۔ماں جی کے خیالات بالکل میری ساس اور میری ماں سے ملتے جُلتے تھے۔بالآخر گھریلو بحث کا انجام لاہور پہنچتے اس بات پر ہوا کہ داماد اور بہو دونوں ہی حرامی ہوتے ہیں چاہیے پشتون ہو ں یا پنجابی۔

لاہور اُترتے ہی ثاقب آفریدی اپنی نئی نویلی سوزوکی اوڈی کے ساتھ انتظار کرتے ہوئے ملے۔ پانچ منٹ تک مسلسل گلے ملنے کے بعد میرے سینے کو حسرت سے دیکھ کر بولا کہ لالہ کہیں کچھ کمی ہے۔ جواب دیا کہ سینے کثرتِ ورزش سے کم کردیئے ہیں۔ یہ سُن کر پھر دس منٹ تک سینے سے لگ کر میری بات کی تائید کردی،کہ واقعی لالہ بہت کمی ہے۔ ایک گھنٹہ بعد ہوٹل پ پہنچے تو پھر گلے لگ گئے۔کہ لالہ مُبارک ہو آپ نے داڑھی بھی رکھ لی ہے؟


زبردستی ان کو خود سے الگ کیا،کہ اتنا گلے مت ملا کرو۔ اگر ملنے کا اتناہی شوق ہورہا ہے ،تو اس سے بھی گلے مل لو جس کا سائز بڑھ گیا ہے۔یہ سُن کر ثاقب نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا،اور بولا۔کہ ان چکروں میں چچا شہریار آفریدی بھی وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کیوں کہ وہ بھی ہر چیز سے گلے ملنے کا شوقین تھا۔

جاری ہے

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *