اوجھل دنیا

سڑک کے اطراف سفیدے کے درخت بہت بھلے لگ رھے تھے۔آج کافی عرصے بعد اسے سورج کی ہلکی ہلکی دھوپ اچھی لگ رہی تھی۔جب وہ نسبتا گنجان گلی میں داخل ھوا تو ھوٹل کے باہر بیٹھے فقیر، سکول جاتے بچے، اور راہ چلتے لوگ نظر آئے۔گلی میں ایک نیا حمام کھل گیا تھا۔دکانوں کے تھڑوں پر پڑا سامان دیکھتے ھوئے وہ سوچ رھا تھا کہ شاید وہ گلی بھول گیا ھے۔سب کچھ نیا نیا اور خوبصورت تھا۔دراصل آج وہ موبائل فون گھر بھول آیا تھا۔

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *