فیس بُکی حسینہ اور خود کلامی

میری جان ! تم مجھے شاعری کے ایک گروپ میں کسی پوسٹ پر ملیں۔ تمہاری پروفائل فوٹو میں اک عجیب سی کشش تھی۔ نا جانے کیوں دل تمہاری طرف کھنچتا چلا گیا۔انتہائی شریف النفسی کا عدیم المثال مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے پوسٹ پر سلسلہ کلام کو آگے بڑھایا۔ آہ۔۔ وہ لمحے، میرے کی بورڈ کے بٹنوں پر آج بھی مقید اک یاد ماضی کی صورت زندہ ہیں۔ تمہارے جوابی کمنٹس کے لفظوں سے چھنتی مسکراہٹ اور آنکھوں کی شرارت کو میں بھانپ گیا اور انباکس میں گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔آج بھی میسنجر اپ ڈیٹ کرتے ہوئے یا کسی سے انباکس میں بات کرتے ہوئے میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ مجھے بلال حسن بھٹی اور سردار معظم میں بھی تم نظر آتی ہو میری جان۔

میں نے حروف کے جتنے ساغر تھے لفظوں کے طوفان کی صورت انگلیوں کی پوروں کی سرعت سے بذریعہ کی بورڈ تمھارے موبائل کی سکرین پر میرے رومانی جملوں کی صورت اتار ڈالے۔ تمام فلموں کے ڈائیلاگ اور امراءالقیس سے وصی شاہ تک جتنے شعرا کے قطعے یاد تھے سب تمہاری توصیف میں کہے دئیے ۔میں نے خود کو خطہ ارضی کے ساڑھے تین بلین مردوں کو برا اور خود کو اچھا ثابت کرنے کے لئے دنیا کی ہر چالبازی کا سہارا لے کر تمہیں رام کیا۔

جاناں ! یورالوجسٹ کے پاس بغرض علاج جاتے ہوئے اور ممنوعہ پکوڑوں سے اٹھنے والی خوشبو سے تڑپتے ہوئے مجھے آج بھی وہ لمحے یاد آ جاتے ہیں جب پیشاب روکے میں تم سے محو کلام رہتا تھا۔عائلی زندگی میں پشیمانی اور جوڑوں کے درد کی صورت آج بھی تم میرے وجود میں زندہ ہو۔ جتنے حکیموں سے شناسائی ہے، سب تمہاری مرہون منت ہے میری جان۔۔!

وہ تصویریں جو تم نے مجھے بھیجی تھیں اور ڈلیٹ کرنے کا وعدہ لیا تھا وہ آج تک میرے دماغ کی گیلری میں اک حسین خواب کی صورت موجود ہیں۔میرا بستر اور بیت الخلاء ابھی بھی سن سلک کی خوشبو سے مہک رہا ہے جو تمہاری تصویروں میں ریشمی بالوں اور گردونواح کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ وہ لفظ جو تمہاری محبت میں اک جرم کی مانند کی بورڈ کے سینے پر سرزد ہوئے، آج بھی سافٹ وئیر انجینئر کے ادھورے سپنے کی طرح زندہ ہو جاتے ہیں، جو ورکشاپ میں بیٹھا کی بورڈ مرمت کرتا ہے اور مائیکرو سافٹ میں ملازمت کے خواب دیکھتا ہے۔

پیشہ ورانہ ٹائپنگ کی بجائے کی بورڈ مرمت تک پہنچانے والا واحد سبب رومانوی ٹائپنگ کا جرم ہو گا، میں سوچتا ہوں۔۔۔جاناں !میرے لیپ ٹاپ سے لے کر ٹیبلٹ اور اینڈرائڈ موبائل تک ہر ڈیوائس میں تمہاری مہک حبیبی کے پلیٹر سے اٹھتی خوشبو کی طرح زندہ ہے۔مگر آہ افسوس۔۔ کہ لا ہور کے مٹن میں بکرے کی بجائے حضرت حمار کی طرح تم بھی جاناں کی جگہ جان محمد نکلے۔۔

تب سے میری جان پر بنی ہوئی ہے ۔۔۔ تم میرے کی بورڈ کے بٹنوں سے لے کر دماغ کے نتھنوں تک ایک ایسی غلط فہمی کی مانند موجود ہو جو جعفر حسین کے خواب سے ہونے والی نعیم الحق کی غلط فہمی سے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ سنیاسی ہے۔

جاناں ! میں سوچتا ہوں تم مملکت فیس بک کے کسی حسین گروپ میں کسی کمینے کو شرافت کے بکل میں لپٹنے پر مجبور کر کے اسے اپنی اداؤں کے چنگل میں پھنسائے سن سلک شیمپو کی کھپت میں اضافے کا سبب بن رہی ہو گی، آہ میرے جان محمد۔۔۔ میری جاناں!

کاش تم وہی ہوتی جس کی خاطر میں ڈگری فیل ہوا، یورالوجسٹ کا مستقل گاہک ہوا، کی بورڈ مرمت کرنے پر مجبور ہوا۔اب پھر سے اک جاناں کا اسیر زلف ہوں۔۔ اس امید پر کہ کاش اس دفعہ جان محمد نہ نکلے!!!

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *