مذہب کے ٹھیکیداروں کے نام

سنو !اے فتویٰ بردارو۔۔
خدا کی فوج کے بندوں،
تمہارا کیا تعلق ہے ؟؟
میری ہستی کے گلشن سے،
میری دانش کے آنگن سے،
ارے او ، دیں نما بے دیں دکاں دارو۔۔
علم کے دشمنو، چوروں، دغابازوں،
تمہیں مطلب ہی کیا آخر ؟؟
میرے وجداں کی کھیتی سے،
میرے عرفاں کی چلمن سے،
سنو، حوروں کے دلدادوں۔۔
سنو اے فہم بربادوں
تم آخرجانتے کیا ہو ؟؟
میرے اور میری ہستی سے جڑے
اس شہر میں کتنی زمینیں ہیں۔۔
یہاں پر کتنے دن راتوں میں
اور راتیں دنوں میں
تمہاری فتویٰ بازی کے تماشے سے
یونہی تبدیل ہوتے ہیں۔۔
فہم تحلیل ہوتے ہیں۔۔
سنو اے ظلمتِ دیجور کے ماروں،
خدا کی فوج کے بندوں،
مجھے کافر ہی رہنے دو۔۔
مجھے کافر ہی مرنے دو۔۔
خدا کے پاس جانے دو۔۔
میں اس کو خود بتا دوں گا،
میرے ایمان کا قصہ!!!

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *