لوڈشیڈنگ کا جواز کیا ہے؟

لوڈشیڈنگ کا جواز کیا ہے؟
طاہر یاسین طاہر
بیانات،دعوے اور وعدے ایک شے ہے،ان پہ عمل درآمد ایک دوسری شے۔آخر الذکر مشکل ہے ۔وعدہ کرنا،امید دلانا ،مہنگائی ختم کرنا،روزگار کے مواقع پیدا کرنا،دہشت گردی کا خاتمہ اور راتوں رات بجلی پیدا کرنے کے سارے ہنر سیاسی قیادت کو آتے ہیں۔ بالخصوص پاکستان مسلم لیگ نون کو،کہ اسی وعدے پہ 2013 کے انتخابات میں حکمران جماعت نے اپنی سیاسی مہم چلائی تھی اور کامیابی حاصل کی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں توانائی بحران اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔آئے روز لوڈشیڈنگ کے خلاف پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لوڈشیڈنگ کے خلاف کئی مظاہروں کی خود قیادت بھی کی تھی۔مینارِ پاکستان کے نیچے میاں شہباز شریف نے ایک احتجاجی کیمپ بھی لگایا تھا جسے انھوں نے ایک طرح کا اپنا دفتر ہی قرار دے دیا تھا۔پنکھی جھولتے ہوئے چھوٹے میاں صاحب دفتری امور نمٹاتے ہوئے میڈیا پہ دکھائے جاتے۔انتخابی مہم کے دوران میں مسلم لیگ نون نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ کیا۔میاں شہباز شریف کا یہ بیان ریکارڈ پہ ہے کہ ہم 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے۔ بعد ازاں اس مدت کو کھینچ کر ایک سال تک لے جایا گیا۔میاں نواز شریف نے خطاب کیا تو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی اس مدت کا دامن دو سال تک کھینچ لیا۔مگر جب نون لیگ ،وفاق اور ایک بار پھر پنجاب میں اقتدار میں آئی تو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی اس مدت کو 2018 تک کھینچ لیا۔
نون لیگ کو اپنے وعدے کی بساط پھیلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟کوئی اعداد و شمار جمع کرے تو ہوش ربا ہیں۔ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگا واٹ تک جا پہنچا ہے۔بجلی کی طلب اور رسد میں تکلیف دہ فرق پایا جاتا ہے اور اس فرق میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔
جوشیلے نعروں میں مگر ان کا کوئی ثانی نہیں؟کہا کہ اس قدر بجلی پیدا کریں گے کہ مودی کو بھی فروخت کریں گے۔کوئی اللہ والا صرف اتنا ہی پوچھ لے کہ وہ نندی پور پاور پراجیکٹ سے کتنی بجلی پیدا کی گئی ہے؟توانائی کے بہت سے پراجیکٹس چل رہے ہیں۔دکھ اس بات پہ ہوتا ہے کہ ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے حکومتی وزرا پھر سے “گولی “دے رہے ہیں۔ایک حکومتی وزیر کا کہنا ہے کہ نومبر میں لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے۔سوال یہ ہے کہ حضور اب کیوں نہیں؟گذشتہ ایک دھائی سے ملک توانائی بحران کا شکار ہے۔لوڈشیڈنگ اب بھی اتنی ہی ہو رہی ہے جتنی پیپلز پارٹی کے عہد میں ہوتی تھی۔ پیپلز پارٹی مگر بدنام بہت ہے کہ میڈیا میں اس کے ہمدرد کم ہیں۔ نون لیگ کی حکومت آئی تو ابتدا میں انھوں نے بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو اربوں روپے ادا کر کے ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول دیا۔ عام آدمی کو امید ہو چلی تھی کہ دو برسوں میں یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔ایسا مگر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف جب وفاقی وزیر بجلی و پانی تھے تو انھوں نے “رینٹل” طریقے سے بجلی بحران کو حل کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے یہ وعدے بھی کیے اور تسلسل سے کیے کہ 31 دسمبر 2009 کو لوڈشیڈنگ بالکل ختم کر دی جائے گی۔اس وقت بھی اخبار نویس کا سوال یہی تھا کہ اگر 31 دسمبر2009 کو لوڈشیڈنگ مکمل ختم ہو جائے گی تو اس خاتمے کے آثار جون جولائی 2009 میں ضرور نظر آنے چاہیں، یعنی اگر 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی تو اسے کم ہو کر 6 گھنٹے پہ آ جانا چاہیے۔یہی سوال مسلم لیگ نون سے بھی ہےکہ اگر آپ نے لوڈشیڈنگ 2018 میں مکمل طور ختم کر دینی ہے تو 2017 میں اس کے آثار ضرور نظر آنے چاہیے۔2018 میں ختم ہونے والی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 2017 میں تو کم ہو کر 4 گھنٹے ہونا چاہیے۔مگر صورتحال اس کے بر عکس ہے۔دیہاتوں میں 16 گھنٹے اور شہروں میں 12 گھنٹے شیڈول لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔فورس لوڈشیڈنگ اس کے علاوہ ہے۔میڈیا نے ایک نئی اصلاح متعارف کروائی ہوئی ہے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ۔اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ملا کر بعض دیہاتوں میں تو 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔بیشتر پیداواری یونٹ بند ہیں۔یہ سوال بڑا اہم ہے کہ حکومت اگر غیر اعلانیہ کے بجائے اعلانیہ 16 سے 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ شروع کر دے تو کیا قبول کر لی جائے گی؟بالکل نہیں۔
مسئلہ اعلانیہ یا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نہیں بلکہ مسئلہ ظالمانہ لوڈشیڈنگ کا ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔صرف سی پیک اور میٹرو ہماری ضرورت نہیں۔ ہم ایک مکمل معاشرہ ہیں اور اس معاشرے کی ضروریات بھی ترقی یافتہ سماج جیسی ہی ہیں۔حکومت کو پاناما لے ڈوبے یا نہ،مگر لوڈشیڈنگ لے ڈوبے گی۔کیا اب بھی خادم ِ اعلیٰ مینار پاکستان تلے ایک ادنیٰ کا احتجاجی کیمپ لگائیں گے؟حکومت 2018 میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ کر چکی ہے، اس وعدے کی بنا پر 2017 میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3 سے 4 گھنٹے ہی ہونا چاہیے،مگر ابھی تو موسم گرما کی ابتدا بھی نہیں ہوئی اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا۔ کیا رمضان المبارک میں بھی اسی طرح لوڈشیڈنگ جاری رہے گی؟ قرائن یہی بتاتے ہیں۔بجلی کی پیداواری کمپنیوں کے ساتھ حکومت کا لین دین بھی اس لوڈشیڈنگ کی ایک وجہ ہے،مگر یہ بنیادی وجہ نہیں۔وعدوں اور دعووں کی سوغات بیچنے والوں کے پاس نہ تو لوڈشیڈنگ کا کوئی جواز ہے نہ کسی نئےوعدے کی بنیاد۔اس کے باوجود بڑی ہنر مندی سے کہا جا رہا ہے کہ اس سال کے آخر میں لوڈشیڈنگ کم کر دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ حضور ابھی سے کیوں نہیں؟

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *