نفرت سے محبت یا محبت سے نفرت.ایک ہی بات ہے

نفرت سے محبت یا محبت سے نفرت.ایک ہی بات ہے
فارینہ الماس
کہتے ہیں جب بپھرے ہوئے بھیڑئیے اسے اپنے انتہائی بے درد اور مکروہ احساس کے نوکیلے دانتوں تلے بھنبوڑ رہے تھے۔۔۔۔ اس وقت تک کہ جب ابھی اس کی آتی جاتی سانسیں زندگی اور موت کے درمیاں اٹکی پڑی تھیں۔۔۔جب ابھی اس کی ادھ کھلی آنکھیں کسی نجات دہندہ کی راہ کی امید اپنی جلتی بجھتی لو میں سمیٹے ہوئے تھیں ۔۔۔جب کوئی بھی ذی روح اس کے ادھ ادھڑے وجود کو دیکھ کر لرزا نہ تھا ۔۔۔ یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بھی مسلی جا چکی تھیں۔۔۔ لیکن دل تھا کہ مسلی ہوئی امید پہ انسانوں کی بے حسی کا کفن ڈالنے کو تیار نہ تھا شاید اسے آس تھی کہ اس پر تشدد ہجوم کو ہٹانے کوئی نا کوئی ضرور آگے بڑھے گا ۔۔۔لیکن کوئی بھی اس کی ڈھال بننے یا اسے بچانے کی نیت سے آگے نا بڑھا تھا۔۔۔کچھ لوگ اسے جہنم واصل کرنے کو ڈنڈے اور پتھر بر سا رہے تھے ۔
کچھ لوگ بھاگ بھاگ کر وہاں آتے اور یہ دلخراش یا شاید ان کے لئے دل چسپ و دل کش نظارہ دیکھنے کو اکٹھا ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔تو کچھ اس کی تصویر کشی کا نادر موقع گنوانا نہ چاہ رہے تھے ۔اور جو باقی تھے وہ ان درندوں سے ذرا فاصلے پہ کھڑے بس اتنا کہہ دینے پر اکتفا کر رہے تھے ”اچھا ہے کافر اپنے انجام کو پہنچ گیا“۔۔۔۔۔ کیا وہ انسان اتنا ہی قابل نفرت تھا کہ اس کے گھائل ۔۔زخموں سے چور۔۔لہو سے لت پت اور ادھ جان وجود سے بھی نفرت کی جاتی ۔۔؟ جب کہ اس کے سر پہ دھرا گیا الزام تو تاحال ثابت نہ ہو سکا۔ اس کا کوئی قصور ابھی تک سامنے نہیں آرہا وہ ان دیکھا ان سنا قصور جو اس کے لئے وجہءقتل بنادیا گیا ۔ ۔۔۔۔ نہیں یہ قتل جذبہءحرمت رسول کو دکھانے یا بچانے کی خاطر نہیں کیا گیا ۔۔یہ قتل کسی کے طیش دلانے پر بھی نہیں کیا گیا۔ یہ قتل اپنی اپنی وحشی جبلت کو تسکین دلانے اور اپنے اندر پلنے والی انسانی نفرت کو اس کا اظہار دینے کے لئے کیا گیا۔۔۔یا شاید یہ قتل ” نفرت سے محبت یا محبت سے نفرت کو نبھانے کے لئے کیا گیا ۔۔۔ورنہ کوئی تو ایسا دل بھی ہوتا جو سوچتا کہ اگر کہیں یہ شخص بعد میں بے قصور نکلا تو وہ سبھی اپنے ہاتھ میں اٹھائے اور اس کی طرف اچھالے ہوئے پتھر کا حساب کیسے دے پائے گا۔۔۔۔۔؟
یہ آج کی بات ہی کہاں ہے۔ ہم انسان تو نفرت سے اپنی محبت ازل سے ہی نبھاتے چلے آ رہے ہیں ۔جب اماں حوا کی اولاد میں سے قابیل نے اپنی رقابت کی آگ بجھانے کے واسطے ہابیل کو قتل کیا تو حسد کی ایک ایسی بری صفت وجود میں آئی جس نے قابیل کے وجود میں جذبہءانتقام کے طور پر شعلہ ور ہو کر اسے ایسی سفاکی پر مجبور کیا کہ پھر انسانی سرشت اس منفی جذبے سے خود کو کبھی بھی جدا نہ کر سکی ۔ ایسی ہی ایک نفرت کی لہر تیرہویں صدی عیسوی میں اٹھی جس نے منگولوں کی قتل و غارت گری کی صورت بحرالکاہل سے وحشت کے ایک ایسے سلسلے کو جنم دیا جو آخر کار بحیرہ روم کے کناروں تک پھیل گیا۔انسانی نفرت کا شکار ریڈ انڈینز کی بدترین نسل کشی کرنا،ہیرو شیما میں ڈیڑھ لاکھ اور ناگا ساکی میں پچھتر ہزار لوگوں کے خون اور گوشت کے لوتھڑے جان بوجھ کر اڑانا ۔ہٹلر کی مردم خوری کا چھ ملین انسانوں کو نگل جانا ۔۔۔
یہ سب ہمارے اندر پلنے والی ان وحشوں کی مثالیں ہیں جن کا شکار انسان ہی کے ہاتھوں انسان ہوئے ۔ ۔۔ایک طویل اور کبھی نا ٹوٹنے والا سلسلہ ہے ،ہماری وحشی تاریخ کو کھنگالنے کے لئے دو عالمگیر جنگوں کے خون آشام ماہ و سال ہی بہت ہیں۔۔ کیسے کیسے خواب دیکھنے والی آنکھیں اجاڑ دیں ہم نے۔۔محبت کے گیت بکھیرتی لہلہاتی فصلوں کی دھرتی پر کس سفاکی سے نفرت کی بے ثمر اور کلر ذدہ مونج اگا دی ہم نے ۔ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانا،کشمیر،فلسطین۔افغانستان اور شام میں ماﺅں کی گود اجاڑنا کیا یہ سب اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہم انسان کے گرم گرم ابلتے لہو کی بو باس کے عادی ہو چلے ہیں۔ ہمیں خون کے دریا بہانا،انسانی بدن کو نوچنا،انسان کے سرسبز خوابوں کو خاک کر دینا۔اپنی اپنی جھوٹی اناﺅں اور خود پسندی کے آستانوں پر زندہ ،جیتے جاگتے انسانوں کی بلی چڑھانا اچھا لگتا ہے ۔ہم اپنے نظریات اور فلسفوں کو بچانے کی خاطر انسانی لاشیں بچھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ہم نے جنگلوں سے نکل کر معاشرت کے نئے اسباق تو سیکھ لئے لیکن ہم کبھی بھی اپنے اندر کی فطری وحشت کو لگام نہ ڈال سکے ۔علم اور شعور کی منزلیں عبور کر لینے کے بعد نظریات اور فلسفوں کے تضاد نے ہمیں گھیر لیا ۔اور پھر انہی کے دفاع کی آڑ میں کبھی مذہب تو کبھی سیاست کو بچانے کا ڈھونگ رچاتے ہوئے ، تو کبھی محض زمین کے ٹکڑے کے حصول کی خاطر ہم باہمی عناد اور دشمنی کو جنگوں اور لڑائیوں سے نبھاتے رہے۔لیکن کبھی بھی بربریت کے اصولوں کو اخلاقی ضابطوں اور صحیفوں میں ڈھال نہ سکے ۔ کبھی ابو غریب اور گوانتا نا موبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں کئی بے گناہوں سے انسانیت سوز سلوک کر کے انسانی تضحیک کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں۔تو کبھی داعش کی صورت انسان کے چیتھڑے اڑاکر اپنے مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے ۔ ہمارے کل اور آج کی انسانی نفرتوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے سفاکیت حکومتی و ریاستی اقدامات سے چھلکتی تھی اور آج سفاکیت ہر گھر اور ہر گلی کوچے میں اتر چکی ہے۔آج وحشت کا سلسلہ کسی ایک سمت دکھائی نہیں دے رہا ۔اس کے پھیلاﺅ کا ذمہ وار اتنا ہی مغرب بھی ہے جتنا کہ مشرق ،اتنا ہی شمال بھی ہے جتنا کہ جنوب۔ ابھی چند روز قبل ہندو دلتوں کی دو عورتوں کو بے لباس کر کے ان کے ننگے بدن پر لوگوں کے ایک ہجوم کو پتھر اور ڈنڈے برساتے دکھاتی ہوئی ایک ویڈیو گردش کر تی رہی ، تو تھوڑے ہی دن پہلے برازیل کی ایک ناتواں اور بے ہمت سی مخنثہ dandara dos santos کے لاغر و ناتواں وجود پر چھ اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں میں پکڑے پتھروں اور بھالوں سے ڈھائے گئے تشدد کا دل سوز نظارہ بھی دکھائی پڑا ۔اس کا خون آلود وجود انسان کی درندگی کا کھلا ثبوت تھا ۔ جسے آخر کار موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا ۔ ۔افریقہ کے کسی قصبے کی وہ عورت ۔۔۔جسے خاوند کی حکم عدولی کے نتیجے میں خاندان بھر کے افراد باری باری ڈنڈوں سے پیٹتے رہے اور وہ چیختی چلاتی اپنے درد کا اظہار کرتی رہی۔شاید یہ اس قبیلے کی ایک روایت تھی کہ عورت کو اس کی حکم عدولی کے نتیجے میں اسی طور پیٹا جاتا تھا ۔گائے کے ذبیحہ پر انسانوں کی کھال اتارتے ہندو کس مذہب کے پاسدار ہیں ؟،اور جھوٹے الزام کی آڑ میں کسی کو مصلوب کرتے مسلمان کس مذہب کے داعی ہیں ؟کیا دنیا کا کوئی بھی مذہب انسانوں سے نفرت سکھاتا ہے ؟ نہیں مذاہب تو انسان کی وحشت کو لگام دینے کو اتارے گئے ۔ اور آج انسان نے اسے اپنی اسی وحشت کے اظہار کے لئے آڑ بنا رکھا ہے۔ کمال ترقی ہے یہ کہ اب ظلم کا تعلق صرف جہالت سے نہیں رہا بلکہ باشعور اور اعلیٰ تعلیم کا حامل طبقہ بھی اب خونی اور وحشی طبقے کا درجہ پاچکا ہے۔
ہماری ترقی نے ہمیں پہلے سے بھی ذیادہ ظالم و سفاک بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے سماجی رابطوں نے ہمیں اعتدال پسند اور متحمل مزاج بنانے کی بجائے ہمیں پہلے سے کہیں ذیادہ شدت پسند بنا دیا ہے ۔جہاں ایک طرف تو نورین لغاری کو نیٹ کی جھوٹی دوستی کے ذریعے اس کی برین واشنگ کر کے دہشت گردی کا آلہءکار بنانے کی سازش رچائی جاتی ہے تو دوسری طرف منکرین کا ایک گروہ بھینسا اور موچی جیسی بدنام زمانہ شر انگیز جسارتوں سے نوجوانوں کو ورغلانے اور اپنا ہم خیال بنانے میں دن رات جتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب خونی منصوبوں کی بچھائی بساط کے وحشی مہرے بن کر کشت و خون کے دریاﺅں کے اندھے راستے بنانے میں مگن ہیں ۔ لیکن اس سے بھی کمال بات ہے یہ کہ ہم سب خاموش تماشائی ہیں اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بقول ساحر کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خاموش رہے تو اس دمکتے ہوئے خاک داں کی خیر نہیں زمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیں گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں گذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں ۔۔۔۔۔۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *