عبدالحنان ارشد کی تحاریر
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

میڈیا

مدرسوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔ بظاہر تو ان کی گذر بسر کا کوئی اسباب نظر نہیں آتا۔ کس طرح اپنا اور طالبِ علموں کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ میں نے بیان دیا۔ میڈیا کے سبھی حلقوں میں مجھےکافی پذیرائی←  مزید پڑھیے

تقسیم در تقسیم

ہمارے یہاں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ آپس میں نفرت کے جذبات تھے۔ پھر ہم نے الگ ملک حاصل کر لیا اور خوشی خوشی رہنے لگے۔ کوریا کے صدر کا بیان پڑھا اخبار میں۔۔۔ میں سوچا ہم نے بھی خوشی کے←  مزید پڑھیے

پاکستانی

شہر کے ایک مقامی سکول کی سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات تھی۔ جس میں،میں بھی مدعو تھا۔ ۹ بجے کا وقت تھا اور ۱۰ بجے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سب سے پہلے سٹیج سیکر ٹری نے انگلش میں←  مزید پڑھیے

سچ

میرا دوست کافی عرصے بعد انگلستان سے آیا۔ سکول کے دنوں میں ہی پردیس چلا گیا تھا۔ واپس آیا تو مجھے بھی ملنے آیا۔ باتوں سے بات نکلی تو کہنے لگا۔ انگلستان میں سچ بولنے کی بہت تلقین کی جاتی←  مزید پڑھیے

انٹرنیٹ

انٹرینٹ کا انقلاب آیا۔ جس کو آہستہ آہستہ دوام آنا شروع ہوا تو ہر ذی نفس نے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ میں نے بھی اِسے اپنا دوست بنا لیا۔ کسی بارے میں بھی معلومات چائیے ہوتی۔ اِس←  مزید پڑھیے

لیٹ

لیٹ میس میں کھانا روزانہ دیر سے آ رہا تھا۔ شکایت کی اگلے ہی دن میس میں نئی کرسیاں آگئیں۔ کچھ فرق نہ پڑا تو دو دن بعد دوبارہ شکایت کئی گئی اس شکایت کے بعد میس میں بڑی سکرین←  مزید پڑھیے

قوم کا لہو گرمائے گا؟

23مارچ کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ ِاسی کے پیشِ نظر یونیورسٹی میں22 مارچ کو تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا مقصد نوجوان نسل میں اِس دن کی اہمیت کا اجاگر کرنا تھا۔ کسی نے←  مزید پڑھیے

آخری ہچکی (سو لفظوں کی کہانی )

۲۳ مارچ کے موقع پر یونیورسٹی میں ایک بہت بارونق محفلِ کا اہتمام کیا گیا۔ ایک شخص کو سٹیج پر بلایا گیا، بتایا گیا وہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کے موقع پہ وہاں موجود تھا۔ اس کی سرخ ہوتی آنکھیں بتا←  مزید پڑھیے

ہم عوام

ملک کے نظام کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ حکمرانوں کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ عوام کا پرسونِ حال نہیں۔ حکمرانوں کو عوام کی فکر ہی نہیں ہے۔ اپنی عیاشیوں کا سامان ہونا چاہئے۔ باقی ملک میں جو مرضی←  مزید پڑھیے

قانون کی پاسداری

ملک کے نظام کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ حکمرانوں کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ عوام کا پرسونِ حال نہیں۔ حکمرانوں کو عوام کی فکر ہی نہیں ہے۔ اپنی عیاشیوں کا سامان ہونا چاہئے۔ ملک میں جو مرضی ہو←  مزید پڑھیے

اتفاق

ہاسٹل کے کامن روم میں مرضی کا ٹی وی چینل دیکھنے پر پُرزوربحث جاری تھی۔۔ کسی بھی چینل کو دیکھنے پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا۔ ایک نیوز چینل لگایا گیا تو دوست بولا یہ گورنمنٹ کا چینل ہے←  مزید پڑھیے

کافر کافر

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر مختلف ملک کے لوگوں کو قریب لانے،اخوت کا جذبہ اور باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ایک گروپ بنایا گیا۔ جس میں ایک سوال پوچھا جاتا اور تمام گروپ کے ممبر اس پر←  مزید پڑھیے

خدا کی مرضی

100 لفظوں کی کہانی ہمارے یہاں ایک دفعہ بہت بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ نہیں بیٹھے، سدِباب کے لئیے اقدامات کئیے۔ اس کے بعد ,،آج تک ہمارے ملک میں کوئی ایسا دہشت گردی کا←  مزید پڑھیے

سستا خون

میں جب سے وقاص اور حسن کےساتھ رہ رہا تھا, گھر کم اور چڑیا گھر زیادہ لگتا تھا۔ دونوں کو جانور پالنے کا شوق تھا۔ ایک دن ایک جانور گاڑی کے نیچے آگیا۔ مرتا کیا ناکرتا مجھے ہی اُس کو←  مزید پڑھیے

سیاستدان (100 لفظوں کی کہانی )

جاوید میرے بچپن کا دوست تھا۔ کسی بھی بات سے، یا انسان سے اپنا مطلب کیسے نکالنا ہے اس میں وہ کمال کی مہارت رکھتا تھا۔ زندگی میں کچھ بننا چاہتا تھا۔ ہر دفعہ ناکام ہوجاتا۔ شاعر بننے کے کوشش←  مزید پڑھیے

اچھا مستقبل (100 لفظوں کی کہانی)

مجھے بچپن سےاپنےمستقبل کی فکر تھی۔ پتانہیں کیا ہو گا میرے ساتھ زندگی میں۔ افراتفری کا عالم میرے خوف میں اضافہ کرتا رہتا تھا۔ اپنے مستقبل کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے حسین احساس کومحسوس کرنا چاہتا تھا۔ ہر کسی←  مزید پڑھیے

قائد تیرا اک اشارہ( 100 لفظوں کی کہانی )

کراچی کی سرزمین پہ قدم رکتھے ہی قائد سے ملنےکیلئے روانہ ہوا۔ قائد سے مزار کی سیڑھیوں پر ملاقات ہوگئی قائد نے بڑے تپاک سے گلے لگایا۔ قائد:میرے ملک اور قوم کا کیا حال ہے. میں: قائد آپ کے لوگ،←  مزید پڑھیے

دانشور بنا دوں۔ (100 لفظوں کی کہانی)

میری خواب میں اس سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا وہ لوگوں کی خواہشات پوری کرتا ہے۔ میں : کیا تم میری بھی خواہش پوری کر سکتے ہوں؟ وہ: اسی ليے تو تمہارے پاس←  مزید پڑھیے

ترجیحات

دو سو ارب کا دفاعی سامان خرید کر ملک کا دفاع نا قابل تسخیر بنا دیا گیا ہے۔وزیر دفاع کا بیان خارجہ پولیسی پہ خصوصی توجہ دی ہے۔ ہمسائے ممالک سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ جو کہ اپنے آپ میں←  مزید پڑھیے

نیا سال (100 لفظوں کی کہانی)

ہر نئے سال کے آغاز پہ ہم لوگ منصوبہ بندی کرتے ہیں ، پورا سال اس پہ عمل کرتے ہیں۔ اس سال کو کتب کا سال قرار دیا گیا ہے۔ ملک کا ہر باشندہ کم از کم 10 کتابیں پڑھے←  مزید پڑھیے