محمد جاوید خان کی تحاریر
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

چلے تھے دیو سائی ۔۔جاویدخان/قسط9

بابُوسَر بابُو سَر135000فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔مغر ب کے قریب ہم بابو سَر پہنچے تو چند دکانوں پر مشتمل بازار گلیشری ہواؤں میں ٹھٹھر رہا تھا۔گاڑیوں کی ایک لمبی قطار آگے جانے کے لیے انتظار میں تھی مگر آگے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔ جاویدخان/قسط 8

جھیل لُولُوسَر: اگر وادی ِ لُولُو سَر کوایک اَلہڑ کہساری دوشیزہ مانیں تو جھیل لُولُو سر اُس کی وہی نیلی آنکھیں ہوں گی جس کے ذکر سے ہماری رومانوی نثر اور شاعری بھری پڑی ہے۔ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے حُسن←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔ جاویدخان/قسط7

جل کھنڈ 50100۱فُٹ کی بلندی پہ واقع ہے۔یہاں کوئی بڑا بازار نہیں۔یہ ایک کہساری وادی ہے۔سڑک سے ذرا نیچے دریا ء ایک آب جو کی شکل میں بہہ رہا ہے۔ہم بسم اللہ ہوٹل کے سامنے رکے۔یہ ہوٹل دیار کے تراشیدہ←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔جاویدخان/قسط6

ناران بازار دریا کُنہار کے کنارے آباد ہے۔بازار کے آغاز ہی میں خیمہ بستی ہے اور ہوٹل ہیں۔شہر دواطراف سے پہاڑوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔جِست کی چادروں جوفولادی ستونوں پہ کھڑی تھیں اُن کے نیچے بجری پہ←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔جاویدخان/قسط5

اس سارے علاقے میں مچھلی کے فارم بنائے گئے ہیں۔مچھلی کی صنعت کو اس شفاف پانی والے علاقے میں مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مچھلی کی مانگ اس وقت پوری دنیا میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔یوں ضرور ت اور معیشت←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔جاوید خان/قسط4

دریاکنارے جابجا مکئی کے کھیت پھیلے تھے اور ان کے سروں پر ترشول نما سِلے نکل آئے تھے۔چھلیوں میں فطرت نے دانے بھرنے کاعمل شروع کردیا تھا۔ مکئی کے پودے اپنے پھلنے پھولنے پہ خوش نظر آرہے تھے وہ مست←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔ جاویدخان/قسط3

ہماری گاڑیاں رُکیں تو ذوالفقار علی بھٹو برج (پُل)کے  کنارے پر۔جیسے پل نے کہا ہوابھی اس سے آگے جانا منع ہے۔پل کے آغاز میں ایک افتتاحی کتبہ (بورڈ) لگا تھا۔عمران رزاق اے۔ٹی۔ایم مشین سے کچھ اُگلوانے چلے گئے سڑک پار←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی،قسط2۔۔۔ جاوید خان

سورج پہاڑوں کی اوٹ سے مسلسل تیرتا ہوا اُوپر آ رہا تھا۔ پرل پہ دھلی ہوئی صبح کااُجالا پھیل چکا تھا۔طاہر صاحب کو ہم نے راستے سے اُٹھانا تھا۔قافلہ یاراں کے اس آٹھویں راہی کو اُترائی کے اک موڑ سے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان

خُوبصورت پگڈنڈیوں ،ڈھلوانوں پہ بسے گاؤں ،جہاں سارے گھر کبھی کچے تھے میں نے شعور سنبھالا۔میرے کچے گھر کے سامنے سیبوں کا گھنا باغ تھا۔بہار میں سیبوں پہ پھول آتے تو بھنورے  ،شہد کی مکھیاں اِن پہ لپک آتیں ۔کچے←  مزید پڑھیے

کَٹے اور بَچھے۔ جاویدخان

کَٹا بھینس کالاڈلا بچہ ہوتا ہے اور بَچھہ گائے کا چہیتا۔جب تک کوئی بھینس کَٹا نہیں دے گی تو وہ دُودھ نہیں دے گی،بالکل ایسی ہی ضد گائے کی ہے۔دونوں کا دُودھ کَٹے او ر بَچھے سے لگا بندھا ہے۔حالانکہ←  مزید پڑھیے

جنت میرے اجداد کا گھر ہے

انسان نے ہمیشہ اپنے سے برتر ہستی کاوجود تسلیم کیا ہے۔پھر اُس کے متعلق طرح طرح کی خیال آرائیاں کی ہیں۔جتنی زبانیں اتنے ہی اُس کے نام ہوئے۔وقت کے ساتھ ساتھ انسان کاخُدائی تصور ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا۔مناجات←  مزید پڑھیے

سرحد

بچپن سے میں اپنے کچے گھر کی مشرقی دیوار کے ساتھ لگے اک پتھر پہ بیٹھا کرتا تھا۔ سامنے بالکل ایک دم پیالہ نما وادی پر ل سے نظریں اُٹھتی ہیں تو پُشت بہ پُشت پہاڑوں کا یک سلسلہ کھڑا←  مزید پڑھیے

ہیڑ اور کَس

ہیڑ اور کَس جاوید خان چیت کی بارشیں ہم پہاڑیوں کے لیے ہمیشہ خطرے کی گھنٹی ہوتی تھی۔سرمائی خطوں میں سکول کالج جنوری فروری میں بند رہتے ۔بھاری برف باری معمولات زندگی معطل کردیتی تھی۔مارچ میں برف کاسلسلہ ختم ہو←  مزید پڑھیے

سُریلی دُنیا کے باسی خطرے میں

سُریلی دُنیا کے باسی خطرے میں جاویدخان میں نے ہمیشہ ساون کو نرم او ردھیما محسوس کیا۔ساون کی دھیمی بارش ایک ایک پتی کو نہلاتی ہوئی زمین کے اندر تک اُتر جاتی ہے۔چیت کے سرکش بادلوں اور ساون کی پھُواروں←  مزید پڑھیے

ڈکار

ہماری تمام اُردو لغتوں کے مطابق ”ڈکرانے“ اور ”ڈکارنے“ کا آپس میں کسی بھی قسم کا کوئی خاندانی رشتہ نہیں ہے۔ڈکار وں کی کئی ایک شکلیں ہیں مگر دو زیادہ معروف ہیں بدبودار اور بے بُودار۔ سائنس کی وہ تھیوریاں←  مزید پڑھیے