محمد جاوید خان کی تحاریر
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

چلے تھے دیوسائی۔۔۔جاوید خان

رَامہ میدان: ہماری گاڑیاں خُوبصورَت ڈاک بنگلوں کے سامنے جارُکیں۔بائیں طرف ڈاک بنگلے ایک چبوترا نما جگہ پر ایک دوسرے کے پہلو میں ہیں۔ دائیں طرف ایک بڑا مُستطیل میدان ہے۔اِس کے چاروں طرف بیاڑ کے درخت، ایک فصیل کی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔۔محمد جاوید خان/قسط20

رَامہ نگرمیں بانسر ی کے اُداس سُر: رَامہ میدان کے آغاز میں سیاحوں کے لیے خیمے لگے تھے۔ایک خیمے سے خُود کار جدید ٹیپ ریکارڈ سے بانسری کی ریکارڈ شُدہ لَے نکل کر پورے جنگل میں پھیل رہی تھی۔یہ لَے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔ جاویدخان/قسط19

پکی پھٹور وں کے درمیان تنگ سُکڑی سڑک : ایک تنگ سی سڑک پہاڑوں پہ چکر کاٹتی اُوپر کو جارہی تھی۔پہاڑوں نے اِسے زیادہ جگہ دینے سے اِنکار کردیا تھا۔نیچے کہیں کہیں کھائی نما گہرائیاں تھیں۔لِہٰذا یہ سُکڑنے پہ مجبور←  مزید پڑھیے

چلے تھے دِیوسائی ۔۔۔۔جاویدخان /قسط18

اَستور بازار ایک نالے کے آر پار واقع ہے۔پار والا حصہ نیم ڈھلوانی سطح پہ کھڑا ہے۔اَستور ضلع ہے۔2004 ء میں اِسے ضلع کا درجہ دِیاگیا پہلے یہ ضلع گلگت کا حصہ تھا۔اَستور 1966   مربع میل ہے۔پُورے گلگت بلتستان←  مزید پڑھیے

چلے تھے دِیو سائی ۔۔۔۔ جاویدخان/قسط17

جگلوٹ: راے کو ٹ سے ۷۲ کلومیٹر کے بعد جگلوٹ آتا ہے۔ایک تنگ سی سڑک شاہراہ ریشم سے بِچھڑ کر دَریائے سندھ کے اُوپر (پُل)سے گُزر تی ہوئی اَستور کو جاتی ہے۔جگلوٹ سے اَستور ۵۵کلومیڑ پڑتا ہے۔شاہراہ ریشم سے اَستور←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔ جاویدخان/قسط16

بابُوسر گاؤں: بابُوسر گاؤں پاکستان کی طرف سے گلگت کاسرحد ی گاؤں ہے۔گاؤں کی حدود میں اُترتے ہی ایسے لگا جیسے ہم وادی نیلم کے کسی گاؤں میں داخل ہو رہے ہوں۔کچے پکے مکانات کچھ سُرخ جِستی چادروں سے بنے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔ جاویدخان/سفر نامہ۔قسط15

دوسرے پہاڑ سے ایک ندی لڑکھڑا تی اُتر رہی تھی اُس کا بجتاترنم سُنائی دے رہا تھا۔لُولُوسَر نَدی کامیدان اَورپہاڑ کِسی قدیم آبی گُزر گاہ کا پتہ دے رہے تھے۔چندقدم آگے تقریباً دس فُٹ اُونچا پتھروں کامینار کھڑا تھا۔ہم نے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔ ۔ جاویدخان/قسط14

آفتاب ہمالیہ پہ: صبح نماز کے لیے بیدار ہوئے۔وقت اذاں کے کافی بعد،برفیلے پانی سے وضو کیااور باجماعت نماز ادا ء کی۔باقی لوگ واپس بستروں پہ لیٹ گئے۔میں نے طاہر یوسف کو اشارہ کیا اُوپر ٹاپ پہ جارہا ہوں۔سورج ابھی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔جاویدخان/سفر نامہ/قسط 13

عظیم ہمالیہ کے حضور: وقت کافی بیت چکا تھا۔درہ بابو سر کی بلندیوں پر گہری اور گاڑھی چاندنی نے سُنہری ملمع کاری کردی تھی۔سُنہری رنگ دُور پاربرفیلی چوٹیوں پہ چڑھ گیاتھا۔ہر شے سُنہری شعاعوں میں نہا رہی تھی۔سارے پربتوں نے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔۔محمد جاوید خان/سفر نامہ/قسط 12

چاندہمسایہ تھا: رات کو تقریباً ڈیڑھ  بجے   آنکھ کُھلی،کمرے میں خراٹے اور سوئی ہوئی سانسوں کی آوازیں تھیں۔میں نے چادر لپیٹی،دروازہ کھولا، پاؤں میں جوگرز پہنے  اور باہر نکل آیا۔سُنہری چاندنی میں سارا پہاڑی منظر نہا رہا تھا۔شما ل←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔محمد جاوید خان /قسط11

باہر نکلتے ہی سردی ایسے لِپٹ گئی جیسے اسے ہمارا ہی انتظار ہو۔ہمارے جسموں سے چپکی اُوڑھنیاں خود پریشان تھیں۔میں اور راحیل بازار کے عقب میں ٹیکری پر چڑھ گئے۔سورج بابو سر چوک سے رخصت ہو چکا تھا۔مگر پار ہمالیہ←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان/قسط10 سفرنامہ

بابُوسَر: بابُوسر کی اسی گھاٹی کے مشرقی طرف پولو کا مشہور میدان ہے۔ جو بابو سر موڑ،سے بہ مشکل ایک صحن لگ رہا تھا۔جفاکش کھیل کا یہ قدرتی میدان ۲۱ اگست سے آباد ہونے والا تھا۔سارے گلگت اور پاکستان سے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔۔جاویدخان/قسط9

بابُوسَر بابُو سَر135000فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔مغر ب کے قریب ہم بابو سَر پہنچے تو چند دکانوں پر مشتمل بازار گلیشری ہواؤں میں ٹھٹھر رہا تھا۔گاڑیوں کی ایک لمبی قطار آگے جانے کے لیے انتظار میں تھی مگر آگے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔ جاویدخان/قسط 8

جھیل لُولُوسَر: اگر وادی ِ لُولُو سَر کوایک اَلہڑ کہساری دوشیزہ مانیں تو جھیل لُولُو سر اُس کی وہی نیلی آنکھیں ہوں گی جس کے ذکر سے ہماری رومانوی نثر اور شاعری بھری پڑی ہے۔ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے حُسن←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔ جاویدخان/قسط7

جل کھنڈ 50100۱فُٹ کی بلندی پہ واقع ہے۔یہاں کوئی بڑا بازار نہیں۔یہ ایک کہساری وادی ہے۔سڑک سے ذرا نیچے دریا ء ایک آب جو کی شکل میں بہہ رہا ہے۔ہم بسم اللہ ہوٹل کے سامنے رکے۔یہ ہوٹل دیار کے تراشیدہ←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔جاویدخان/قسط6

ناران بازار دریا کُنہار کے کنارے آباد ہے۔بازار کے آغاز ہی میں خیمہ بستی ہے اور ہوٹل ہیں۔شہر دواطراف سے پہاڑوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔جِست کی چادروں جوفولادی ستونوں پہ کھڑی تھیں اُن کے نیچے بجری پہ←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔جاویدخان/قسط5

اس سارے علاقے میں مچھلی کے فارم بنائے گئے ہیں۔مچھلی کی صنعت کو اس شفاف پانی والے علاقے میں مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مچھلی کی مانگ اس وقت پوری دنیا میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔یوں ضرور ت اور معیشت←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔جاوید خان/قسط4

دریاکنارے جابجا مکئی کے کھیت پھیلے تھے اور ان کے سروں پر ترشول نما سِلے نکل آئے تھے۔چھلیوں میں فطرت نے دانے بھرنے کاعمل شروع کردیا تھا۔ مکئی کے پودے اپنے پھلنے پھولنے پہ خوش نظر آرہے تھے وہ مست←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔ جاویدخان/قسط3

ہماری گاڑیاں رُکیں تو ذوالفقار علی بھٹو برج (پُل)کے  کنارے پر۔جیسے پل نے کہا ہوابھی اس سے آگے جانا منع ہے۔پل کے آغاز میں ایک افتتاحی کتبہ (بورڈ) لگا تھا۔عمران رزاق اے۔ٹی۔ایم مشین سے کچھ اُگلوانے چلے گئے سڑک پار←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی،قسط2۔۔۔ جاوید خان

سورج پہاڑوں کی اوٹ سے مسلسل تیرتا ہوا اُوپر آ رہا تھا۔ پرل پہ دھلی ہوئی صبح کااُجالا پھیل چکا تھا۔طاہر صاحب کو ہم نے راستے سے اُٹھانا تھا۔قافلہ یاراں کے اس آٹھویں راہی کو اُترائی کے اک موڑ سے←  مزید پڑھیے