محمد جاوید خان کی تحاریر
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 30

مِنی مَرگ کاسُریلا پانی :۔ مِنی مَرگ کے اِس نالے میں اُجلا پانی بہتا ہے۔شفاف پانیوں کا ترَ نُّم بھی شفاف ہو تا ہے۔ پار جنگل میں دَرختوں کی ٹہنیاں مَچل مَچل کر لہراتی ہُو ئی ہَو ا ؤں کا←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 29

اُجلی وادیوں میں آلُودہ لوگ! ایک بات حیران کرنے والی ہے کہ گلگت بَلتستان و کشمیر کے ہر سیاحتی مقام پر ناقص دُودھ کی چائے بِکتی ہے۔قراقرم،ہندوکُش اَور ہمالیہ کی اِن وادیوں میں،جہاں محنت ہی سب کا دین ہے،ہر گھر←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 28

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط27 مِنی کاگھر،مِنی مَرگ :۔ مِنی مَر گ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ہے،جووادی کشمیر کے گُل مَرگ کاہی ٹُکڑا لگتا ہے،جِسے چاروں طرف سے ڈھلوانی پہاڑوں نے گھیر رَکھا ہے۔مِنی مَرگ ایک چھوٹاسا قصبہ ہے،جِس میں ایک←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط27

مائی کی باتیں: سڑک کے دائیں طرف گھاس کے چھوٹے سے میدان کنارے خیمے لگے تھے۔سڑک پہ ایک بُزرگ عورت اَور دو لڑکے کھڑے تھے۔اُنھوں نے ہماری گاڑیوں کو ہاتھ سے رُکنے کا اِشارہ کیا۔وقاص نے گاڑی تو نہ روکی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط26

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط25 بُرزَل ایک قاتل درہ: درّہ بُرزَل تقریباً 13500ُٖفُٹ بلند ہے۔سلسلہ ِ ہمالیہ کے اَہم دروں میں شمار ہوتاہے۔سال کے اَندازاً سات ماہ بھاری بَرف باری کی وجہ سے بند رہتا ہے۔1947سے قبل یہ سِری نگر،سکردو،گلگِت←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط25

اَستور ناشتہ: اَستوربازار پہنچ کر جس ہوٹل میں کھانا کھایا تھا اُسی میں ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھے۔ہوٹل کا کُچھ عملہ اَبھی بیدار ہوا تھا۔دوستوں نے تگڑے ناشتے کاحکم نامہ جاری کیا۔انڈے بَہت سے پراٹھے اور چائے۔میری گرانی ابھی ختم←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط24

رامہ نگر کی صُبح خیز دُنیا اَورہم: اُجالا پھیلنے پر  ہم جاگے۔جلدی جلدی وضو کیا نماز ادا کی۔فجر کی سپیدی آکر جاچکی تھی۔خیمہ بستیاں چیدچیدہ جاگ رہی تھیں۔جنگل پرندوں کی بولیوں سے گونج رہا تھا۔ہر پرندہ اِس بن میں اپنی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔جاوید خان/قسط23

آشیانے کی تلاش: پہلا مسئلہ رِہائش کاتھا۔دو تین جگہوں پر بات کی،عاصم میر سفر کو کوئی بارعایت آشیانہ چاہیے تھا۔جہاں کھانا اَچھا مِلے اَور رات بھی آرام سے بَسر ہوسکے۔آخر میدان کے نُکڑ پر جہاں نانگا کا بِچھڑا پانی شور←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔جاوید خان/قسط22

رَامہ جھیل کی طرف: رامہ میدان کے پیچھے مشرقی سَمت،نانگا پربت کے پہلو میں رامہ جھیل ہے۔ایک کمزور سی سڑک،جس پر ایک وقت میں صرف ایک ہی گاڑی گُزر سکتی ہے،رامہ جھیل تک لے جانے کا اَحسان کرتی ہے۔رامہ میدان←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔جاوید خان

رَامہ میدان: ہماری گاڑیاں خُوبصورَت ڈاک بنگلوں کے سامنے جارُکیں۔بائیں طرف ڈاک بنگلے ایک چبوترا نما جگہ پر ایک دوسرے کے پہلو میں ہیں۔ دائیں طرف ایک بڑا مُستطیل میدان ہے۔اِس کے چاروں طرف بیاڑ کے درخت، ایک فصیل کی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔۔محمد جاوید خان/قسط20

رَامہ نگرمیں بانسر ی کے اُداس سُر: رَامہ میدان کے آغاز میں سیاحوں کے لیے خیمے لگے تھے۔ایک خیمے سے خُود کار جدید ٹیپ ریکارڈ سے بانسری کی ریکارڈ شُدہ لَے نکل کر پورے جنگل میں پھیل رہی تھی۔یہ لَے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔ جاویدخان/قسط19

پکی پھٹور وں کے درمیان تنگ سُکڑی سڑک : ایک تنگ سی سڑک پہاڑوں پہ چکر کاٹتی اُوپر کو جارہی تھی۔پہاڑوں نے اِسے زیادہ جگہ دینے سے اِنکار کردیا تھا۔نیچے کہیں کہیں کھائی نما گہرائیاں تھیں۔لِہٰذا یہ سُکڑنے پہ مجبور←  مزید پڑھیے

چلے تھے دِیوسائی ۔۔۔۔جاویدخان /قسط18

اَستور بازار ایک نالے کے آر پار واقع ہے۔پار والا حصہ نیم ڈھلوانی سطح پہ کھڑا ہے۔اَستور ضلع ہے۔2004 ء میں اِسے ضلع کا درجہ دِیاگیا پہلے یہ ضلع گلگت کا حصہ تھا۔اَستور 1966   مربع میل ہے۔پُورے گلگت بلتستان←  مزید پڑھیے

چلے تھے دِیو سائی ۔۔۔۔ جاویدخان/قسط17

جگلوٹ: راے کو ٹ سے ۷۲ کلومیٹر کے بعد جگلوٹ آتا ہے۔ایک تنگ سی سڑک شاہراہ ریشم سے بِچھڑ کر دَریائے سندھ کے اُوپر (پُل)سے گُزر تی ہوئی اَستور کو جاتی ہے۔جگلوٹ سے اَستور ۵۵کلومیڑ پڑتا ہے۔شاہراہ ریشم سے اَستور←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔ جاویدخان/قسط16

بابُوسر گاؤں: بابُوسر گاؤں پاکستان کی طرف سے گلگت کاسرحد ی گاؤں ہے۔گاؤں کی حدود میں اُترتے ہی ایسے لگا جیسے ہم وادی نیلم کے کسی گاؤں میں داخل ہو رہے ہوں۔کچے پکے مکانات کچھ سُرخ جِستی چادروں سے بنے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔ جاویدخان/سفر نامہ۔قسط15

دوسرے پہاڑ سے ایک ندی لڑکھڑا تی اُتر رہی تھی اُس کا بجتاترنم سُنائی دے رہا تھا۔لُولُوسَر نَدی کامیدان اَورپہاڑ کِسی قدیم آبی گُزر گاہ کا پتہ دے رہے تھے۔چندقدم آگے تقریباً دس فُٹ اُونچا پتھروں کامینار کھڑا تھا۔ہم نے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔ ۔ جاویدخان/قسط14

آفتاب ہمالیہ پہ: صبح نماز کے لیے بیدار ہوئے۔وقت اذاں کے کافی بعد،برفیلے پانی سے وضو کیااور باجماعت نماز ادا ء کی۔باقی لوگ واپس بستروں پہ لیٹ گئے۔میں نے طاہر یوسف کو اشارہ کیا اُوپر ٹاپ پہ جارہا ہوں۔سورج ابھی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔جاویدخان/سفر نامہ/قسط 13

عظیم ہمالیہ کے حضور: وقت کافی بیت چکا تھا۔درہ بابو سر کی بلندیوں پر گہری اور گاڑھی چاندنی نے سُنہری ملمع کاری کردی تھی۔سُنہری رنگ دُور پاربرفیلی چوٹیوں پہ چڑھ گیاتھا۔ہر شے سُنہری شعاعوں میں نہا رہی تھی۔سارے پربتوں نے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔۔محمد جاوید خان/سفر نامہ/قسط 12

چاندہمسایہ تھا: رات کو تقریباً ڈیڑھ  بجے   آنکھ کُھلی،کمرے میں خراٹے اور سوئی ہوئی سانسوں کی آوازیں تھیں۔میں نے چادر لپیٹی،دروازہ کھولا، پاؤں میں جوگرز پہنے  اور باہر نکل آیا۔سُنہری چاندنی میں سارا پہاڑی منظر نہا رہا تھا۔شما ل←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔محمد جاوید خان /قسط11

باہر نکلتے ہی سردی ایسے لِپٹ گئی جیسے اسے ہمارا ہی انتظار ہو۔ہمارے جسموں سے چپکی اُوڑھنیاں خود پریشان تھیں۔میں اور راحیل بازار کے عقب میں ٹیکری پر چڑھ گئے۔سورج بابو سر چوک سے رخصت ہو چکا تھا۔مگر پار ہمالیہ←  مزید پڑھیے