بقائن۔۔۔محمد خان چوہدری/پانچویں ،آخری قسط

اس کہانی کا باعث تحریر شکیلہ کی غیر متوقعہ زچگی تھی، جس کی طبی، نفسیاتی، اور جذباتی توجیح میں ہمارا رول تھا، ذاتی تجربے کو ضبط تحریر میں لانا ازحد مشکل ہوتا ہے، دبے لفظوں میں پچھلے پیش لفظ میں اپنے نروس ہونے کا اقرار بھی کیا، کردار زندہ سلامت ہیں، نام بدلنے سے بھی شناخت ظاہر ہونے کا خوف تو جاگزیں رہتا ہے، اس ذہنی کیفیت کی وجہ سے کہانی کو عجلت میں لپیٹنا پڑا، تشنگی اور کچھ سرعت بیانی کی معذرت۔ قلندر

شکیلہ کی ماں نے اس کے منہ پہ  تھپڑ جڑ  دیا ۔ ایک بزرگ ملازمہ اسے چھڑوا کے کمرے میں لے گئی۔۔
انسانی دماغ اور بدن کے مابین سوچ اور حرکت کے میکنزم پہ  جتنی بھی ریسرچ ہوئی  ہے وہ ردِ عمل کے تعین سے قاصر ہے۔ شکیلہ کو سکتہ ہو گیا، اس کی وجہ کنپٹی پہ  ضرب کی چوٹ تھی یا زندگی میں پہلی بار ماں کے ہاتھ اٹھنے کا صدمہ تھا، یہ جاننا ممکن نہیں، بس شکیلہ کی زندگی یکلخت بدل گئی، ملازمہ نے پانی پلایا تو اس کے اوسان بحال ہوئے۔

لیکن اب وہ پہلے والی شکیلہ نہیں  تھی، کافی دیر خلا میں گھورتی رہی، ماں کا وقتی ردعمل ماند پڑا تو وہ چائے کا کپ بنا کے لائی، شکیلہ نے چُپ چاپ چائے پی لی۔ ماں نے روتے ہوئے اسے پیار کیا تو شکیلہ کے ذہن میں پانچویں کلاس کی ہم جماعت نائلہ کا ہیولا جھلملا نے لگا، دونوں سہیلیاں جب بریک میں کھیلتے لڑ پڑیں تھیں، شکیلہ نے نائلہ کے بال نوچے تھے، نائلہ نے اسے کس کے تھپڑ مارا تھا، پھر دونوں میں صلح ہوئی، دونوں نے ایک دوسری کو خوب چمٹا کے پیار کیا تھا، ماں کے پیار کرنے میں شفقت تھی لیکن وہ ہم آہنگ پیار کا جوش تو ہو ہی نہیں  سکتا تھا۔

اتوار کو ڈھوک شرفو جانے کی تیاری ہوتی رہی، شکیلہ کو گھر چھوڑ کے سب وہاں گئے، منگنی مکمل ہوئی، شادی کی تاریخ طے ہوئی، پروگرام فائنل ہوئے، سب خاندان والے واپس آئے، خواتین شکیلہ سے ملیں، گفٹ دیے،شکیلہ اس سارے پراسس میں بس مشینی انداز میں شریک رہی،گندم کی کٹائی  کے بعد شادی کے فنکشن کے لیے  دو ہفتوں پر محیط پروگرام رکھا گیا۔اس دوران دونوں گاؤں میں تقریبات کے لیے کھانے پکانے، ٹینٹ لگانے، مہمانوں کو ٹھہرانے کی تیاری کے لیے ڈاک بنگلہ، سکول اور گراؤنڈز تک ہر گلی محلہ صاف ستھرا ہو گیا۔
ڈھوک شرفو میں مہمان خانے کی تزئین کی گئی، حویلی کے پرانے درخت نکال کے نئے پودے لگائے گئے۔
خاص طور پر بقائن، کچنار اور شہتوت جوڑی جوڑی لگائے گئے،روزانہ ہی کبھی درزی، بزاز، سُنار کبھی باورچی اور کراکری و ٹینٹ کنات والوں کا آنا جانا ہوتا
شاہد اور شوکی کا بھی شکیلہ کے گاؤں کپڑوں کے ناپ اور دیگر تفصیلات کے لیے چکر لگتا۔
شوکی کا تجربین ہ اور آبزرویشن تو کمال تھی، اس نے یہ نوٹ کیا کہ شکیلہ جب بھی انکے سامنے آتی تو اس کا چہرہ سپاٹ ہوتا، اس نے شاہد کو سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ اسے شکیلہ سے باتیں کرنی چاہئیں، شاہد بھلے نصابی تعلیم میں ماہر تھا لیکن  یہ نزاکت سمجھنے سے قاصر رہا۔

مصنف:محمد خان چوہدری

یہ شادی علاقے میں تاریخی لحاظ سے منفرد ہوئی، مایوں، تیل مہندی اور گھڑولی کی رسم جس روز ڈھوک شرفو میں ہوئی  تو پورا گاؤں شریک تھا اور میلے کا سماں تھا ، یہی صورت شکیلہ کے ہاں بھی تھی،
بارات کا ریکارڈ یہ تھا کہ دو سو سے زائد گھوڑسوار باراتی سب آراستہ گھوڑوں پر دستار اور لُنگی پوش تھے،درجنوں سجے ہوئے تانگے، جیپیں بھی ہمراہ تھیں، خوات کے لئے سپیشل بسوں کا بندوبست تھا
آگے استقبال کے لئے معزیزین بھی سب دستار پوش تھے۔ بینڈ بتاشے ڈھول اور شہنائی  والے پھرے لگائے کھڑے دلنواز دُھنیں بجا رہے تھے، شام کو رخصتی پہ  آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔

اگلے دن ڈھوک شرفو میں ولیمہ ہوا، پورا گاؤں سجایا گیا، ڈاک بنگلے، اور سکولوں سے ملحق گراؤنڈ رنگا رنگ ٹینٹ سے جگمگا رہے تھے، کھانا کھلانے میں گاؤں کے جوان لائن در لائن ڈونگے تھال اور ٹرے ہاتھوں ہاتھ پہنچا رہے تھے۔

یہ جشن اگلے دو روز تک جاری رہا ,جب تک دور پار سے آئے دوست مہمان خانے میں مقیم رہے،شاہد اور شکیلہ کے لئے حویلی میں بیڈ باتھ برآمدے کا نیا سیٹ نئے فرنیچر سے مزین تھا۔
اگلے دن دولہا دلہن شکیلہ کے گاؤں ملنی پہ  گئے، رات وہاں رُکے، یوں واپسی تک شادی کے جملہ امور بظاہر بخیر و خوبی مکمل ہو گئے، شادی ہو گئی لیکن روحوں کا ملنا دور کی بات مباشرت بھی تشنہ کام ہوئی ۔
سہاگ کی پہلی رات کو ڈھوک شرفو پہنچنے پر رسموں کی ادائیگی اور دیگر روایتی مصروفیات کے بعد جب شکیلہ کو حجلہ عروسی میں بیڈ پر بٹھا کے شاہد کو اندر بھیجا گیا تو آدھی رات گزر چکی تھی،
شاہد نے شکیلہ کے گال چھوئے تو وہ یخ سرد تھے، منہ دکھائی  کی انگوٹھی پہنائی  تو مہندی لگے ہاتھ بھی ٹھنڈے ٹھار تھے۔
اس نے اپنا عروسی لباس بدلا، تو شکیلہ بھی دلہن کا پہناوا اتار کے لیٹ گئی، شاہد کے لئے منزل نا آشنا تو نہ تھی پر وہ پہلے والی   حدت تھی نہ رسپانس، ولیمہ کے حلال ہونے کو بس فرض ادا ہوا، غسل واجب ہوا ۔

دوسری رات بھی حویلی میں مہمانوں کا رش تھا، شاہد کی کاروائی  یک طرفہ ہی رہی،شکیلہ کے گاؤں والی رات بھی ایسی ہی گزری،شاہد نے ذہن میں اس کاہلی کو تھکن اور تقریبات کے ذہنی دباؤ پہ  معمور کیا، لیکن دل میں خلش بیٹھ گئی،
اگلے دن کچھ فرصت بھی تھی اور شوکی بھی ملنے آ گیا، اس نے تفنن میں روداد پوچھ لی، شاہد پہلے تو جھجکا ، پھر شوکی کی ہلہ شیری پر اس نے سردمہری کی کیفیت سنا ہی دی، شوکی تو ان سمندروں کا تیراک تھا اس نے مشورہ دیا کہ چند روز کے لئے ہنی مون پر نتھیا گلی جا کے رہ آئیں۔
نتھیا گلی میں پہلی بار شکیلہ نے ملازمہ سے شاہد کی شب باشی کا ہلکا سا گلہ کیا، اسی کے ساتھ اپنی امی سے لڑائی  اور تھپڑ والی بات بھی کہہ گئی، شاہد ملازمہ والی بات سے تو صاف مکر گیا اور تھپڑ مارنے پہ  اس نے سرسری انداز میں اپنی پھوپھی کی سائیڈ لے لی، وہ شکیلہ کے نفسیاتی الجھاؤ کو سمجھنے سے قاصر تھا۔۔
شکیلہ کے ذہن کو تو چند شدید جھٹکے درکار تھے، جن کی مدد سے وہ سخت ردعمل دیتی اور خود کو نارمل کر لیتی۔شاہد پڑھا لکھا تو تھا لیکن اعمال زوجیت میں وہ مباشرت سے آگے کی سوچ سے عاری تھا۔
گاؤں واپس آئے تو زندگی روٹین میں یوں چلنے لگی، کہ شاہد گاؤں کے دونوں سکول ہائر سیکنڈری کرانے ، انتظامی امور دیکھنے، زمینوں کی دیکھ بھال، اور چوہدراہٹ سنبھالنے میں مصروف ہو گیا،
شکیلہ اس کے لئے وہ کٹورا تھی جسے بوقت ضرورت پیاس بجھانے کے لئے استعمال کرتا، اسے کبھی کھول کے پڑھنے کی کوشش نہیں  کی، اور شکیلہ اس کے ساتھ خلوت میں اپنے نسوانی عضلات کی حدت پیدا کرنے سے قاصر رہتی۔

خاندان میں بچہ نہ ہونے کی تشویش عام ہونے لگی، خانقاہوں پر منت ماننے پہلے شاہد کی ماں جاتی تھی پھر شکیلہ کی اماں بھی شامل ہو گئی، گاؤں کی دائی  سے بھی مشورے ہونے لگے ،پیر شاہ جو دونوں گھروں کے محترم تھے، وہ ڈھوک شرفو آئے، حساب کر کے انہوں نے بقائن کے پیڑوں کی مثال دی۔۔۔
پیغام یہ تھا کہ نباتات بھی پولن سے نمو لیتے ہیں، شاہد کی دوسری شادی کی نوید تھی،شاہد کی امی شکیلہ کو رکھتے اپنی بھانجی لانا چاہتی تھی، شکیلہ دوسری شادی اگر خاندان سے باہر ہو تو راضی تھی، کہ
اس کا خاندان سے بہو ہونے کا سٹیٹس محفوظ رہے،شاہد اس پر خاموش رہتا، ساس بہو کی تکرار سن لیتا، اس نے بحث کم کرنے کے لئے شکیلہ کو بچیوں کے سکول میں آنریری پڑھانے پہ  لگا دیا، وہاں شکیلہ کی بچپن کی سہیلی نائلہ جو بی اے بی ٹی پاس کر کے ٹیچر بنی  تھی،اس کی پوسٹنگ ہوئی ۔
شکیلہ کے لئے یہ نعمت بن گئی، نائلہ اس کے میکے گاؤں کے راجہ صاحب کی بیٹی تھی، وہیں اس نے پرائمری تک پڑھا۔جب وہ لوگ شہر شفٹ ہو گئے، ڈھوک شرفو میں اس کی خالہ بیاہی تھی جس کے گھر وہ رہ رہی تھی،سالوں کی دوری دنوں میں ختم ہوئی ، سہیلیوں کے راز و نیاز ہوئے، اور شکیلہ نے اسے سوتن بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
چوہدری فیروز سے شکیلہ نے خود بات کی، تو ممانی کو مات ہو گئی، شاہد کو نامردی کا ٹھپہ لگایا تو وہ لاجواب ہو گیا۔
شکیلہ کا اعتماد بحال ہوا تو اس نے اپنی ماں کو تھپڑ کتھا سنا کے راضی کر لیا، ابا تو اس کے ساتھ تھا ہی،شاہد کی دوسری شادی کی بس شریعت ہوئی،شکیلہ نے نائلہ کو پرانی حویلی میں اپنی نانی والا کمرہ سیٹ کر کے دیا، شاہد کے دونوں کے لئے دن مقرر تھے۔
اب حویلی پہ  شکیلہ کا راج تھا ، سال پلک جھپکتے گزر گیا، نائلہ کا بیٹا پیدا ہوا، شکیلہ نے اسے گود لیا،نائلہ نے سکول جانا شروع کیا، تو شکیلہ چھپ کے اپنے پستان کے نپل منہ میں رکھ کے سلاتی تھی،وہ چھ ماہ کا ہوا تو نائلہ دوبارہ حاملہ ہو گئی، بچے کا دودھ چھوٹا لیکن شکیلہ کی گودی تو موجود رہی ، اور جب نائلہ کی بیٹی پیدا ہوئی  تو ۔۔ شکیلہ بھی امید سے ہو چکی تھی، شیر داری کی کاوش نے اس کے نسوانی عضلات بیدار کے ، حدت لوٹ آئی ، بقائن کے ساتھ بقائن ہو تو دونوں میں نمو ہوتی ہے !
شکیلہ کا بیٹا پیدا ہوا تو ڈھوک میں سب نے کہا کہ اشرف خان آ گیا ہے!

گزشتہ تمام اقساط کےلنک:

بقائن۔۔۔۔۔(1)محمد خان چوہدری

بقائن۔۔۔قسط2/محمد خان چوہدری

بقائن۔۔۔قسط3/محمد خان چوہدری

بقائن۔۔۔قسط4/محمد خان چوہدری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *