دھندہ۔۔آصف اقبال/افسانہ

جھگی کے اندر شدید پریشانی ، دکھ اور غصے کا ماحول تھا۔ اور باہر گندگی تھی لیکن سکون تھا ۔ جھگی کیا تھی ۔بوسیدہ کپڑوں اور الیکشن کے دوران لگنے والے بینرز کا ایک بے ترتیب انبار تھا۔ الیکشن کے دن ختم ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے ۔اس لیے  انشااللہ ایم این اے ،اور انشااللہ ایم پی اے کے وافر بینرز گلیوں اور سڑکوں پر مل جاتے تھے۔چونکہ سوسائٹی” زیر تعمیر “تھی اس لیے لکڑی کی چوری میں بھی کسی قدر سہولت تھی۔چناچہ چوری شدہ بانسوں کے اوپر کھمبوں سے اتارے گئے بینر اورسوسائٹی کے خدا ترس لوگوں کی طرف سےعنایت کردہ بوسیدہ کپڑے ٹانک کر یہ جھگی تخلیق کر لی گئی تھی۔  کسی کسی امیدوار کی ہنستی ہوئی تصویر کہیں کہیں سے نظر آتی تو لگتا جیسے وہ دعوت دے رہا ہو۔ آؤ آؤ اندر آؤ آپ کی اپنی ہی جھگی ہے۔ کون کہتا ہے ہم خدمت خلق نہیں کرتے۔ بھلا یہ بینر اور پوسٹر نہ بنتے تو یہ جھگی کیسے بنتی۔ اور یہ جھگی نہ بنتی تو اٹھارہ افراد کا یہ کنبہ کہاں رہتا۔
” بو ل کہاں سے آئے یہ پیسے ۔۔ ” چھمی کی ماں نے چھمی کو بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔۔ اور چولہے کے چاروں اور گھسیٹ رہی تھی۔ ٹوٹی ہوئی چارپائی جس کے اوپر اس کا چاچا ،باپ اور ایک بھائی سوتا تھا، کا بان ایک جال کی صورت نیچے لٹک رہا تھا اور چھمی کی چاروں چھوٹی بہنیں اس بان کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ یہ چارپائی ایسی ہی  ٹوٹی ہوئی تھی جیسے کسی پکھی واس کے گھر کی چارپائی کو ٹوٹا  ہوا ہونا چاہیے۔چھوٹی بہنیں اور بھائی سر کی طرف سےچارپائی کے بازو سے پھسلتے اور عین درمیان سے جہاں بان نے ٹوٹ کر تالاب ایسی شکل بنا دی تھی۔ زمین پر آ رہتے۔
چھمی کی نانی زار و زار رو رہی تھی۔” پکھی واسوں کی بیٹیوں کو بھلا کس نے ایسے کام کرتے دیکھا ہے”۔اس کو لگ رہا تھا جیسے اس کے پورے خاندان کی تہذیب داؤ پر لگ گئی  ہے  اور چھمی تھی ۔۔۔۔کہ ماں کے گھسیٹنے پر گھسٹی چلی جا رہی تھی ۔ ایسے خاموش اور ایسےمطیع وفرماںبردار  جیسےکوئی” مردہ” ہوتا ہے۔
جھگی کے باہر کا ماحول کچھ مختلف نہیں تھا۔باپو “آک” کے ایک خود رو  پودے  کا ایک پتا کاٹ کر اس سے نکلنے والے دودھ کا یوں مشاہدہ کر رہا تھا۔ جیسے ابھی اس سے کوئی سائنسی دریافت سرزد ہو جائے گی۔ چاچا زمین سے ایک ایک موٹی سی سخت لکڑی اٹھا کر زمین میں اس گولائی سے کھدائی کیے جا رہا تھا کہ بنٹے کھیلنے والے بچوں کے لیے ایک بڑے احاطے کی “کھتی” تیار ہو گئی تھی۔ جھگی بذات خود زمین سے کسی درجے نچلے علاقے میں تھی۔  جیسے نئی نئی سوسائٹیز بنتی ہیں تو جو خالی پلاٹ رہ جاتے ہیں وہ سطح زمین سے کسی قدر نیچے ہوتے ہیں۔ او ر بارشوں اور گٹروں سے اچھلنے والا پانی محفوظ کرنے میں کام آتے ہیں۔ تا کہ بیماریوں کے پھیلاؤ میں ممد و معاون ثابت ہو سکیں۔ ایسے ہی ایک پلاٹ میں وہ جھگی تھی۔ سڑک کے کنارے کنارے جہاں سے گٹروں کا پانی بہتا بہتا خالی پلاٹ تک راستہ بناتا تھا۔ وہاں لمبی لمبی گھاس اور بدبو تھی۔ ایک کونے میں ” آک” کا خود رو پودا تھا۔ جس کے ساتھ باپو بیٹھا دودھ پر تحقیق کر رہا تھا۔ اور دوسرے کونے میں گندے پانی کا ذرا بڑا ذخیرا تھا۔ جو کچھ دیر وہاں ٹھہر کے جب ایک خاص سطح سے بلند ہو جاتا تو جھگی کی طرف راستہ بناتا ۔ اس گندے پانی  کے ” ذخیرے” سے تھوڑا سا ادھر چاچا زمین میں “کھتی” کی کھدائی کر رہا تھا۔
جب وہ خاص سطح تک گہری ہو جاتی تو چاچا اس میں دوبارہ مٹی ڈال کر پاؤں کی ایڑی سے زور سے دباتا تا کہ وہ پھر سخت ہو جائے اور پھر سے کھدائی شروع کر دیتا۔ جھگی سے باہر فیکا ایک بینر کے اوپر لیٹا پیٹ کجھا رہا تھا۔ چھمو کا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اسے جو کچھ جھگی کے اندر ہو رہا تھا۔ اس میں دلچسپی تو تھی لیکن یہ یقین بھی تھا۔ کہ اس کی ماں اس مسئلے سے اچھی طرح نمٹ لے گی ۔
اس سارے مسئلے میں صرف چاچا تھا جو کسی قدر کم پریشان دکھائی دیتا تھا۔ اس کے کھتی نکالنے اور پر کرنے میں ایک طرح کی طمانیت تھی۔ جیسے جو کچھ ہوا ہے اس میں تاش کے سارے قیمتی پتے چاچے کے ہاتھ  میں چلے گئے ہیں۔ اور اب وہ اپنی مرضی سے کھیلے گا۔ کبھی کبھی وہ سر اٹھا کے باپو کو کہہ دیتا ۔۔ “وے جفرے۔۔ اتنی سختی کاہے کو ۔۔ بال بالڑی ہے۔۔۔ کر بیٹھی گلتی۔۔۔ اب چھوڑ دیوو۔۔ اسے رولے کو۔۔ “
باپو۔۔۔ سر اٹھا کر چاچے کی طرف دیکھتا اور دوبارہ۔۔ آک سے نکلنے والے دودھ پر تحقیق شروع کر دیتا۔
چھمی پیدائش کے پانچویں سال میں تھی جب اس نے پہلی دفعہ ماں کی قمیص پر بٹن ٹانکا۔اس وقت اس کی ذمہ داری یہ ہوتی تھی  کہ جہاں بڑی بہن بھیک مانگے وہ وہیں اس  کے دو سالہ بچے کو زمین پر لٹا کر اس کی نگرانی کرتی رہے۔۔ اور ساتھ میں ہاتھ پھیلا کر بس بیٹھی رہے۔۔ اس کی بڑی بہن کو ہمیشہ اس سے شکایت رہتی۔۔۔ ‘اماں اس بھڑوی کی نجر۔۔۔ گاہک پہ کم اور اس کے کپڑوں پہ جیادہ جاوے۔۔۔  پتا نہیں کیہ ٹوہوے یہ ادھر” ۔۔ اور چھمی کی نظر دوسروں کے کپڑوں سے زیادہ بہن کے کپڑوں پہ جاتی تھی۔ پیٹ میں بچہ ہونے کے کارن۔اس کی قمیص۔  جگہ جگہ سے ادھڑ گئی تھی  اور وہ ہر وقت یہ سوچتی رہتی تھی  کہ اگر کبھی کسی دن اس کی بہن کوئی  دوسری قمیص پہنے تو وہ اس والی کی سلائیاں ادھیڑ کر اس کی پیٹ والی جگہ سے ایسا کھلا کر دے کہ کم از کم اس کی بہن بیٹھے تو سکون سے۔۔۔
ایسے میں ایک دن اس نے اماں کی قمیص پر بٹن ٹانک دیا۔۔ باپو نے اماں کو مارا اور گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا تو اس کے سارے بٹن ٹوٹ گئے ۔باپو کا اماں کو مارنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ایسا تو روز ہی ہوتا تھا۔ جس دن اماں کم پیسے کما کر لاتی اس دن باپو غصے سے مارتا۔ جس دن زیادہ کماکر لاتی بیڑی پی کر مارتا۔ وہ بیڑی والا دن تھا۔  گلا کچھ زیادہ ہی کھل گیا تو اماں نے وہ قمیص اتار کر باپو کی ہی ایک دوسری قمیص پہن لی۔ اور آرام سے سو گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور چھمی کا دل مچلنے لگا کہ کم از ایک بٹن تو ٹانک دے اماں کی قمیص پر ۔۔ پہلے اس نے سوچا کہ وہ سوئی دھاگہ چوری کرے کسی دکان سے۔ پھر اس نے سوچا دکان سے چرانے سے بہتر ہے کہ بھیک میں سے کچھ پیسے چرا لے۔ اور شام کو بٹن ٹانکتے پکڑی گئی۔ بڑی ہا ہا کار مچی۔۔۔
” گجب خدا کا۔۔ پکھی واسوں کی بیٹیاں۔۔۔ سوئی توپے کریں اب۔۔۔ بھلا ٹوٹا بٹن تو نعمت ہووے۔۔۔ جو روپے کے ارادے سے رک گیا۔۔۔ دس دے کے جاوے۔۔ کوئی  جیادہ بھلا مانس ہووے تاں گڈی میں بٹھا لیوے۔۔ پکھی واسوں کا کیا جاوے اس سے۔۔ اولاد گڈی والے کی ہووے یا گھر والے کی۔۔ بھڑوا ۔۔ کرانا تو دھندہ ہی ناں۔۔ ہے ہے  کوئی آرائیوں کی دھی جم پوئی ہمارے گھر۔۔۔ سوئی دھاگہ لے کے بیٹھی۔۔۔ ” نانی نے خوب دھلائی کی اس کی۔۔
” اری چھوڑ دے اس نوں۔۔۔ ” باہر سے چاچا آوازیں لگاتا رہا۔۔ اور نانی اماں اس کی دھلائی کرتی رہی۔۔۔ وہ چاچے کے منہ پرطمانیت کا پہلا دن تھا۔ تھی تو وہ پانچ سال کی۔۔ لیکن چاچے نے اس دن سے ہی نظر رکھ لی اس پر۔۔ اس کو زندگی میں کوئی کنواری لڑکی نہیں ملی تھی۔ اس نے سوچ لیا۔۔ کہ چھمی کے دھندے کا آغاز تو وہ اپنے ہاتھ سے ہی کرے گا۔ بڑی خوش آئند بات تھی  کہ چھمی کا دھیان اور طرف تھا۔۔جوان ہونے تک محفوظ رہے گی۔ ورنہ اٹھارہ افراد کے کنبے میں دھندا شروع ہونے سے بہت پہلے گھر سے ہی سلسلہ شروع ہو جاتا۔
چھمی کو تو مار کھا کے جیسے سکون آ گیا۔ ویسے بھی جتنی مار پیٹ اس نے گھر میں بچپن سے دیکھی تھی۔ اس کے لیے کوئی ایسی بڑی بات نہ تھی۔ اسے جو بٹن ٹانکا دیکھ کر طمانیت ہوئی تھی۔ وہ اس مار کٹائی کی تکلیف سے بہت بھاری تھی۔  پھر ایک دن اس نے بہن کی قمیص بھی کھول دی۔۔ بہن بیٹھتی تو اسے دیکھ کر چھمی کو جو سکون آتا۔۔ اسے مار بھول جاتی۔۔۔
آہستہ آہستہ سکون ہوتا گیا جھگی میں۔۔ گھر بھر کے کپڑے تو پھٹے ہوتے تھے۔ چاچے اور باپو کی قمیصوں کے کالر یوں ہوتے کہ اندر سے بکرم کے چیتھڑے اڑے ہوتے۔ وہ کہیں نا کہیں سے کوئی کپڑا انتظام کرتی اور کالر ایسا ہو جاتا جیسے ابھی درزی کی دکان سے نکلا۔ فیکے کی قمیص ہمیشہ پھٹی ہوتی۔ اور شلوار ہمیشہ ادھڑی۔اس  نے سوئی دھاگے سے تروپے لگا لگا کے ساری قمیصیں اونچی کر دیں۔ وہ کبھی کبھی جھگڑا کرنے نکلتا اور اور مار کھاکے واپس آ جاتا۔ چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کے تو کپڑے ہوتے ہی نہیں تھے۔ بہنوں کو تو پھر کوئی شلوار میسر آ جاتی۔۔ بھائی البتہ سارا وقت ” پھلو” ہاتھ میں پکڑ کر بھاگتے پھرتے۔۔ چھمی ان کے کپڑے سی تو نہیں سکتی تھی ۔ لیکن کہیں نا کہیں سے کوئی پھینکےجانے والے کپڑے انتظام کر لیتی اور پھر ایسا سوئی دھاگہ استعمال کرتی کہ پہننے کے قابل ہو جاتے۔
کئی دفعہ مارنے کے بعد آہستہ آہستہ سکون ہوتا گیا۔ شدت اپنا رنگ دکھا چکی تو سب نے فیصلہ کر لیا  کہ یہ سدھرنے والی نہیں۔ پھر سب کو کپڑے بھی ملنے لگے تھے۔ تو کسی نہ کسی درجے میں سمجھوتا ہو گیا۔ تیرہ سال کی ہوئی تو ایک چھوٹی بہن ساتھ نتھی ہو گئی جو عین اسی کی طرح ایک دودھ پیتے بچے کو پکڑ کر ساتھ بیٹھ جاتی اور آنے جانے والوں کو ایسی نظروں سے دیکھتی کہ وہ بے چارگی کو محسوس کر لیتے اور کچھ نہ کچھ ان نے  آگے ضرور ڈال جاتے۔
چھمی کو تو بہانہ مل گیا۔ اس کی بہن مانگتی اور وہ سوئی دھاگہ پکڑ کے بیٹھ جاتی۔۔ روز شام تک وہ کسی ایک آدھ چھوٹے کے لیے ایک ” ماسٹر پیس” تیار کر لیتی۔ کہیں نیلا جوڑتی۔۔ کہیں پیلا۔۔ کہیں ہرا۔۔ کہیں سفید۔۔۔ کہیں سے ادھیڑتی ۔۔ کہیں پہ جوڑتی۔۔ اور کچھ نہ کچھ بن ہی جاتا۔۔
اس  دن بھی وہ ایک ایسا ہی “ماسٹر پیس” تیار کر کے سامنے بچھا کے دیکھ رہی تھی۔ جب ایک گاڑی والی اس کی بہن کی بے چارگی کا “اعزازیہ” دینے اتری۔
“یہ تم نے بنایا ہے”  گاڑی والی  نے پوچھا۔۔
” جی ۔ بی بی جی” بھلا تم اپنے لیے دعائیں سمیٹو اور جاؤ۔۔ تمہیں اس سے کیا۔ اسے اس بات کا غصہ تھا ۔ وہ جو خیال میں اپنے چھوٹے بھائی کو پہنا کر  خوش ہو رہی تھی۔ وہ خیال کا تانا بانا ٹوٹ گیا۔
“مجھے بیچو گی؟ ” اسے ” بیچنے” کے لفظ سے عجیب سی گھن آئی۔ اسے لگا جیسے یہ گاڑی والی کہہ رہی ہو ” اپنا چھوٹا بھائی بیچو گی ۔۔ جسے یہ کرتا پہنانا ۔ اس نے چپ کر کے کرتا آگے بڑھا دیا۔ گاڑی والی نے یوں نہال ہو کر دیکھا۔ جیسے اسے کرتا نہیں کرتے کے اندر کوئی کرتے والا مل گیا ہو ۔
“اس کے بٹن تو لگادو۔۔” گاڑی والی کا دل چاہ رہا تھا۔ کرتے کو ہی سینے سے لگا لے۔ ساتھ اس نے ایک نیلے رنگ کا بڑا سا نوٹ چھمی کے سامنے رکھ دیا۔ چھمی کے پاس بٹن نہیں تھے۔ اچانک اس کی نظر اپنے بٹنوں پر پڑی۔ اس نے جلدی سے بٹن توڑے ۔۔ بی بی کو اشارہ کیا کہ رکے۔۔ اور بٹن ٹانک دیے ۔۔
” کل پھر بنانا۔۔ میں پھر آؤں گی” بی بی نے گاڑی میں بیٹھے ہوئے کہا۔۔
ایک دم اس کی نظر نوٹ پر پڑی۔جتنی دیر میں وہ بھاگ کر بی بی کو واپس کرتی وہ گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی۔ چھمی کوجب  کچھ سمجھ نہیں آئی کہ اس نوٹ کا کیا کرے تو اس نے نیفے میں اڑس لیا۔
اور اب چھمی کو مار پڑ رہی تھی۔۔ ” بول کہاں سے آئے سے یہ پیسے”
اس کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ کب نوٹ اس  کے نیفے سے نیچے گر پڑا اور نانی نے دیکھ لیا۔
“گجب خدا کا۔۔۔ اس واسطے تیرا بھوگ بھرا۔۔ ری تو ۔۔ سلائی کڑھائی کرے گی؟ تیری بچہ دانی میں کیڑے ہوویں۔۔ تو بال نہ جم سکے۔۔ کس کا تخم ہے ری تو۔۔ کپڑے سیوے لوگوں کے۔۔۔ پیسے بنائے وہاں سے؟ دھندہ میں ۔۔ کروں گی اس عمرے ؟
نانی سے کرا لے۔۔ حرام کی تخم۔۔  اماں کا مار مار کے سانس پھول گیا۔۔ اسے رونا اس بات پر  آ رہا تھا کہ اتنے سال اس نے کڑی نگرانی کیوں نہ کی ۔ دو ٹکے کے کپڑوں کے لیے وہ کیوں برداشت کرتی رہی اس کی سوئی دھاگے سے محبت۔۔
” فیکے کی ماں۔۔۔ چھوڑ دے اس نوں۔۔  پیسے تو لائی نا کما کے۔۔ اور اس بھڑوی سے کیا مانگے تو۔۔ ساری جندگی دھندہ ہی کرنا ۔۔ دو چار ورہے کر لے انتجار۔۔ کیا جاتا ری تیرا۔۔ بڑی کرتی نا ۔۔ کیا پھرق پڑتا ری۔۔ “
“تو بوتھا بند کر ۔۔ رکھے۔۔ اج میں پتا چلاوں گی کس درزی کا تخم ہووے یہ۔۔ “اماں  نے بالوں سے پکڑ کر پھر گھسیٹا اسے۔۔
چاچے سے رہا نہ  گیا تو وہ اندر آ گیا۔۔
“چھوڑ دے ۔۔ایس کملی نوں۔۔” چاچے نے چھمی کو بازو سے پکڑا تو اچانک گلے پر نظر پڑی۔۔ ٹوٹے ہوئے بٹن نظر آئے
“تیرا جھگا ۔۔ گلےسے کیسے پھٹا ری۔۔۔ دھندہ کیا تو نے۔۔۔ ” چاچے کی آواز میں بیک وقت غراتے ہوئے کتے اور پھٹے ہو ئے انجن کا شور تھا۔ چاچے نے اس کو بازو سے چھوڑا اور بالوں سے پکڑ لیا۔۔
“دھندہ کیا۔۔۔ ” اچانک اماں بھی بولی۔۔۔ اس کی آواز میں مسرت تھی۔۔ نانی نے بیٹھے بیٹھے اس کے گلے کی طرف دیکھا۔ اور پر سکون ہو گئی۔ باپو کی ” آک” پہ  تحقیق بھی اچانک مکمل ہو گئی ۔۔۔ فیکا پیٹ کو زور زور سے کھجانے لگا۔ایک بے نام سی مسکراہٹ اس کےچہرے پر بھی عود کر آئی۔۔ چھوٹے بہن بھائی بان کے نیچے سے نکل کے پھیلے ہوئے پانی میں شڑاپ شڑاپ دوڑنے لگے ۔
صرف چاچا تھا جس کے سکون میں ارتعاش پیدا ہو گیا تھا۔ وہ باہر بیٹھا اسی طرح ” کھتیاں ” کھود  رہا تھا۔۔ لیکن اب کی دفعہ مٹی اڑ اڑ کر دور جا رہی تھی۔ اور ان کو دوبارہ اسی مٹی سے “پورنا” ممکن نہیں تھا۔

Asif Iqbal
Asif Iqbal
محمد آصف اقبال تعلیم : ایم فل مارکیٹینگ مینجمینٹ۔۔ یو ایم ٹی لاہور پیشہ : دو یونیورسٹیز میں پڑھاتا ہوں ۔۔۔۔ پڑھنے پڑھانے کے علاوہ زندگی میں کوئی دوسرا شوق نہیں پالا۔۔۔ اکنامکس پے دو کتابیں لکھ رکھی رہیں ۔۔۔ جو اے لیولز کے بچے پڑھتے ہیں ۔۔۔ابھی بزنس پر ایک کتاب پریس میں ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *