قلندر کی ہیر۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط3

کہتے ہیں کُڑی اور دھریک کا درخت راتوں رات بڑھ جاتے ہیں۔
یہ بھی سُنا کہ عورت کے جذبات کی شدت مرد سے سات گنا زیادہ ہوتی ہے۔۔۔
مشہور تو یہ بات بھی ہے کہ شہوت کی آتش جب تک زانوں میں کس کے مقید رکھی جائے تو قابو میں رہتی ہے۔۔۔۔
گُلاں کی جوانی کب شعلہ جوالا بن گئی اس کا پتہ اُس کی ماں کو بھی نہیں چلا تھا، سائیں غلام تو سائیں تھا وہ کیسے جان پاتا۔ میٹرک کے امتحان ہو چکے۔ گاؤں میں بڑے صوبیدار صاحب کی شہرت اور علاقے میں وڈے شاہ جی کی زیارت کی مشہوری ایک سال میں عروج پہ  پہنچ گئی۔
صوبیدار صاحب انکی چھوٹی دو بہنیں گاؤں میں پیدا ہوئے تھے، والد صاحب بھی فوج میں تھے، پنڈی، جہلم کھاریاں پوسٹنگ رہی، نائٹ پاس اور چھٹی پہ  گاؤں آتے رہتے، صوبیدار صاحب نے تو پرائمری تک پڑھا بھی گاؤں میں ۔انکے والد کی ملٹری کالج آف سگنل راولپنڈی میں پوسٹنگ ہوئی ، فیملی کوارٹر ملا تو بیوی بچے بھی وہاں ساتھ رکھ لیے۔۔نائب صوبیدار پنڈی پیدا ہوا، یہیں سے ایف ایس سی کیا، دو بار فوج میں کمیشن کے لئے ٹرائی  کیا لیکن ریجیکٹ ہو گیا۔والد صاحب نے سزا کے طور پہ  سگنل کور میں بھرتی کرا دیا۔دونوں بھائیوں کے مزاج میں فرق شاید بچپن کے ماحول کی وجہ سے تھا۔

مصنف:محمد خان چوہدری

گاؤں میں ان کی آمد و رفت مقیم لوگوں کے لئے ان کی معمول کی زندگی میں مداخلت تھی، شروع میں خوب خاطر مدارات ہوئی، مشوروں کی بارش بھی ہوئی، کسی نے کوئلے کی کان کنی کا، کسی نے ٹرانسپورٹ بزنس، اور کسی نے چکوال سٹون کی فیکٹری لگانے کے مشورے دیئے، یہ بھی کوشش کی گئی کہ ڈیری فارم بنا لیں، کوئی مشہور بیل خرید کے گاؤں کا نام روشن کریں، بر لب سڑک زمین پر پلازہ تعمیر کرنے کی تجویز بھی دی گئی،صوبیدار صاحب بھی اسی دھرتی کے فرزند تھے، وہ فارن سے واپس آنے والوں اور ریٹائرمنٹ پہ  جمع پونجی لے  کرگاؤں بسنے والوں کے حشر سے خوب واقف تھے کہ دو تین سال بعد بس خریدنے والے کیسے ڈرائیور بنے اور فارن سے آنے والے سب کچھ خرچ کرکے دوبارہ بیرون ملک کیوں بھاگ گئے۔نائب صوبیدار کا آنا بھی کم ہوتا، دوسرے انکے دونوں بیٹے سعودیہ چلے گئے تھے، اور سخت مزاج ہونے کی وجہ سے وہ مقامی لوگوں کے داؤ پیچ سے محفوظ تھے،سگے بھائیوں میں دس بارہ سال کا فرق ہو اور بڑا بھائی  رینک میں بھی سینئر ہو تو وہ بمنزلت باپ کی جگہ ہوتا ہے۔صوبیدار صاحب نے گاؤں کی ساری زمین کی ملکیت نکلوانے کے لئے ایک ریٹائر پٹواری جو ان کا بچپن کا ہم جماعت تھا اس کی ڈیوٹی لگانے سے پہلے چھوٹے بھائی  کے ساتھ پرانی حویلی کی تقسیم طے کی، نائب صاحب کو بر لب سڑک ممکنہ کمرشل چار کنال زمین دی اور حویلی خود رکھ لی، محکمہ مال میں بھی اس تقسیم تبادلہ کا باقاعدہ اندراج کرا دیا،حویلی کی مرمت کرائی ، بیٹھک کی توسیع کی اور مزید دو کمروں اور برآمدے پر مشتمل مہمان خانہ بنوایا۔۔
بیٹے سروس میں تھے بیگم صاحبہ بھی گاؤں آنے جانے لگیں، پرانے کمی خاندان کی دو عورتیں نوکر رکھ لیں ،حویلی آباد ہو گئی۔ گاؤں کا ہی ریٹائرڈ فوجی ڈرائیور اور بیٹ مین بھی ملازم رکھ لئے۔رورل ہیلتھ سینٹر میں ڈسپنسر کی پوسٹ نکلی تو گاؤں کے پرانے کولیگ کے بیٹے بلال کو پنڈی سے بلا کے بھرتی کرا دیا۔

چبوترہ اور بڑ کا پیڑ
دربار کا راستہ

باوا وڈے شاہ کے مزار کے ساتھ پرانے برگد کے درخت کے ساتھ چبوترہ ہے، جسے چلہ گاہ کہتے، مشہور یہ تھا کہ باوا جی نے یہاں سے پتھر نکلوا کے خود اپنی قبر کی جگہ اور چار دیواری بنوائی تھی، مزار اور اس چاردیواری کی مرمت تو ہو چکی تھی،وہیں سے مزید پتھر نکلوا کے چبوترے کی توسیع کی گئی ۔ زائرین کے بیٹھنے کے لئے برآمدہ اور مجاور کے لئے کمرہ بن گیا۔چشمے کے پانی پرایک حوض بنا ،پانی اس میں جمع ہو کے پھر بہتا، زائرین کو پانی بھی میسر رہتا،ان ساری تعمیرات میں مرکزی بندہ سائیں غلام ہی تھا۔۔۔
گلاں سے اب ملاقات تو صبح شام ہوتی لیکن تخلیہ مفقود ہو گیا، گلاں امتحان دے کے سکول سے فارغ ہو گئی۔
ماں سینٹر جاتی تو گھر میں اکیلی ہوتی، قد اور بُت اتنا نکالا کہ سکول میں بڑی چادر اوڑھ کے جاتی تھی،سینٹر میں پہلے جاتی رہی ، وہاں نرسنگ کا کام بھی سیکھا لیکن اب وہاں سٹاف نیا اور زیادہ ہو گیا تو اس کی ماں اسے ساتھ لے جانے سے گریزاں رہتی، پھر بھی یہ چادر لپیٹ کے چکر لگا آتی ۔صوبیدار صاحب ہر مہینہ پنڈی پنشن لینے اور چھوٹے موٹے وہاں کے کام کرنے چار پانچ دن کے لئے جاتے۔
ان دنوں میں گاؤں کے کام سے  چھٹی ہوتی، غلام کے پاس فرصت بھی ہوتی اور پیسے بھی جمع ہوتے تو وہ اپنی سوچ کے مطابق گلاں کی دلجوئی کو لاری اڈے سے اس کے لئے پھل، پکوڑے سموسے لے آتا۔
گلاں کے مزاج میں تلخی بہت بڑھ رہی تھی، ایک غلام سے ملاقات کم ہوتی دوسرے ملتے بھی تو وہ مادھو ہوتا۔۔۔جب کہ گلاں کی خواہشیں بیدار ہوتیں، سکول میں سہیلیوں سے پیار کے انگ ڈھنگ سن کے اسے بدن کی آسودگی کی طلب پاگل کیے ہوتی، غلام نے کوئی پیش قدمی کبھی کی ہی نہ تھی۔ وہ اس سے کسی نہ کسی بات پہ  سیخ پا ہو کے لڑتی تو وہ سب سن لیتا اور اسے بس یک ٹُک دیکھے جاتا۔

آخر ایک روز گلاں نے اسے فرمائش کی، مجھے شہر دکھا کے لاؤ ۔
غلام نے وعدہ کر لیا کہ دو دن بعد صوبیدار صاحب پنڈی جائیں گے تو وہ اسے شہر لے کے جائے گا، اگلے دن گلاں نے ماں کو جو بکریوں کو لانگی کاٹ کے ڈال رہی تھی۔ یہ مژدہ یوں سنایا ۔
اماں میں کل شہر جا رہی ہوں ! تم نے مجھے آج تک شہر نہیں دکھایا ناں ۔۔۔۔
اپنا وہ شٹل کاک برقعہ دھو کے رکھنا، استری میں کر لوں گی “
گلاں کی بات سُن کے اس کی ماں کے ہاتھ سے درانتی گر پڑی ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *