غریب کے بچوں کی باہمی سر پھٹول۔۔ رؤف کلاسرہ

پنجاب یونیورسٹی میں تخت کے پرانے دعویدار جمیعت اور نئے نئے دعویدار بلوچ پشتون سٹوڈنٹ فیڈریشن کے درمیان سر پھٹول ہوئی ہے اور اب جامعہ پولیس کے حوالے ہے۔ کچھ احباب اس پہ پریشان ہیں تو ان سے عرض ہے کہ پریشان نہ ہوں۔ یہ سب ہمارے جیسے لوئر مڈل کلاس یا کسانوں اور دیہاتیوں کے بچے ہیں۔ ان کی قسمت میں یہی کچھ ہے جو وہ کررہے ہیں۔ کوئی ایلیٹ کا بچہ اب ان یونیورسٹیوں میں پڑھتا ہے ؟۔ کبھی سنا ایچی سن کالج یا لمز یا نسٹ یا آئی  بی اے میں دنگا فساد ہوا ہو؟ لمبی کہانی ہے کیا لکھیں۔۔ کل کو پھر کہتے ہیں ہمیں اچھی نوکریاں نہیں ملتیں۔ اچھے مواقع نہیں  ملتے۔

ایلیٹ کا تو فائدہ ہی اس میں ہے کہ یہ سب یہیں لڑتے رہیں۔ اپنے بچے وہ بیرون ملک پڑھنے بھیجتے ہیں جب کہ کسانوں اور غریبوں کے بچے کسی طرح یوینورسٹی پہنچ بھی جائیں تو بھی نہیں سنبھالے جاتے۔ حیرانی ہوتی ہے یہ کس چکر میں پڑ گئے ہیں۔ہمارے اندر دور دور تک پھیلے احساس کمتری کو کھل کر اظہار کا موقع انہی یونیورسٹیوں میں ملتاہے۔ کسی دن ایچی سن کالج یا لمز دنگا ہو تو پلیز بتائیے گا ضرور۔

کچھ دوستوں کو لگتا ہے کہ جمیعت کا ایک نسلی شناخت سے بنے گروہ سے کیا مقابلہ۔ ویسے بھی جمیعت نے تو کئی بیوروکریٹس کو جنم دیا جو پھر ایلیٹ کلاس کا حصہ بنے۔
عرض ہے کہ  اگر پوری کلاس میں ایک آدھ بیوروکریٹ نکل آتا ہے تو یہ کوئی بڑی تعداد نہیں۔ میرے ساتھ پرائمری سکول میں پچاس بچے تھے۔ مڈل تک دس بچے اور میڑک تک ایک اور کالج یونیورسٹی تک میں اکیلا۔ اسے آپ کامیابی کہیں گے کہ میں اکیلا پچاس بچوں سے اوپر نکل آ یا یا ناکامی؟ میں اسے ناکامی سمجھتا ہوں اور بعض دفعہ میں احساس جرم کا شکار ہوتا ہوں جب گاؤں جاؤں تو انہی کلاس فیلوز کو زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے پاتا ہوں۔۔
تو کیا ہر سال اگر ہزاروں میں سے چند ایک بابو  بن جاتے ہیں اور باقی سڑک چھاپ تو اسے کامیابی کہا جائے گا؟ میرے اپنے گاؤں میں درجن بھر لڑکے ایم اے اور انجینرنگ کر کے بیروزگار ہیں۔ ان کی حالت دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے۔

خیر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ سب جھٹرپیں دنگے فساد لڑائیاں کٹ مار لہولہان صرف ان یونیورسٹیوں میں کیوں جہاں ہمارے جیسے لوئر مڈل کسانوں دیہاتیوں کے بچے پڑھتے ہیں؟ ایلیٹ کے سکول کالجز جیسے لمز، ایچی سن کالج یا نسٹ یا آئی بی اے میں کیوں نہیں؟ غور کریں گے تو پتہ چلے گا کہ ایلیٹ نے سمجھداری سے خود اور بچوں کو ان تمام بکیھڑوں سے دور کرلیا ہے جس کا شکار ہم لوئر مڈل کلاس اور دیہاتیوں کے احساس کمتری کے مارے بچے ہیں۔ایک تو ہر وقت ہمارا کردار خطرے میں رہتا ہے۔ ان بچوں کو کبھی گاؤں میں لوگوں کے کردار ڈنڈے سے  یا ویسے درست  کرنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا لیکن یونیورسٹی پہنچتے ہی ہم دیہاتیوں کو لگتا ہے سب کا ایمان اور روح خطرے میں ہے اور وہ ڈنڈا اٹھا لیتے ہیں۔ یہ اپنے اپنے گاؤں  لوٹ کر اس ڈنڈے کا استعمال کیوں نہیں کرتے جو یونیورسٹی میں کرتے ہیں؟

بہرحال وہ جملہ یاد  آرہا ہے۔۔ لگے رہو منے بھائی ۔ مجھے علم ہے میرے ان یونیورسٹیوں میں دنگے یا کٹ مار کرتے نوجوانوں نے گاؤں لوٹ کر ساری عمر نوکریاں ڈھونڈنی ہیں جو ان کے مقدر میں نہیں۔ وجوہات بہت ہیں لیکن میرا خیال ہے وہ سب اس پر خوش ہیں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں۔۔ وہی منیر نیازی کی نظم

کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مینوں مرن دا شوق وی سی۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *