مظلوم جمعیت کا کوئی پرسان حال نہیں۔۔حسام درانی

پنجاب یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والا جھگڑا کوئی نئی بات نہیں اور ہمیشہ کی طرح اس مسئلے میں بھی پاکستان کی سب سے شریف اور مسکین جماعت ” جمعیت ” ایک مدعی کے طور پر سامنے آئی ہے،
ویسے آپس کی بات ہے کہ  زمانہ طالبعلمی سے لے کر اب تک جب بھی کسی جامعہ یا تعلیمی ادارے میں مسئلہ دیکھا یا سنا، ہمیشہ کھرا جمعیت کا کیوں نکلتا ہے؟
قسم سے آج تک اس بات کا جواب نہ  مل سکا؟

ہمارے ایک ف ب دوست جو   کسی زمانہ میں جمعیت سے تعلق رکھتے  تھے  انہوں نے درد بھری پوسٹ کی کہ  لاہور واقعہ کے بعد جمعیت صرف صبر کرے گی اور اس کا جواب ایسے بےتحاشا پروگرامز کر کے دے گی۔
میرے کمنٹ کے جواب میں بھیا نے انتہائی صبر سے جواب دیا کہ  اللہ نے آپ کے دل پر مہر لگا دی ہے کیونکہ آپ جمعیت کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں دے رہے، واللہ علم ان کو میرے دل  کی حالت کا اندازہ کیسے ہو گیا، اور جواب میں دیگر جماعتی بھائیوں کے کمنٹس نے ان کے صبر اور مظلومیت کا اظہار کیا لیکن میرے جیسے سنگدل کو کیا احساس،

اسی طرح پچھلے مارچ میں بھی ایک جماعتی بھائی نے ایک لڑائی کے بعد پوسٹ کی تو میں نے کمنٹ میں عرض کیا
” بھیا آپ نے جمعیت اور جماعت اسلامی کے صالحین کی ثابت قدمی اور دلیری کا قصہ بیان کیا کہ  کس طرح انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں جامعہ سے لے کر گورنر ہاؤس تک ایک ریلی نکالی اور اس وقت پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان ” تلوار ” کو بیچ چوراہے پر رکھ کر توڑ دیا اور اگلے دن کے اخبارات کی شہہ سرخیاں تھیں
” اور تلوار ٹوٹ گئی ”

لیکن بھائی نے یہ نہیں بتایا کہ  اس واقعہ کے بعد سے لے کر اب تک کتنے سیاسی لیڈر جمعیت نے تیار کر کے پیپلز پارٹی سمیت پاکستان کی باقی تمام سیاسی پارٹیوں کو مہیا کیے ہیں، کیا جمعیت جماعت اسلامی کی ایک نرسری نہیں جو  مستقبل کے لیے سیاسی لیڈر تیار کرتی ہے اگر ایسا تھا تو کیوں جماعت ہر انتخابات میں امیدواروں کے قحط کا شکار ہوجاتی ہے، اور آپ لوگ عین موقع پر ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے ہوتے ہیں، مانا جمعیت ایک بہت بڑی جماعت ہے لیکن کیا اس کا کام ایک نرسری کے طور پر نہیں رہ گیا کہ  جو بھی بندہ تیار ہوا وہ دوسری جماعتیں لے گئیں۔ پورے پنجاب کی یونیورسٹیوں میں آپ کے نام کے جھنڈے لگے ہیں لیکن بلدیاتی الیکشن کچھ اور بتا رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں کنونشن ہوتے ہیں لیکن جنرل الیکشن میں نظارہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، بھائیو میں آپ کے خلاف نہیں مجھے صرف آپ کے انداز سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے جو نرسری اپنی مین جماعت کے کام نہ  آۓ اس کا کیا  فائدہ ، یا پھر آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں جن کو سمجھ آ جاتی ہے وہ جماعت چھوڑ دیتے ہیں۔”
جواب میں بھائی نے بلاک کا آپشن انتہائی صبر سے استعمال کیا اللہ میرے اس بھائی کو اس فعل کے بعد صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

اب آتے ہیں حالیہ پوسٹ اور اس کے تناظر میں ہونے والے کمنٹس پر تو  جناب آپ تمام اصحاب کا تعلق جمعیت سے ہے یا رہا ہے لیکن حضرات پاکستان کے طول و عرض پر پھیلے ہو ئے تمام تعلیمی اداروں میں شاید آپ کی ہی حکومت رہی ہو لیکن کچھ طلبہ آپ کی جماعت کے رکن نہیں بھی رہے اور لازم نہیں کہ  جو آپ کے ساتھ نہیں وہ آپ کا مخالف ہی ہوگا، میں گورنمنٹ سائنس کالج اور زکریا یونیورسٹی کا طالب علم رہا ہوں، اور دل پر لگی مہر کے باعث جمعیت تو کیا کسی بھی جماعت کے ساتھ چل نہ  سکا۔ لیکن ایک خاموش تماشائی کے طور پر الحمداللہ جمعیت اور دوسری طلبا تنظیموں کو دیکھا، اب کا تو پتہ نہیں زمانہ طالبعلمی میں ایک نعرہ زبان زد عام تھا،
ورسٹی ٹو ورسٹی جم جم جمعیت

پنجاب یونیورسٹی میں ہمیشہ جمعیت کسی ،مسکین کی طرح مار کھاتی رہی اور اگر یہ آپ تمام بھائی جو اس وقت جس صبر کی بات کر رہے ہیں اس کا انتہائی اچھی طرح اندازہ ہے۔
کچھ باتیں حدود و قیود کے دائرہ میں رہ کر کی جاتی ہیں تاکہ صبر کا دامن بھی ہاتھ سے نہ  چھوٹے اور الفاظ میں سختی بھی نہ ہو لیکن اگر   بھائی ایسی ہی زبان اور الفاظ استعمال کرنا  اور سننا چاہتے ہوں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
میری آنکھوں کے سامنے ایک لڑکے کو گولی ماری گئی اور اسی وقت مظلوم بن کر سائنس کالج اور ایمرسن کالج بند کروا کر 6 نمبر چونگی اور 9 نمبر چونگی سٹاپ بند کروا دیے گئے۔

ایسے بہت سارےجمعیت کی مظلومیت اور بے کسی کے معاملات ان گناہگار نگاہوں کے سامنے وقوع پذیر  ہوئے ہیں۔پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل ہوں یا فیصل آباد میں کوہ نور مل والے فلیٹس ہمیشہ دوسری تنظیموں نے قبضہ کر کے جمعیت کا نام لگایا اور جمعیت بیچاری اپنی کم مایگی کے باعث کچھ نہ کر سکی۔
جناب بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ  آپ بھی ان نہتے بھائیوں کی طرح ڈنڈے اور کرکٹ بیٹ اٹھا کر ایس پی کی گاڑی کے شیشے توڑ دیں ،یا پھر حقیقت میں صبر کریں اور مکافات عمل کی دعا کریں کہ  جمعیت بھی طاقت میں آئے اور اپنے بدلے لے، اس وقت تک خدا میرے بھائیوں کو صبر کے ساتھ ساتھ دلی و دماغی سکون عطافرمائے!
اور رب العزت کی ذات میرے دل پر لگی ہوئی مہر بھی دھو ڈالے تاکہ مجھے ظالم اور مظلوم میں فرق نظر آئے آمین!

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *