• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آسیب زدہ بینچ: رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خودکلامی کی اذیت” کا اقتباس

آسیب زدہ بینچ: رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خودکلامی کی اذیت” کا اقتباس

تم جانتے ہو میں خاموشی سے خوف کھاتی ہوں۔مجھے سناٹے خوفزدہ کرتے ہیں۔تنہائی میں ہواؤں کا چلنا مجھے سہما دیتا ہے۔خاموشی جتنی شدید ہوتی جاتی ہے میری روح اتنی بے چین ہوتی جاتی ہے۔مجھے خاموشی اور تنہائی سے وحشت ہوتی ہے۔
تمہیں یاد ہے ویرانی میں اکثر میں تمہارا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیتی تھی۔اور تم مسکرا کر کہتے تھے
“میری پیاری ! تمہارے دل کی دھڑکن باہر تک سنائی دے رہی ہے۔اور میں جانتا ہوں اس وقت تمہارے  دل میرے لئے نہیں بلکہ ویرانی کے خوف سے گھبرا کر دھڑک رہا ہے۔اور یوں تو مجھے جلن ہونی چاہیے کہ  تمہارا دل میرے سوا کسی اور بات کے لئے دھڑکے پر میری جان , اس خوف کے عالم میں جو تم نے بے ساختہ میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا, اس کے لئے تمہارے دل کی یہ گستاخی معاف کئے دیتا ہوں”

اور میں یہ سنتے ہی مسکرا کر سب بھول جاتی تھی۔ہواؤں کا شور مجھے سریلا لگنے لگتا تھا۔خاموشی ایک نعمت کے جس میں تم میری دھڑکن کو محسوس کر سکو اور میں تمہاری دھڑکن کو۔۔

یاد ہے ہر شام جب ہم یہاں آتے۔ اس بینچ کے قریب بہت سناٹا ہوتا تھا۔ہم یہاں بیٹھ کر ہمیشہ چائے پیتے اور چائے سے اٹھتا دھواں کس وقت ختم ہو جاتا ہمیں معلوم ہی نہ ہوتا۔اور ہمیشہ ہمیں ٹھنڈی چائے پینی پڑتی۔اور تم اسی بینچ پر مجھ سے کئی محبت کے وعدے اور دعوے کرتے تھے۔وفا کی باتیں کہتے اور وفا کی یقین دہانی کراتے اور تم نے اسی بینچ پر بیٹھ کر مجھ سے کہا تھا کہ
“میری جان ! مجھے شوق ہے کے کمرے میں دو کرسیاں ہوں۔اور تم چائے بنا کر لاؤ۔سامنے میز پر کتابیں بکھری پڑی ہوں۔اور تم وہاں پڑی عینک اٹھا کر اس عینک پر پڑی دھول کو صاف کر کے میری آنکھوں پر سجا دو اور شاعری کی ایک کتاب میرے ہاتھ میں تھما کر بولو کہ میں تمہیں شاعری سناؤں۔اور جانتی ہو میں صرف محبت پر موجود شاعری تمہیں سنایا کرونگا۔اور تم سنتے سنتے میرے شانے پر سر رکھ دو گی اور ہم یونہی بیٹھے بیٹھے کئی گھنٹے گزار دیں گے۔ اور چائے! وہ تو کب کی سوکھ چکی ہوں گی۔کپ خالی ہو چکے ہونگے۔چائے خشک ہو کر کپوں میں جم چکی ہو گی۔اور میں اضطراب میں تمہارا ہاتھ تھامو گا۔ جس پر رگیں واضح ہو رہی ہوں گی۔میں حیرت سے تمہارہ چہرہ دیکھو گا جہاں ایک صدی کی لکیریں جھریوں کی شکل میں براجمان ہوں گی اور تمہارے چہرے پر پھر بھی سکون ہو گا۔میں حیرت سے تمہیں دیکھوں اور تم مسکرا کر آئنہ میرے ہاتھ میں تھما دو اور میں میرا چہرہ دیکھ کر مسکرا دوں ۔چائے یونہی تھوڑی چند گھنٹوں میں خشک ہوتی ہے۔ایک عرصہ لگتا ہے۔اور وہی عرصہ لاشعوری طور پر ہم گزار چکے ہوں گے ۔اور یونہی باقی کا عرصہ گزارنے کو تم پھر سے میرے شانے پر سر رکھ دو۔”
تم نے کتنی خوبصورتی سے اسی بینچ پر بیٹھے بیٹھے تمہارے ساتھ شروع ہونے والے خوبصورت سفر کو جوانی سےبڑھاپے اور بڑھاپے سے آگے شروع کردیا تھا۔۔
ہاں ! چائے واقعی ہی ایک لمحے میں خشک نہیں ہوتی۔ میز پر رکھی اکثر چائے تمہاری یادوں میں ٹھنڈی ہو جاتی ہے مگر خشک نہیں ۔شائد جس دن وہ خشک ہو جائے اس دن تم لوٹ آؤ۔
مگر تمہارے ساتھ سفر تو شروع ہونے سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو گیا۔تمہارے جاتے ہی سب ختم ہو گیا۔
تمہیں یاد ہے اکثر جب سوکھے پتے اس بینچ کے ارد گرد بکھرے پڑے ہوتے تھے اور ہم پتوں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھ جاتے تھے کئی پتے ہمارے پاؤں کے نیچے مزید بکھر جاتے۔
ہر شام جب میں تمہارے ساتھ اکیلی اس بینچ پر بیٹھی ہوتی تھی۔ اور تم شال سے لپٹے میرے وجود کے گرد اپنی بازو کا حصار بنا لیتے اور اس بینچ پر رات کی تاریکی، محسور کن سناٹے، رنگ برنگی روشنیوں سے پیدا ہونے والے رنگوں میں میرے وجود میں تم اپنی محبت کے اظہار سے رنگ بھرتے تو یہ لمحے بہت خوبصورت ہوا کرتے تھے۔۔ ہر اس لمحے جب تنہائی میں, سناٹوں میں اور ہماری دنیا، جس میں صرف تم بار بار اپنی محبت کا حصار میرے گرد سخت کرتے جاتے یہ بینچ روشن ہو جاتا۔اور اس کی روشنی ہماری محبت کو ہر بار ہی روشن کرتی جاتی۔
اور جب ہم اٹھ کر واپس جا رہے ہوتے تو ہر بار میں پیچھے مڑ کر اس بینچ کو دیکھتی جو روشن ہی نظر آتا اور ہمارا عکس ہمیشہ ہمارے اٹھنے کے بعد بھی وہاں موجود ہوتا۔اور محبت کی گفتگو مجھے دور تک سنائی دیتی رہتی۔۔
جانتے ہو وہ سوکھے پتے جو پہلے سے ہی بکھر چکے ہوتے اور جن کو پھر سے کئی  بار ہم پاؤں کے نیچے مسل کر مزید بکھیر دیتے تھے۔ اب انہی پتوں کی مانند تمہاری یادیں میری روح کو ہر روز کئی کئی  بار مسل رہی ہیں اور میں بکھرے ہوئے وجود کو مزید بکھرا ہوا, مسلا ہوا محسوس کرتی ہوں۔

مگر آج میں جب یہاں اس بینچ کے قریب سےگزری تو سناٹے ناچ رہے تھے۔ویرانی راج کر رہی تھی۔ خاموشی قیامت کی سی تھی۔
اور میں آج خوفزدہ بھی نہیں تھی۔مجھے ہجر کی اذیت سہتے سہتے اب خاموشی کی وحشت سے بھی لگاؤ ہو گیا ہے۔
یونہی میں خاموشی سے تنہا یہاں اس بینچ سے دور بیٹھ گئی ۔ اور اس خالی بینچ کو دیکھتی رہی۔مجھے لگا میرے تصور سے نکل کر تم حقیقت کا لبادہ اوڑھ کر اس بینچ پر پھر سے چائے کا کپ لئے آن بیٹھے ہو۔
اور میں اس تصور کو دیکھتے دیکھتے آس پاس کی ویرانی سے بیگانی ہو کر زمین پر ہی بیٹھی رہی ۔اس بینچ سے آج بھی تمہاری محبت کے اظہار کی آوازیں آ رہی تھی۔بینچ کی روشنی غائب تھی شائد وہ روشنی جھوٹے وعدوں اور دعووں نے نگل لی۔
تمہارے محبت کے اظہار کی تیز ہوتی آوازیں سن کر میرا دل اتنا زور سے دھڑکا کے میں چیخ اٹھی۔۔

میں نے آگے بڑھ کر اس بینچ کو چھوا۔ تم نہیں تھے۔کوئی نہیں تھا۔آس پاس خاموشی تھی۔سناٹے میرے کانوں میں چیخ رہے تھے۔میں گھبرا کر بھاگنے لگی تو بینچ نے مجھے کھینچ کر یہاں زبردستی بٹھا لیا۔
جانتے ہو تم آج بھی اس بینچ پر موجود ہو۔تمہارے تمام وعدے اس بینچ پر سنائی دے رہے تھے۔چائے کے کپ سے اٹھتا دھواں بھی محسوس ہو رہا تھا۔تمہارے ہلتے ہونٹ چمکتی آنکھیں سب میرے سامنے تھے اور میں ہاتھ بڑھا کر چھونے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔کے مجھے تم سے وحشت ہو رہی تھی۔ہاں وحشت! مجھے تمہارے تصور کا یوں سامنے ہونا خوفزدہ کر رہا تھا۔تمہارا ہاتھ تھام کر جو مجھے سناٹے بھول جاتی تھی۔ آج تمہارا تصور کر کے مجھے مزید خوف آ رہا ہے۔یہ بینچ آسیب زدہ ہے۔یہاں تم آج بھی بیٹھے ہو۔جو شخص اس بینچ پر بیٹھ کر محبت کے دعوے کرے گا اس کی محبت کو تمہاری بے وفائی کا آسیب لگ جائے گا۔یوں ہر محبت کو زوال آئے گا۔ہر شخص بے وفا ہو جائے گا۔

سنو ! میں نے یہ بینچ توڑ ڈالا.میں مزید کسی کی محبت کو تمہارے سائے سے برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔میں نے اس بینچ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔مگر اسکا تو ہر ٹکڑا اب بھی تمہاری ہی آواز میں بول رہا ہے۔میں نے اس بینچ کے ٹکڑوں کو آگ لگا دی ۔آگ کی لپٹوں سے بھی تمہاری ہی آواز آ رہی تھی۔ بے وفائی کے راگ اس آگ کی لپٹوں کے سنگ بلند ہو کر سنائی دے رہے تھے۔میں نے اس بینچ کی راکھ کو زمین میں دفن کر دیا۔
اور جانتے ہو اس زمین پر اگنے والے تمام لال گلاب سوکھ گئے۔صرف کانٹے پروان چڑھنے لگے۔وہی ہجر کے کانٹے جو میرے وجود میں پیوست ہو چکے ہیں ۔اس جگہ پڑے دانے چگنے والے معصوم پنچھی نیلے ہو کر تڑپ کر مرنے لگے۔اس جگہ پاؤں رکھنے والوں کے قدم جلنا شروع ہو گئے۔اس فضا میں صرف اب زہر ہے۔تمہارے جھوٹوں وعدوں اور دعووں کا زہر۔ بے وفائی کا زہر ہر جگہ پھیل رہا ہے۔تمہاری اذیت سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ بینچ راکھ ہو کر دفن ہو کر بھی سب کچھ راکھ کر رہا ہے۔یہ تم ہو جو سب کچھ راکھ کر رہے ہو یہ تمہارا تصور کا آسیب تھا جو اس روشن بینچ کو نگل کر زہریلا کر گیا۔
تو سوچو۔۔
میں جو خود میں تمہیں سمیٹے بیٹھی ہوں۔میں جو خود میں تمہارے ہر وعدے ہر دعوے کو لئے جی رہی ہوں۔میں کتنی زہریلی ہو چکی ہوں۔کہ کوئی میری طرف محبت کا ہاتھ بڑھائے گا تو زہر اس کی شریانوں سے ہوتا ہوا اسکے دل تک پہنچ کر اسکے وجود کو نیلا کر دے گا۔
تمہاری بے وفائی کا زہر اب چھوت کی بیماری کا سا ہے اب یہ بے وفائی مسلسل منتقل ہوتی رہے گی۔یہ اذیت کی اب کوئی کاٹ نہیں۔اسکا کوئی طبیب نہیں۔
اب یہ ہجر کی اذیت سہتی سہتی جب میں مر جاؤں گی مجھے چھونے والے نیلے ہو جائیں گے۔مجھے مٹی میں دفنانے سے مٹی زہریلی ہو جائے گی اور جانتے ہو پھر محبت کی برسنے والی بارش بھی اس زہریلی مٹی سےمحبت, امید، یقین, وصل اور سکون کا کوئی اناج نہیں اُگاۓ گی۔کسی محبت کرنے والے کے نصیب میں یہ سکون کا اناج نہ آئے گا۔
اور اگر مجھ کو جلایا جائے گا تو فضا زہریلی ہو جائے گی جو اپنا زہر لئے محبت کرنے والوں کے گرد بے وفائی کے زہر کا شکنجہ سخت کردے گی اور یہ زہریلا شکنجہ محبت کرنے والوں کا سانس روک دے گا۔
ہائے۔میرے پیارے! یہ کیا ستم کر دیا تم نے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *