میڈیا،مقتل اور مظلوم۔۔۔۔منور حیات سرگانہ

گوجرانوالہ کے گورائی نامی گاؤں کا رہائشی صلاح الدین دماغی طور پر صحتمند نہیں تھا،یہ اکثر موقع ملتے ہی گھر سے بھاگ جاتا تھا ۔اس کے والدین غریب تھے،جیسا کہ گاؤں دیہات میں اکثر ہوتا ہے،کہ غریب لوگ ایسے پیچیدہ دماغی مریضوں کے علاج کی سکت نہیں رکھتے،تو ایسے مریض اگر خطرناک ہوں تو انہیں زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا ہے،اور اگر بے ضرر ہوں تو گھر والے ان سے قدرے بے نیاز ہو جاتے ہیں ،کبھی کہیں سے ڈھونڈھ لائے،کبھی کوئی جان پہچان والا پکڑ کر گھر چھوڑ آیا۔صلاح الدین خطرناک پاگل نہیں تھا۔اس کے والد نے بھی اس کے بازو پر اس کا نام پتا ،متعلقہ تھانے کا پتا اور اپنا فون نمبر گدوا کر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ایسے لوگ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔یہ بھی بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگ گیا۔اور سکیورٹی کیمروں سے چھپنے کی بجائے ان کی طرف رخ کر کے منہ  بھی چڑا لیتا۔یہیں  سے اس کی بد نصیبی کا آغاز ہوا۔اس کی اس حرکت کی ویڈیو ہمارے بریکنگ نیوز فیم ٹی وی چینلز کے ہاتھ لگ گئی،اور سب چینلز میں اس اے ٹی ایم مشین توڑنے والے خطرناک چور کے بارے بریگنگ نیوز دینے کی دوڑ شروع ہوئی۔یہ بیچارہ اپنی مشہوری سے بے خبر پھرتا پھراتا گوجرانوالہ سے فیصل آباد اور وہاں سے رحیم یار خان پہنچ گیا۔وہاں یہ پہچان لیا گیا اور ہجوم کے ہاتھوں پٹتا ہوا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔پولیس والوں نے مار مار کر اس سے کئی کردہ اور ناکردہ جرائم قبول کروا لئے۔

ایک بار پھر ایسے خطرناک چور کے پکڑے جانے پر میڈیا چینلز پر شور برپا ہو گیا۔جس میں ہنسی ،مرچ مسالے کے ساتھ ساتھ پولیس کی پھرتی اور تفتیشی مہارت پر داد و تحسین بھی شامل تھی۔اس کے بعد پتا نہیں ایسا کونسا جرم قبول کروانا رہ گیا تھا،کہ اس غریب ذہنی معذور کے ساتھ بربریت کا وہ کھیل کھیلا گیا،کہ وہ بیچارہ زندگی کی بازی ہی ہار گیا۔اس کے گھر والوں کے پہنچنے  سے پہلے پولیس والوں نے اپنے طور پر اس کا پوسٹمارٹم بھی کروا لیا،تاکہ اپنی مرضی کی رپورٹ لی جا سکے۔

صلاح الدین کی میت کو اس کے ورثاء روتے پیٹتے لے گئے۔ نہلانے سے پہلے اس کے بھائی نے اس کی کچھ تصاویر بنا لیں۔صلاح الدین کی ٹانگوں کے بیچ جسم کے نازک پوشیدہ حصوں پر مارا گیا تھا۔ صلاح الدین کے الٹے ہاتھ پر کسی چاقو کے گہرے زخم کا نشان ہے، ہاتھ کی پشت بھی پھٹی ہوئی ہے۔ سیدھا ہاتھ جلا ہوا ہے کھال ادھڑ چکی ہے جیسے کسی استری سے جلایا گیا ہو،اس کی پسلیوں پر بھی مار کے نشان ہیں، جسم کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں مار کے نشان نہ ہوں، اس لیے صلاح الدین پولیس والوں سے پوچھ رہا تھا کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے۔۔۔؟

پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، امید ہے ہلکی پھلکی رپورٹ بنا کر پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچا لے گی، دوران تفتیش مار پیٹ تو ہوتی ہی رہتی ہے، ٹانگ یا ہاتھ ٹوٹنا تو عام سی بات ہے،صلاح الدین کا کیس بھی کچھ عرصہ عدالت میں چلے گا، پولیس والے دو چار سال سزا بھگتیں گے اور نوکری پر بحال ہو جائیں گے یا پھر حکومت کچھ روپے امداد کے طور پر دے کر لواحقین کو چپ کروا لے گی۔لوگ بھی کسی نئے واقعے کے ہونے تک ایسی باتیں یاد رکھتے ہیں۔

ابھی آج ہی لاہور پولیس کے ایک پرائیویٹ عقوبت خانے کا انکشاف ہوا ہے،جس میں سے قید تشدد زدہ افراد کو وہاں سے نکال تو لیا گیا،مگر ان میں سے ایک گھر پہنچتے ہی زندگی کی لکیر پار کر گیا۔

سب سے بڑا سوال تو یہ ہے،کہ صلاح الدین ذہنی معذور تھا،یا اس پر بہیمانہ تشدد کرنے والے حیوان نما پولیس اہلکار عقل و خرد سے بیگانہ تھے؟۔۔۔آخر اس بیچارے کو اتنا مارنے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی،کوئی غیر ملکی جاسوس تھا؟ کوئی سیریل کلر تھا یا کوئی بچوں کا اغوا کار تھا؟۔کس نے اس ظالمانہ تشدد کا حکم دیا،کس نے یہ ظلم ڈھانے کی حامی بھری۔یہ لوگ خدا سے بھی نہیں ڈرتے۔مظلوم کی آہ تو عرش ہلا دیتی ہے۔

اگر کبھی کوئی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال ہوئی تو کیا پتا اس محکمے میں چھپے ہوئے،کتنے دماغی مریض،نفسیاتی عوارض کے شکار قاتل اور تشدد پسند جنونی منظر عام پر آئیں۔ملک کے طول وعرض سے کتنے عقوبت خانے برآمد ہوں۔کتنے مقتل سامنے آئیں۔

اس واقعے کی سب سے افسوسناک بات میڈیا کا کردار تھا۔میڈیا کا ایسا ہی رویہ ماڈل قندیل بلوچ کے ساتھ بھی تھا۔جیسا کہ پرانے وقتوں میں ہانکا کر کے شکار کے جانوروں کو مقتل کی طرف لا یا جاتا تھا،جہاں چھپے ہوئے ماہر نشانہ باز شکار ہونے والے جانور سے زندگی چھین لیتے تھے۔اسی طرح میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں کسی بھی معاملے پر اتنی سنسنی پھیلاتا ہے،کہ اس کے اثرات کئی لوگوں کی زندگی لے سکتے ہیں۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *