انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس 4)

ابوالحسن، میں نے رات خواب میں دیکھا کہ انسان نے ترقی کرلی ہے۔وہ شعاعوں کی مدد سے دوسرے سیاروں کا سفر کرتا ہے۔اس نے دھاتوں سے اپنے جیسی مورتیاں بنا لی ہیں۔جو اس جیسی بولتی، چلتی پھرتی اور کام کرتی ہیں۔

اس نے ایسی مشین بنا لی ہے۔جس میں دوسری دنیاؤں کی تصویریں نظر آتی ہیں۔اس نے ایک ایسی مشین بھی بنا لی ہے۔جس میں اس نے سب کو محفوظ کر لیا ہے ۔پھر میں نے دیکھا کہ لوگوں کا جم غفیر میری طرف آ رہا ہے۔اور ان میں سے ہر شخص میرا ہم شکل ہے۔میں اتنے سارے لوگوں کو اپنا ہم شکل دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا ہوں۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔

مسافر، مشینوں پر حد سے زیادہ انحصار انسان کو تنہا کر دے گا۔وہ ایک دوسرے سے بیگانہ ہو جائے گا۔اس بیگانگی سے ایسا فساد برپا ہو گا جو عرصے تک انسان کے لئے عذاب بنا رہے گا۔مسافر، سن انسانوں کے دکھ سکھ انسانوں سے وابستہ ہیں۔اور وابستہ رہیں گے۔صرف مشین انسان کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی۔مسافر، انسان دل بھی رکھتا ہے اور مشین دل کو نہیں جانتی۔اور یہی وہ تضاد ہے جسے انسان سمجھتا نہیں۔یہی اس سے بھول ہوئی ہے۔۔۔

یہاں مجلس برخاست ہوئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *