گھروندا ریت کا(قسط19)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چاندنی فسوں خیز تھی اور ماحول سحر زدہ۔دھان منڈی کے غربی حصّے میں واقع شاندار گھر کی بیرونی منڈیر پر وہ چُپ چاپ بیٹھی تھی۔اُس کے پاس ہی وہ بھی بیٹھا ہو ابائیں ٹانگ کو ہولے ہولے ہلا رہا تھا۔اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سنہرا ڈبہ تھاجس کے ڈھکن کو وہ کبھی کبھی انگشت شہادت سے بجانے لگتا۔
ڈھاکہ ابھی ملگجے اندھیرے میں ڈوبا ہی تھاا ور چاند ابھی درختوں کے بہت پیچھے تھا جب اُس نے اُسے رقیہ ہال سے پک کیا۔نیل کھیت سے چھوٹی مارکیٹ والی سڑک پر جب اُس نے گاڑی موڑی تو بولا۔
”تمہاری گھڑی گُم ہوگئی تھی نئی نہیں خریدی۔“
اِس اچانک سوال پر وہ سٹپٹا سی اٹھی۔چند لمحوں کے لیے اُس سے کچھ بولا ہی نہ گیا پھر اُس نے آہستگی سے کہا۔
”گھر پر لکھا تو تھا۔جواب بھی آیا تھا کہ جلد ہی نئی بھیج دیں گے۔پر ابھی تک تو ملی نہیں۔شاید عنقریب ہی کسی آنے والے کے ہاتھ آجائے۔“
اُسے بے حد خفّت کا احساس ہو اتھا۔
”کونسا میک تھی۔“پوچھاگیا۔
”اتنی قمیتی تو نہیں تھی۔کیمی تھی شاید۔“
”پتہ نہیں یہ احساس اب اُس کے دماغ میں کیوں جگہ لینے لگا تھا کہ اُسے فضول جھوٹی گپوں سے اجتناب کرنا چاہئیے۔کُھلے دل و دماغ کا پُر خلوص مرد جو پل جھپکتے میں اس کے دل میں جھانک لیتا تھا اُس کے لہجے سے بہت کچھ اخذ کر لیتا تھا۔وہ اپنے گھر اور افراد خانہ کو خاص طور پر باپ ماں وغیرہ کو بہت کم گفتگو میں شامل کرتی تھی۔“
اب یُوں بھی غلط باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا تھا۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر ٹول بکس میں سے سنہرا ڈبہ نکالا اور اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔
”اِسے دیکھو۔یہ کیسی ہے؟“
بڑا عجیب سا لگا اُسے۔وہ گُم سی بیٹھی تھی جب اُس نے کہا۔
”ارے کھولو اِسے۔مداری کی پٹاری تو نہیں ہے کہ ڈھکن اٹھاتے ہی کوبرا سانپ پھن لہراتا ملے گا۔“
مگر اس نے نہ ڈھکن کھولا اور نہ کوئی بات کہی۔
”کمال ہے یار کیا ہوگیا تمہیں؟“ کھول کر دیکھونا۔
”میں نے نہیں کھولنا اسے۔“
”اوّل درجے کی احمق لڑکی ہو۔“کہتے ہوئے اُس نے ڈبا اس کے ہاتھ سے پکڑا۔اُس کا ڈھکن اُوپر اُٹھایا۔اندر خوبصورت اور نفیس سی ایک گھڑی جھلملا رہی تھی۔
کار اُس نے ایک طرف پارک کی۔ڈبا اس کے ہاتھوں سے لیا اور اُس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے بولا۔
”لاؤ میں پہناؤں۔تمہیں اِس کی اشد ضرورت ہے۔“
اُسے یکدم یوں محسوس ہوا تھا۔جیسے اندر کوئی آتش فشاں پھٹ گیا ہے۔اور تابڑ توڑ زلزلوں کے جھٹکے اُس کی ہستی کو فنا کرنے والے ہوں۔ایک بار نہیں بیسیؤں بار اُس نے محسوس کیا تھا کہ وہ اُس کے معمولی سے جسمانی لَمس سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے۔اور ناگریز سی صورت حال کے سوا کبھی اُس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔یہی وہ چیز تھی کہ وہ اُس کے نہاں خانہ دل میں بُہت نیچے اتر گیا تھا۔
اُس نے اُس کا خوبصورت ہاتھ کار میں جلتی روشنی میں دیکھا۔دُبلا نازک ساجس کی لانبی مخروطی انگلیاں سُرخ پالش میں ڈوبے ناخنوں کے ساتھ بہت آرٹسٹک لگتی تھیں۔
یکدم اُس کے دماغ میں کالج کی وہ الڑاماڈرن لڑکیاں گھوم گئیں جو آئے دن قمیتی چیزیں پہنا کرتیں۔
گوشی پُراسرار سے انداز میں کہتی۔
بھئی وہ نیلی پیلی کاروں والے گھنٹہ گھنٹہ بھر کالج گیٹ پر ان مہارانیوں کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں تو یہ عنایات اُنہی لوگوں کی ہیں۔یہ زبیدہ اور تہمینہ کے تو فیملی بیک گراؤنڈ سے مجھے پوری واقفیت ہے۔نچلے متوسط طبقے کی لڑکیاں ہیں۔راحت زماں اور آمنہ سعید ان سبھوں کا شمار اسی کلاس میں ہوتا ہے۔بھلا نچلے متوسط اور درمیانے متوسط درجے کے گھروں کی لڑکیاں جن کے بہن بھائیوں کی تعداد بھی ماشاء اللہ سے خاصی ہوتی ہے اور وہ سب خیر سے زیر تعلیم بھی ہوں۔ خود سوچو اِن حالات میں لڑکیاں ان الّلے تلّلوں کی کہاں متحمل ہو سکتی ہیں۔جب تک یہ اُوپر کی کمائیاں نہَ ہو۔
اِس اُوپر کی کمائی کی تفصیلات جان کر تو وہ لرز گئی تھی۔
ا ور رات کے اِن تاریک لمحوں میں اُس نے دکھ اور کرب سے سوچا۔
میرے متعلق بھی ایسے ہی سکینڈل مشہور ہوجائیں گے۔
وہ تڑپ کر رہ گئی۔
”نہیں نہیں مجھے یہ نہیں چائیے۔آپ مجھے کیا اس حد تک زیر بار کرنا چاہتے ہیں کہ میں گردن ہی نہ اٹھا سکوں۔“
اُس کی گلوگیر آواز میں درد ناک سی التجا تھی۔
کار کے اندر مدھم روشنی تھی۔مگر اِس کے باوجود وہ اُس کے چہرے پر پھیلے دردکو بخوبی محسوس کر سکتاتھا۔
مزید اصرار کی بجائے اُس نے خاموشی بہتر سمجھی۔گھڑی اور کیس دونوں سیٹ پر رکھے اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔نیو ڈھاکہ کی مختلف سڑکوں کے موڑ کٹتے رہے اور پھر دھان منڈی کے غربی علاقے میں ایک خوبصورت کشادہ سی کوٹھی کے سامنے رُک گیا۔پھاٹک بند تھا۔
ایک تیز گونج دار آواز میں اُس نے چوکیدار کو بُلایا۔پھاٹک کُھلا اور وہ اندر آگیا۔گاڑی سے اُترتے ہوئے بولا۔
”کچھ دیر کی معافی چاہوں گا۔یہ جہاں آراء آپا کا گھر ہے۔کرایے پرا اٹھایا ہوا تھا۔اس ماہ خالی ہوا ہے۔ صبح سے دوبار فون آچکا ہے کہ ٹی وی روم کی چھت ٹپکتی ہے۔اِس کی مرمت کا کچھ انتظام کردوں۔جہاں آراء آپا کے دونوں بیٹے احتشام اور مستفیض باہر گئے ہوئے ہیں۔
وہ فرنٹ کوریڈور میں پہنچ کر رُک گیا۔پھر وہیں سے رُخ موڑ کر بولا ”تم یہاں اکیلے کیا کروگی۔میرے ساتھ آجاؤ اور ہاں یہ گھڑی اور کیس اٹھاتی لانا۔“
اِس قدر شاندار گھر تھا کہ وہ دیکھ کر سخت مرغوب ہوئی۔ٹی وی روم کی چھت کے معائنے سے فارغ ہوکر وہ اندرونی سیڑھیوں کے راستے اُسے چھت پر لے آیا۔
دُودھیا چاندنی،دھان منڈی کے بلند وبالا پرشکوہ گھر،اُن میں اُگے کیلوں اور پپیتوں کے درخت سبھی مل جل کر پُر اسرار ماحول پیدا کر رہے تھے۔
وہ چھت کی بیرونی دیوار پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
”زندگی اِس قدر مُصروف ہوگئی ہے کہ فطرت کی رعنائیوں سے لُطف اندوز ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔دیکھو تو کِس قدر خوبصورت سماں ہے۔
وہ بھی اس کے پاس ہی دیوار پر ذرا ساٹک گئی۔
کچھ دیر وہ خاموشی سے گھڑی کے سٹریپ کو ہاتھوں سے مَسلتارہا پھر محبت اور شفقت گُھلی آواز میں بولا۔
”نجمی تم کہتی ہو۔میں تمہیں زیر بار کر رہا ہوں۔کیا تم بتا سکو گی کہ ایسا کرنے سے مجھے کیا حاصل ہوگا۔“
ایک لمحے کے لیے اُس نے گہرا سانس لے کر آنکھیں بند کیں۔چاند کی چاندنی کا سارا نور اپنے چہرے پر سمیٹا اور پھر جیسے وہ اپنے آپ سے بولی۔
”تم ماحصل کی بات کرتے ہو۔میں شاید تمہیں کبھی یہ نہ بتا سکوں کہ تم میرے لیے کیا بن چکے ہو؟“
وہ چند دن جو اُس نے اپنی علالت کے دوران اس کے گھر پر گذارے تھے۔اِن دنوں نے رحمان کی شخصیت کی اُن پر توں کو بھی نمایاں طور پر اُجاگر کر دیا تھا۔جو اُس سے پہلے اُس کے سامنے نہیں آئی تھیں۔اُس کے خُلوص اور شفقت سے تو وہ متاثر تھی ہی۔اُس کے اچھے کردار کی بھی قائل ہوگئی تھی۔
وہ حوصلہ مند، دلیر اور جی دار بھی تھا اس کا اندازہ اُسے اُس شام ہوا جب اُن کی ملاقاتی دو خواتین آئیں۔وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا اُسے پھل کاٹ کر دے رہا تھا۔نوکر نے اطلاع دی۔اُس نے گھبرا کر اُسے دیکھا پر وہ چہرے پر غایت سکون لیے اِسی طرح بیٹھا سیب کاٹتا رہا۔نوکرکے استفسار پر بولا۔
”بیوقوف ہو۔مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ یہیں بلا لاؤ۔
وہ گھبرائی۔سیب کا وہ ٹکڑا جیسے وہ کھا رہی تھی اُس کے حلق میں پھنسنے لگا۔بمشکل اُس نے کہا۔
”وہ لوگ کیا سوچیں گی؟آپ انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں اور وہیں بات کریں۔
”کیوں میں مجرم ہوں جو بھاگتا پھروں اور تمہیں اُن سے چھپاؤں۔ بے تکلف ملنے والے لوگ ہیں۔اہتمام سے بٹھانے اور خاص طور پر اُن کے لیے ڈرائنگ رُوم کھولنے کی ضرورت کبھی نہیں محسوس کی گئی۔وہ تعزیت کے لئے آئی ہیں۔طاہرہ کے بارے میں بھی معلوم کرنا ہوگا کہ وہ کب آرہی ہے؟
آنے والی دوخواتین تھیں۔اُنہوں نے کڑی نظروں سے اُس کا معائنہ کیا اُس نے تعارف نارمل انداز میں کراویا۔اپنے عزیز دوست کی بہن بتایا۔اُس کی بیماری کا تذکرہ کیا۔
وہ جب چلی گئیں۔تب اُس نے کہا۔
”میں انسانوں سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوا۔ضمیر کی سچائی نہ صرف اطمینان قلب دیتی ہے بلکہ یہ جرأت اور حوصلہ بھی عطا کرتی ہے۔تمہارے سلسلے میں میرے پاس دونوں چیزیں ہیں۔
اور اُس کی آنکھیں گیلی ہوگئی تھیں۔
یہی کیفیت اُس وقت بھی اُس پر طاری ہوئی جب اُس چاندنی رات میں وہ اس کے پاس بیٹھی تھی اور اپنے آپ سے کہتی تھی۔
میں تو اب یہی کہوں گی کہ تم اگر میرے ساتھ کوئی زیادتی بھی کرجاؤ گے تو اتنا ضرور ہو گا کہ وہ اُونچا مقام جو تم نے حاصل کر رکھا ہے اُس سے گر جاؤ گے پر تم سے نفرت یہ اب میرے بس کی بات نہیں۔
بے کلی کسی لاوے کی طرح اُس کے سینے سے پھوٹی۔بے اختیار وہ اٹھی اور اس کے قدموں میں جُھک گئی۔سراس کے گھٹنوں پر رکھتے ہوئے اس نے رُوندھے گلے سے کہنا شروع کیا تھا۔
آپ سمجھئے نا۔مجھے خلوص اور اپنائیت کی جو دولت اِس سرزمین پر آپ سے ملی ہے بس وہ قیمتی ہے۔مجھے اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہئے۔
”ارے بیوقوف احمق لڑکی۔“
اُس نے ہنستے ہوئے اُسے اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر یُوں اٹھایا جیسے وہ کانچ کا ایک نازک کھلونا ہو۔اپنے بالکل قریب بٹھاتے ہوئے اُس نے پہلی بار اس کے سر کو اپنے شانوں پر رکھا۔اُس کے گھنے چمکدار بالوں پر اپنا دایاں رُخسار جُھکاتے ہوئے اور اس کے گرد اپنے بازوؤں کا ہالہ بناتے ہوئے وہ بولا تھا۔
”میں تمہارے اِن احساسات کے لیے تمہارا شُکر گذار ہوں۔پر خود سوچو میں نے تمہیں کیا دیا؟اس چھوٹی سی چیز کے لیے تمہارا واہ ویلا کرنا مجھے ہنسی آتی ہے۔تمہیں معلوم ہے میں پُوربو پاکستان کاپانچواں امیر ترین آدمی ہوں۔“
میں تمہارے ذہن میں مچلتے ہراحساس سے واقف ہوں۔شاید تمہارا خیال ہے کہ تمہیں احسان مند کر کے ایک دن میں تم سے اصل بمعہ سوُدوصول کر لوں گا۔
ٍ دیکھو نجمی میں فرشتہ نہیں۔اگر یہ کہوں کہ میں ایک اچھا انسان بھی نہیں۔تو غلط نہیں۔میری بہت سی دوست لڑکیاں ہیں جن سے میرے تعلقات خوشگوار ہیں۔فلش بھی کھیلتا ہوں ریس میں بھی کبھی مُنہ ماری کر لیتا ہوں۔ڈانس بھی کرتا ہوں اور شراب بھی پیتا ہوں۔میری بیوی سے اگر تم میری بابت رائے پُوچھو تو وہ بہت سی اور باتوں کے ساتھ یہ بھی کہے گی کہ مجھے نظربازی کی بھی لَت ہے جو دراصل نہیں۔
تم کہو گی کہ میں کسر نفسی سے کام لے رہا ہوں اور ہرگز ہرگز ایسا نہیں۔کیونکہ تم نے میرا جو روپ دیکھا ہے۔وہ یکسر فرق ہے۔تم خود فیصلہ کرو کہ ایک بھولی بھالی معصوم سی بے ضرر لڑکی جس نے مجھے اپنے خیالوں کے سنگھاسن پر دیوتا بنا کر بٹھایا ہوا ہے۔اب میں کیسے جذبات یا ہوس کے ہاتھوں اُس اِتنے اونچے مقام سے اُتر کر حیوان بن جاؤں۔تم میرے لیے بہت پوتّر ہو۔“
باقی رہی یہ گھڑی تم گھر سے دُور ہو۔طالب علم ہو۔ تمہیں اِس کی اشد ضرورت ہے۔اِسی مقصد کے لیے اِسے خریداگیا۔میرے جذبے کوسمجھنے کی کوشش کرو اور بلا وجہ دماغ مت اُلجھاؤ۔“
اور جب وہ کار سے اُتر کر رقیہ ہال کے اندر آئی اور اُس نے آڈٹیوریم کی تیز روشنی میں اپنی کلائی کو دیکھا۔سُتون کے ساتھ ٹک کر اُس نے آنکھیں بند کرلیں اور بے اختیار ہونٹ اُس جگہ چپک گئے۔
جہاں گھڑی بندھی تھی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *