اُمت ۔۔۔ہارون الرشید

کیا ہم امت کا رونا روتے اچھے لگتے ہیں؟
ہمارا ایک اقتدار پر قابض سابق جرنیل صدر ہوتا تھا جو ڈرتا ورتا کسی سے نہیں تھا، وہ سب سے پہلے پاکستان کے نعرے مارا کرتا تھا۔۔اُس کے دور میں افغانستان پر بمباری ہوئی، امریکی طیارے ہمارے اڈوں سے اڑ کر ہمارے مسلمان  بھائیوں کے جسموں کے پرخچے اڑایا کرتے تھے۔وہ قربانی کی گائے کی طرح کشمیر کے سات ٹکڑے کرنے کا حل پیش کیا کرتا تھا۔

ہمارا ایک سابق وزیراعظم ہوتا تھا جو خیر سے اب جیل میں ہے، وہ مودی کی ماں کو ساڑھیاں اور مودی کو آموں کی پیٹیاں تحفے میں بھیجا کرتا تھا،ویزے اور پروٹوکول کے تکلفات میں پڑے بغیر مودی کو اپنے فیملی فنکشنز میں بلایا کرتا تھا۔۔

پھر آیا ہمارا ہینڈسم وزیراعظم، ماشااللہ، اللہ نظر نہ لگائے ،یہ تو پچھلوں سے بھی زیادہ پھرتیلا نکلا۔۔ابھی رات قوم سے خطاب میں خبر دے رہا تھا کہ مودی نے الیکشن میں پاکستان مخالف کمپین چلائی لیکن قوم کو یہ نہ بتایا کہ یہ خود مودی کی جیت کا تمنائی تھا۔۔کہتا تھا، مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
بڑے فخر سے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ مودی کو بار بار فون کر رہا ہوں، وہ فون نہیں اٹھا رہا۔۔ حالانکہ یہ بات فخر نہیں شرم سے کہنی چاہیے تھی۔
ابھینندن کو بغیر مطالبے کے غیر مشروط بھارت کو واپس کر دیا۔۔. (حالانکہ اس کو رکھ کے ہم نے کرنا بھی کیا تھا لیکن اتنی جلدبازی کی بھی ضرورت کیا تھی)سرحد کے اُس پار سے باقاعدہ درخواست کے بغیر ہی کرتارپور راہداری کھولنا بھی موجودہ حکومت  کا ہی   کارنامہ ہے۔سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن تعلقات بس سرسری سے ہی محدود کیے۔فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا لیکن مودی  دو گھنٹے ہماری حدود سے پرواز کرتا ہوا اپنا مقدمہ پیش کرنے فرانس گیا اور وزیراعظم کا ایک بے شرم کھلاڑی کہتا ہے کہ فضائی حدود بند کیں تو یہ جارحیت ہو گی۔ (جیسے انڈیا جو کر رہا ہے اُسے تو ہار پھول پہنانا کہتے ہیں)  اور جس نے خود کشمیر کی آزادی کا لائحہ عمل  یہ دیا کہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے سرکاری ملازمین  بارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک احتجاجی جمعہ بازار لگائیں گے۔۔

جب ہم خود واری صدقے جا رہے ہیں، تو عربوں سے کس بات کا تقاضا اور توقع۔ جیسے ہم اپنے مفاد کی خاطر افغانیوں کا قتل عام کروا سکتے ہیں، مودی کے آگے پیچھے بچھ سکتے ہیں، ویسے ہی عرب کشمیر کو نظرانداز کر کے اپنی سرمایہ کاری کو تحفظ دے رہے ہیں تو کیا برا کر رہے ہیں؟۔۔۔۔ امت کا راگ وہ الاپے جو امت کا درد بھی رکھتا ہو!

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *