بد گمانی کی پہلی سیڑھی۔۔۔ڈاکٹر شاکرہ نندنی

بد گمانی کی پہلی سیڑھی ! “مجھے لگا ” یہ ایک بڑی ہی عجیب فلاسفی ہے ، بعض دفعہ لوگ اپنے اندر ایک بھیانک سی دنیا آباد کر لیتے ہیں اور عرصہ دراز  تک خود کو اس سےڈراتے رہتے ہیں کہ دنیا بہت ہی خوفناک ہے۔ جب کہ یہ مصنوعی دنیا صرف ان کے اندر ہی بستی ہے اور اس کا باہر کی حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہ فلاسفی لوگوں کو خود بھی پریشان رکھتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی خاصی اذیت کا باعث بنتی ہے۔ ایک ہی طرح کے حالات و واقعات کو کچھ لوگ انتہائی مثبت انداز میں لیتے ہیں کیوں کہ ان کا سارا فوکس مثبت پہلوؤں پر ہوتاہے، جب کہ کچھ لوگ انہیں حالات و واقعات کو دوسری طرح یعنی انتہائی منفی انداز سے دیکھتے ہیں کیوں کہ ان کا سارا فوکس منفی پہلوؤں پر ہوتا ہے۔ اور کچھ اور نایاب قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر مثبت اور منفی کوئی طاقت اثر نہیں کرتی۔

برحال “مجھے لگا ” لگتا صرف اسی کو ہے جو محسوس کرنے  کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثبت سوچ رکھنے والے منفی حالات میں بھی مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ منفی سوچ رکھنے والے مثبت حالات میں بھی منفی کردار ادا کرتے ہیں۔ منفی سوچ کبھی بھی مثبت شخصیت کو جنم نہیں دیتی۔ مثبت انسان بننے کے لیے سب سے پہلا قدم منفی سوچ کو دفن کرنا ہے۔ منفی سوچ ہمیشہ بدگمانی کو جنم دیتی ہے! بدگمانی ایسی بیماری ہے جو انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر معاشرے کی اجتماعی زندگی تک بگاڑ کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔

ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *