• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بوم بوم گالی: گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں پی۔ٹی۔آئی والے پہلے نمبر پر۔۔۔۔۔رمشا تبسم

بوم بوم گالی: گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں پی۔ٹی۔آئی والے پہلے نمبر پر۔۔۔۔۔رمشا تبسم

حضرت ابو ہریرہؓ کی ماں کافرہ تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جب آپ کی خدمت میں عرض کیا تو بجائے غیظ و غضب کے آپؐ نے ان کے حق میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ آپﷺ ذاتی زندگی سے لے کے گھریلو ازدواجی زندگی اور پھر معاشرتی زندگی اور پھربحیثیت نبی اللہ اور پھر بحیثیت داعی الی اللہ اور پھر بحیثیت پیامبر امن اور پھر بحیثیت ایک فوجی جرنیل اور پھر بحیثیت سربراہ مملکت تمام مسلمانوں کے لئے حسنِ اخلاق کا اعلی نمونہ ہیں۔ آپﷺ کا حسن سلوک بچوں, بڑوں ,پڑوسیوں,رشتہ داروں ,عزیروں, دشمنوں ,غلاموں ,لاچاروں سب کے ساتھ ایک جیسا تھا۔مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک عورت کوڑا پھینکتی تھی۔ ایک دن اس نے کوڑا نہ پھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر چلے گئے اس کے گھر کو صاف کیا۔ پانی بھرا تو وہ عورت آپ کا اخلاق دیکھ کر مسلمان ہو گئی۔

آپﷺ  نے آپﷺ کے بدترین دشمنوں اور جنہوں نے آپﷺ  کی جان لینے کی کوششیں کی آپﷺ  اور  صحابہ کرام کو شدید تکالیف پہچائیں ان سب کے ساتھ بھی نرمی کا رویہ رکھا۔اور اپنے  صحابہ کرامؓ  کو بھی یہی تلقین کی اور ان کی ایسی تربیت فرمائی کے  صحابہ کرامؓ  حضرت محمدﷺ کی تعلیمات کی پیروی کرتے اور دوست اور دشمنوں کے ساتھ وہی حسنِ سلوک کا رویہ رکھتے جو نبی پاکﷺ ان کو تلقین فرماتے۔یہی حسنِ سلوک اور قوتِ برادشت تھی کہ  کائنات کی سب سے بڑی فتح ،مسلمانوں نے فتح مکہ کی صورت میں دیکھی۔اور فتح مکہ پر بھی تمام اقتدار اور اختیار ہونے کے باوجود آپﷺ نے تمام دشمنوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔نہ کسی سے بدلہ لیا نہ کسی کوگالی دی۔قربان جائیں ہم شانِ مصطفی ﷺ پر اور ریاستِ مدینہ والوں کے حسنِ سلوک پر۔

اور ایک آج 2019 میں  ریاستِ مدینہ کا نام لیتے ہیں اور ساتھ ہی  لوگوں کو  گالی گلوچ , بد تہذیبی اور بد سلوکی سکھا رہے ہیں۔
سیاست دان کوئی بھی ہو۔اس کا شجرہ نسب جو بھی ہو۔وہ کرپٹ ہو یا نہ ہو۔وہ پاک دامن ہو یا بد کردار۔وہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ۔وہ ملک کے مفاد میں ہو یا نہ ہو۔وہ ملک کا وزیراعظم ہو یا اپوزیشن میں۔وہ کسی کو پسند ہو یا نا پسند ہر صورت میں اس پر تنقید کرنے یا اسکی تعریف کرنے کا حق سب کا ہے۔ا ﷲ کے پیغمبروں  نے بدترین مخالفت برداشت کی کبھی کسی کو گالی نہیں دی۔ ہر طرح سے ظلم و ستم  برداشت کیا مگر لوگوں کو دلائل کے ساتھ قائل کیا نہ کہ  تلوار گلے پر رکھ کر  یا گالی گلوچ سے بات منوائی۔ہمارے نبیﷺ نے تو طائف کے لڑکوں جنہوں نے نبی پاکﷺ کو  زخمی کیا ان کے لئے بھی دعا ہی کی۔

پھر یہ نبی کا کلمہ پڑھنے والے لوگ کون ہیں جو بات بات پر ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں؟ کیا یہ ایک ماں سے پیدا نہیں ہوئے؟ کیا یہ کسی بیٹی کے باپ نہیں ہیں؟ یا کبھی کسی بیٹی کے باپ نہیں بنیں گے؟ کیا یہ کسی بہن کے بھائی نہیں؟  اگر تمام لوگ ایک عورت سے پیدا ہو کر ایک عورت کے بھائی بنتے ہیں ایک  عورت کے شوہر اور اسی عورت کے وجود سے ایک عورت پیدا کرنے کی وجہ بھی تو کس طرح ان کی  زبان سے کسی کی عورت کے لئے گالی نکلتی ہے۔کیسے ان کے ہاتھ سارا سارا دن بیٹھ کر گالیاں ٹائپ کرتے ہیں۔ کسی کی بہن یا بیٹی کو گالی دینے والے درحقیقت اب خود اس معاشرے میں گالی بن چکے ہیں۔اور اگر واقعی نئے پاکستان کا دعویٰ  کرنے  والے ان کی پیداوار اور نشو ونما کے ذمہ دار ہیں تو ان سے ہاتھ جوڑ کر عرض ہے خدارا ان کا الگ صوبہ بنا دیا جائے یا ان سب کو نئے پاکستان میں لے جایا جائے۔جہاں ایک عدد آپ کا ڈی۔جے۔والا بابو ہو۔ ایک عدد جلسے کے نام پر  میوزیکل کنسرٹ  جہاں یہ ناچ گانے میں مصروف رہیں۔ تا کہ عوام کی بیٹیاں ان کی غلیظ اور ناپاک  زبان سے محفوظ رہ سکیں۔

شاہد خان آفریدی جو کہ  پاکستان کا فخر ہے۔جنہوں نے پاکستان کے لئے کھیلا اور کئی مواقع پر عوام کا سر بلند کیا۔وہی شاہد آفریدی حو میدان  میں اترتا تھا تو میدان کی فضا بوم بوم آفریدی کے نعروں سے گونج اٹھتی تھی۔جو کبھی  زیرو پر آوٹ ہو جاتا تو اس کے مرجھائے  ہوئے چہرے کے ساتھ سارا پاکستان مرجھا جاتا۔وہ آفریدی کہ  اگر کبھی بھارت یا بنگلہ دیش سے میچ ہوتا انکے چینل پر خبر آتی کہ  آفریدی کے خلاف ان کے جادو کرنے والے مندروں میں جادو کر رہے ہیں تو  پورا پاکستان آفریدی کے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا تھا۔وہی آفریدی صرف جس کی وجہ  سے آدھے سے ز یادہ پاکستان میچ دیکھتا تھا۔ ایک لیجنڈ ایک پاکستان کا ہیرو۔ اور اس شخص نے صرف اپنی ایک رائے کا اظہار کیا کر دیا ایک کتاب کیا لکھ دی کہ   پی۔ٹی۔آئی کے چاہنے والے اس کی ایک ایک بیٹی کا نام لے کر ایسی ایسی گالیاں لکھ رہے  ہیں کہ  آنکھ اشک بار ہوئی جا رہی ہے کہ  اتنے غلیظ لوگ  بھی دنیا میں موجود ہیں۔شاہد آفریدی کی بیٹیوں کی تصاویر شئیر کر کے مختلف قسم کی بے ہودگی اور غلاظت بولنا عروج پر ہے۔ اور افسوس یہ کہ   عمران کے کچھ چاہنے والے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ گالیاں یہ طریقہ غلط ہے نہ ان کو روکنے کے لئےکھل کر ان پر تنفید کر سکتے ہیں نہ ہی کہیں بحث کر سکتے ہیں کیونکہ  نواز شریف چور ہے اور سارا پیسہ کھانے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کی تربیت,غیرت اور حوصلہ بھی کھا گیا ہے۔

شاہد آفریدی نے چند سوالات کئے ہیں۔ انہوں نے پوچھاکہ  عمران خان نے کرپشن کے خلاف جنگ کی۔کیا ان کا اپنا گھر صاف ہے؟عمران خان کےساتھی صاف ستھرے ہیں؟اگر آپ کا اپنا گھر صاف نہ ہو تو دوسروں پر چیختے اچھے نہیں لگتے۔بہت سے لوگ ذاتی مفادات کے لئے عمران خان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔
شاہد آفریدی کے ان سوالات کا جواب شاید  ہی کبھی کوئی دے سکے کیونکہ ان سوالات کے جوابات تبدیلی کا پول کھول دیں گے۔ان سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پی۔ٹی۔آئی والوں کی قیادت سے لے کر چاہنے والے تمام لوگوں کے منہ پر تھپڑ  آ لگے گا۔لہذا اپنا منہ بچانے کی خاطر آج کل شاہد آفریدی کی طرف گالیوں کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ  عمران خان نے جس جماعت کو  پنجاب کے ڈاکو کہا جس جماعت کو قاتل کہا  یہاں تک کہ    زہرہ آپا کے قاتلوں سے لے کر ڈکٹیٹر کے ساتھیوں اور  پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بے شمار  نمائندوں کو بنی گالہ کے دھوبی گھاٹ سے گزار کر  صاف ستھرا کر کے اپنی جماعت میں شامل کیا۔ ایسے میں دوسروں پر صرف چیخنا اور گالی دینا  درحقیقت عمران خان کی اپنی نا اہلی اور نالائقی چھپانے کے ہتھکنڈے ہیں۔شاہد آفریدی کے سوالات کے جوابات دینا آکسفورڈ   کی ڈگری رکھنے والے  کے لئے اتنا مشکل تھا کہ   ان کے چاہنے والوں نے گالیوں کا سہارا لے لیا تا کہ ان کا کپتان شرمندگی سے بچ جائے۔لہذا بوم بوم آفریدی کو  چند گھنٹوں میں  بوم بوم گالی بنا دیا۔

شاہد آفریدی نے کہا نواز شریف جانتا تھا ڈیلیور کیسے کرنا ہے۔اس کو بھی  دلائل کے ساتھ غلط ثابت  نہیں کر سکے۔واقعی غلط ہوتا تو غلط ثابت  کرتے نا۔سوالات واقعی ہی کسی نا گہانی آفت کی طرح حملہ آور ہوئے۔دلائل کی بجائے گالیوں سے مقابلہ کرنا  زیادہ آسان تھا۔نواذ شریف نے بدترین دور  ڈکٹیٹر مشرف  اور آصف علی زرداری کی مچائی تباہی کے بعد جب ملک سنبھالا تو ملک میں سونے کی نہریں  نہیں بہہ رہی تھیں ۔ایک طرف غربت عروج پر دوسری طرف بجلی ،گیس ،پانی کا مسئلہ ،بے روزگاری  سے بھی عوام مر رہی تھی اور دہشت گردی سے بھی۔ایسے میں ایک ملک کا خیرخواہ کہلانے والا تبدیلی کا نعرہ لگانے والا قوم کی ترقی کی راہ میں آئے دن دھرنے سجا کر بیٹھا ہوتا تھا۔اس کے باوجود  ایک دن نواز شریف نے کہیں رونا نہیں رویا کسی جگہ پاکستان کوبدنام نہیں کیا۔ریٹائرڈ آرمی چیف راحیل شریف کے ساتھ ملکر دہشت گردی ختم کی اوردوسری طرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو عروج دیا۔ کیسا کمال ہے عمران خان اتنے مہینوں میں جس شہر جس ملک گیا جا کر پاکستان کو دنیا کا سب سے کرپٹ ملک قرار دیا ۔یہاں بد عنوانی کے رونے روئے جس کا نتیجہ ہے کہ  کسی ملک نے عمران خان کا نہ ساتھ دیا نہ ہی تعاون  کی یقین دہانی کروائی۔

فیس بک پر بیٹھے سب مفکر بنے سب کچھ لکھ سکتے ہیں گالیوں میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کی جستجو کرنے والے  تمام حق رکھتے ہیں کہ  جو مرضی تحریر لکھے جس پر مرضی الزام تراشی کرےیا جس کو مرضی گالی دے۔مگر ایک لیجنڈ ایک قوم کا ہیرو  ایک کتاب نہیں لکھ سکتا۔وہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر عمران سے سوال نہیں کر سکتا۔
یہ لوگ جو اب شاہد آفریدی کو گالی دے رے  ہیں  یہ وہی لوگ ہیں  جنہوں نے ملک میں عمران خان کی جب دال گلتی نہ دیکھی تو اس ملک سے دہشت گردی ختم کرنےوالے راحیل شریف کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔اس وقت گلی کوچوں میں راحیل شریف کے خلاف بینرز لگائے۔کیا وہ اس وقت آرمی چیف نہیں تھے؟ اب کوئی بات ہو تو فوج کے ساتھ کھڑے ہونےوالے یہ لوگ اس وقت ہیرو راحیل شریف کو زیرو بنانےکے لئے دن رات محنت کر رہے تھے۔

کسی بھی ہیرو کو  زیرو بنانا ان کے لئے بہت آسان ہے کوئی عمران کی حقیقت  سامنے لائے اس کو گالیاں ملیں گی اور جو کوئی کسی بھی جماعت سے اٹھ کر عمران کا دستِ بازو بن جائے وہ معتبر  ہو جاتا ہے ۔عمران خان یا کوئی بھی سیاست دان آسمان سے اتری کوئی آسمانی کتاب یا صحیفہ نہیں ہے کہ  ان پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔یا ان کی پوجا فرض ہے۔لہذا سیاست دانوں کو تنقید سہنی پڑتی ہے۔اور یہ سب کا جمہوری حق بھی ہے۔شاہد آفریدی قوم کی شان ہیں ہمیں افسوس ہے کہ  اس قوم کے کچھ لوگ اخلاقیات سے ناواقف ہیں لہذا ان کی بیٹیوں کی تذلیل پر دل غمگین ہے۔ پی۔ٹی۔آئی  کی قیادت اپنے پیروکاروں سمیت  گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں اول درجہ حاصل کرنے کی  قابلیت اور صلاحیت رکھتی ہے۔
میری تحریر میں اب اگر پی۔ٹی۔آئی والوں کو برائی لگتی ہے تو ان سے عرض ہے کہ
میرے الفاظ گندے نہیں تمہاری سوچ گندی ہے۔میرے الفاظ صرف ننگے ہیں۔(سعادت حسن منٹو)
اﷲ اس قوم پر رحم فرمائے۔ہم واقعی معاشی ،سماجی اور اخلاقی طور پر خسارے میں ہیں۔آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”بوم بوم گالی: گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں پی۔ٹی۔آئی والے پہلے نمبر پر۔۔۔۔۔رمشا تبسم

  1. السلام علیکم!
    آج کی تحریرپڑھ کر کچھ لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔۔کہ آپ کے انداز بیاں پر لکھوں ۔۔۔۔ واہ کیا عمدہ تحریر ہے ۔۔۔۔یا عوام الناس کی سوچ پر افسوس کروں ۔۔۔۔ نہایت دکھ کے ساتھ کہوں گی کہ ہمارے دل سیاہ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم پاکستا ن کے مفہوم کے بالکل الٹ ہوتے جا رہے ہیں پاکستان کا مفہوم”پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ”
    لیکن ہم چن چن کے لوگوں کو گالی گلوچ کر کے تمام دنیا کو خبردار کر رہے ہیں کہ اب ہم پاک نہیں رہے۔۔۔۔ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے اک بچھڑا بنایا ۔۔۔۔ اور اسے معبود سمجھ کر پوجنے لگے۔۔۔ وہ قوم تین حصوں میں بٹ گئی۔۔۔ ایک وہ جو پوجا کرتی ۔۔۔ دوسری وہ جنھوں نے پوجا نہیں کی مگر کرنے سے روکا بھی نہیں ۔۔۔ اور تیسری وہ جو پوجا نہ کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں پوجا کرنے سے روکتی تھی ۔۔۔ جب موسی علیہ السلام غضبناک ہوئے ۔۔۔اور قوم نے معافی مانگی ۔۔ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ جنھوں نے پوجا کی وہ خود کو قتل کے لیے پیش کریں اور جنھوں نے انھیں روکا نہیں وہ قتل کریں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔۔۔ جب کافی لوگ مارے گئے تو حضرت موسی علیہ السلام نے دعا کی ۔۔۔ تب اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جو مارے گئے وہ جنتی ہیں جو باقی ہیں انھیں توبہ کی نوید ہے ۔۔۔ اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آج بھی اس دور کی طرح برائی پر تینہی فرقے ہوتے ہیں ایک وہ جو برائی کرتا اور ان کا ساتھ دیتا ہے ۔۔۔دوسرا وہ جو چپ چاپ دم سادھے دیکھتا ہے اور تیسرا وہ جو برائی کو برائی سمجھتا اور اپنی استطاعت کے مطابق روکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب کوئی خود کو قتل کے لیے پیش نہیں کرتا ہے ۔۔ خود کو مجرم یا غلط سمجھتا ہی نہیں بلکہ غلط کو صحیح ثابت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے ۔۔۔ہمارے سیاسی برادران ہمیشہ دوسروں کی کمزوریوں کو ہدف بنا کر اپنا بچاو کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ اور ان کے نزدیک کمزور ترین ہدف ۔۔۔ ہے عورت ۔۔۔ خواہ وہ بیٹی ہے ۔۔۔بہن یا ماں ۔۔۔ ہے تو کسی کی ہماری تو نہیں لہذا قابل عزت نہیں ۔۔۔۔ گالی دےکر ۔۔۔ عورت کی تذلیل کر کے وہ عزت کے جس منصب پر بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔۔ انھیں ہی مبارک ہو ۔۔۔ سیاسی لیڈر خواہ کوئی بھی ہو ۔۔۔ عمران خان ۔۔۔ یا نواز شریف ۔۔۔ یا کوئی بھی۔۔۔ان کے حامیوں سے درخواست ہے کہ اندھی تقلید چھوڑ کر غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا سیکھیں ۔۔۔۔۔یہی ہماری اصل ہے ۔۔۔گالی دینا مہذب لوگوں کا وطیرہ نہیں ۔۔۔ مسلمانوں کا طریقہ نہیں ۔۔۔ بلکہ منافقین کی پہچان ہے۔۔۔ اور
    اللہ رب العزت نے ہم کو شھادت کی انگلی صرف ایک صورت میں اٹھانے کی اجازت دی ہے کہ اشھدان لا الہ الا اللہ ۔۔۔۔ ہم گواہی دیں ۔۔۔ خدا کے لیے ابھی وقت ہے سنبھل جاو اسے تہمت کے لیے کسی کی تذلیل کے لیے مت اٹھاو۔۔۔۔
    شاھد بھائی ہم دل سے شرمسار ہیں ۔۔۔ اللہ تعالی آپ کی بیٹیوں پر اپنی رحمتیں برساتا رہے آمین۔۔۔
    بقلم خود😭
    اس زمن ظلمت میں اتر کے دیکھ
    حواکی بیٹیاں اک بار پھر نشانے پہ ہیں
    اک با ر پھر زندہ درگو کی جا رہی ہیں
    یہ بات الگ ہے کہ
    اس بار جسموں کی بجائے ان کی روحوں کو
    گندے لفظوں کی قبروں میں اتارا جاتا ہے۔۔۔۔
    رمشا جی!اللہ پاک آپ کو اسی طرح کلمہ حق بلند کرنے کی توفیق دے آمین۔۔۔ اس نعرہ کے ساتھ اجازت ۔۔۔ رمشا جی بڑھے چلو۔۔۔۔۔۔ بڑھے چلو ہم تمھارے ساتھ ہیں۔۔۔

Leave a Reply to عمرحیات جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *