• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات۔۔۔اویس احمد(مضمون برائے مقابلہ مضمون نویسی)

ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات۔۔۔اویس احمد(مضمون برائے مقابلہ مضمون نویسی)

معیشت ایک خشک مضمون ہے۔  پاکستانی  قوم کو اس میں کسی قسم کا کوئی چسکہ نظر نہیں آتا اس لیے ایسے مضامین پر قوم کی توجہ بھی نہیں ہوتی۔
ایسے میں مکالمہ والوں نے اپنے دو سال مکمل ہونے پر ایک مقابلہ مضمون نویسی کا اہتمام کیا ہے۔ زیر نظر مضمون اسی حوالے سے تحریر کیا گیا ہے۔
جب ہم بات کرتے ہیں نئے پاکستان کی تو ہمارے ذہن میں جو پہلی بات چمکتی ہے وہ ہے آزادی۔ اب یہ آزادی کس بات کی ہو سکتی ہے؟ پاکستان کو تو آزاد ہوئے اکہتر برس ہو چکے۔ لیکن کیا یہ بات درست نہیں کہ گزشتہ کم از کم تین دہائیوں سے یہ قوم معاشی خوف کا شکار ہے۔ یہ خوف ہی ہے جو سرمائے کو جامد کر دیتا ہے اور لوگ اپنی کمائی اور بچت کو کاروباری سرگرمیوں میں زیر گردش لانے کی بجائے محفوظ اور غیر متحرک سرمایہ کاری میں کھپا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پھل پھول رہا ہے۔ اس کے علاوہ لوگ اپنی بچت کو سونے اور ڈالر کی شکل میں محفوظ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ محفوظ سرمایہ کاری ہے۔ ہم اس پر غور کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

کسی بھی ملک کی خوشحالی کی کنجی اس ملک کی اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری ہوتی ہے۔ یعنی وہ چھوٹے کاروباری جو محدود سرمائے سے کاروبار کرتے ہیں۔ ہم کاروباری سرگرمی ہوتی ہے تو معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ سرمایہ گردش میں آتا ہے اور معیشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے ایس ایم ای پر ماضی میں زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ غیر منصفانہ قوانین، ٹیکس کا غیر متوازن بلکہ غیر فائدہ مند نظام، بیوروکریسی کی نااہلی اور عوام کا حکومت پر عدم اعتماد بھی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ایک چھوٹا کاروباری اپنے سرمائے کو زیر گردش لانے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ نئے پاکستان میں حکومت کو اس انڈسٹری پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

اس کے علاوہ جو قدم حکومت کو فوری طور پر اٹھانا چاہییں  وہ ٹیکس کے نظام میں متاثر کن اصلاحات لانے کا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا نظام تقریباً غیر مؤثر ہے۔ عوام کی بڑی تعداد ٹیکس دینے پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں کا جائز اور دیانت دارانہ مصرف ممکن نہیں چنانچہ   وہ ٹیکس کی نسبت زکواۃ  اور خیرات  کو ترجیح دیتے ہیں۔ زکواۃ اور خیرات کی سرگرمی پاکستان میں دستاویزی نہیں ہے جس سے اس بات کا درست اندازہ لگانا  ناممکن ہے کہ یہ قوم سالانہ کتنا پیسہ  زکواۃ اور خیرات کی مد میں ادا کرتی ہے۔ اور کیونکہ یہ مد ٹیکس سے مستثنیٰ ہے چنانچہ اس کا ریاست کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔

یہ بات غور کرنے کی ہے کہ زکواۃ اور خیرات سے عوام کا معیار زندگی بلند نہیں ہوتا۔ اگر ٹیکس کا مؤثر اور معتبر نظام موجود ہو تو عوام کی اکثریت خیرات کی بجائے ٹیکس دینے کو ترجیح دے گی کیونکہ انہیں معلوم ہو گا کہ ریاستی سرپرستی میں ان کے پیسے کا درست استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان بلکہ نیا پاکستان بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضے ہماری جی ڈی پی کے 65٪ کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل بج رہی ہے۔ حکومت کو ایک تو قرضے کا دباؤ کم کرنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے اور مستقبل میں ایسے قرضوں سے پرہیز کرنا ہو گا جن سے بجائے ملک اور قوم کو حقیقی فائدے کے محض ظاہری نمودونمائش مقصود ہو۔ میٹرو بس سروس اور اورنج ٹرین اس کی بہت بڑی مثال ہیں۔ یہ کہنے کو تو عوامی فائدے کے منصوبے ہیں لیکن عوام کی کثیر تعداد اس کے ثمرات حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ اور یہ منصوبے مسلسل خسارے کا شکار ہیں۔

امن و امان کی مخدوش صورت حال کسی بھی ملک میں کاروباری سرگرمیوں پر بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار کسی ایسے ملک میں سرمایہ کاری سے پرہیز کرتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی موجود نہ ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کاروباری سرگرمیوں کے لیے بہتر نہیں ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دیگر مضمرات بھی ہوتے ہیں جن میں اسٹریٹ کرائمز اور باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے جانے والے جرائم بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان میں آئے دن کسی نا کسی مسئلے پر احتجاج ہو رہا ہوتا ہے۔ ایسے احتجاجوں میں جلاؤ گھیراؤ تک نوبت آ جاتی ہے جس سے املاک کا نقصان اور کاروبار زندگی معطل ہو جانا اکثر مشاہدے میں آتا ہے۔ یہ صورت حال معاشی سرگرمیوں کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینے چاہیے اور ایسے قوانین وضع کرنے چاہئیں جس سے احتجاج کرنے والے اپنا احتجاج بھی کر سکیں اور ان کے احتجاج کی وجہ سے کاروبار زندگی کسی بھی طرح سے متاثر نہ ہو۔
ملکی معیشت میں خارجہ پالیسی کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر تنہائی اور غیر اعتباری کا شکار ہے۔ پاکستان کو اس سلسلے  میں نہایت سمجھداری سے اپنے اوپر لگے ہوئے داغ دھونے چاہئیں تاکہ عالمی برادری کا اعتماد پاکستان میں بحال ہو اور وہ پاکستان کے ساتھ کاروباری شراکت داریاں قائم کر سکیں۔

سب سے ضروری قدم جو حکومت کو نئے پاکستان کی معیشت میں بہتری کے لیے درکار ہے وہ عوام کی تربیت ہے۔ گذشتہ چالیس برس میں ہم اپنے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ عدم برداشت، تعصب، بے ایمانی، فرقہ پرستی، بدعنوانی اور سب سے بڑھ کر برائی کو برائی نہ سمجھنا جیسی بیماریاں ہماری قوم میں سرایت کر چکی ہیں۔ معیشت کے لیے دیانت داری (ہر سطح پر) لازم ہے اور بدقسمتی سے ہم دیانت داری کے اصولوں سے اکہتر ہزار میل دور اپنا بسیرا کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے آئینی اور جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم عمران خان ایک نئے پاکستان کا وژن رکھتے ہیں۔ نیا پاکستان صرف تقریروں سے نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں بھرپور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ابھی نئے پاکستان کی نئی حکومت کا نیا آغاز ہے۔ تقریباً ایک ماہ میں ہم نے جہاں کچھ اچھی باتیں دیکھیں وہیں پر ڈاکٹر عاطف میاں جیسے معاملات بھی سامنے آ گئے۔ ایک اچھی حکومت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر مضبوط فیصلے کرے اور پھر اپنے فیصلوں پر ڈٹ جائے اور انہیں نافذ کرے۔ اگر حکومت کوئی بھی قدم کسی ایسے طبقے کی احتجاج کی بنیاد پر، جو وہ قدم پسند نہیں کرتا، اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور ہو جائے تو اس سے ایک کمزور حکومت کا تاثر مضبوط ہوتا ہے اور کمزور حکومت شاید اپنی جمہوری مدت پوری کرے یا نا کرے مگر معیشت کا پہلے سے بیٹھا ہوا بھٹہ مزید بھٹانے میں ضرور کامیاب ہو سکتی ہے۔

اویس احمد
اویس احمد
ایک نووارد نوآموز لکھاری جو لکھنا نہیں جانتا مگر زہن میں مچلتے خیالات کو الفاظ کا روپ دینے پر بضد ہے۔ تعلق اسلام آباد سے اور پیشہ ایک نجی مالیاتی ادارے میں کل وقتی ملازمت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *