مسیحاؤں کی قدر کرناسیکھیے ۔۔منصور ندیم

مصرمیں غریبوں کے مسیحا کہلایا جانے والا ڈاکٹر محمد المشالی چل بسا۔ وہ اپنے پیچھے بے شمار غریب مصریوں کو اپنی انمول یادوں کا اثاثہ دے گیا۔ ڈاکٹر محمد المشالی کی موت کی اطلاع مصر اور سعودی عرب ہی نہیں بلکہ کئی عرب ملکوں میں اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن چکی ہے ۔۔۔۔

ڈاکٹر محمد المشالی نے زندگی بھر غریبوں اور ناداروں کے لئے بے لوث خدمت کی۔ ڈاکٹر محمد المشالی کا ایک جملہ عوام کے حلقوں میں بڑا مشہور ہے کہ
’مجھے لاکھوں پاونڈ سے کوئی سروکار نہیں، نہ ہی مجھے دس ہزار پاونڈ مطلوب ہیں۔ ایک سینڈوچ سے گزارا ہوجاتا ہے بس میرے لئے اتنا ہی کافی ہے‘۔

محمد المشالی اپنی زندگی کا یہ واقعی بتاتے تھے کہ معمول کی طرح اپنے کلینک پر بیٹھا تھا اور روزمرہ کی طرح مریضوں کا معائنہ کررہا تھا، لیکن میرے ذہن میں کچھ دنوں سے اپنے کلینک میں آنے والے ذیابیطس میں مبتلا بچے کا خیال بار بار آرہا تھا، وہ میرا مستقل مریض تھا ، ایک جب اس بچے کا معمول کا چیک اپ کرنے کے بعد میں نے اس کی ماں سے بچے کے لیے دوا خریدنے کی بات کہی تو اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ کہنے لگی کہ “میرے پاس انجکشن خریدنے کی سکت نہیں ہے۔ اگر میں نے اس کے لیے انجکشن خریدا تو میرے دوسرے بچے بھوک سے مر جائیں گے”.

ڈاکٹر محمد المشالی نے دیکھا کہ بیمار بچے نے جب اپنی ماں کے منہ سے یہ جملہ سنا، اسوقت وہ گم سم ہوگیا کچھ دن بعد اس بچے نے اپنی ماں کو علاج کی تکلیف سے بچانے کے لیے خود سوزی کر لی۔

ڈاکٹر محمد المشالی کی زندگی پر ذیابیطس میں مبتلا اس بچے کا کی خود سوزی کا بہت اثر تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ نے مجھ پر بڑا اثر ڈالا۔ اسی وجہ سے میں غریبوں کا مفت علاج کرکے خوشی محسوس کرتا ہوں۔

محمد مشالی عربی ادب کے عظیم مصنف ’طہ حسین‘ کی شہرہ آفاق تصنیف ’المعذبون فی الارض‘ (دنیا کے ستائے ہوئے) سے متاثر تھے۔ طہ حسین کی اس کتاب میں غریبوں خاص طور پر بیمار اور ناداروں کی دیکھ بھال کا ذکر تھا۔

محمد مشالی غریبوں میں بہت مقبول تھے۔ اہل مصر انہیں ’طبیب الغلابہ‘ (لاچاروں کے ڈاکٹر) کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔
محمد مشالی کا معمول تھا کہ وہ اول تو بغیر فیس لیے مریضوں کا طبی معائنہ کیا کرتے تھے۔ اگر کسی سے فیس لیتے تو وہ بھی علامتی فیس ہوتی تھی۔ کہ غریبوں کا بھرم رہ جائے۔

اہل عرب نے تو اپنے نے مسیحا کو یاد رکھا، جبکہ پچھلے ہفتے پاکستان میں کراچی میں ذہنی و جسمانی معذور بچوں کے لیے معروف “دارالسکون” نامی ادارہ کو چلانے والی سسٹر روتھ لیوس کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئیں۔ لیکن ان کو خبروں میں جگہ نہ مل سکی۔۔

سماجی خدمت کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والی روتھ لیوس کو آٹھ جولائی کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد وہ نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔۔
سسٹر روتھ لیوس اس تعلیمی و فلاحی ادارے دارالسکون کی بانیوں میں سے تھیں ان کا انتقال گزشتہ پیر کی شب نو بجے کے قریب ہوا۔ ا ان کی تدفین کراچی کے گورا قبرستان میں ہوئی۔
سسٹر روتھ لیوس 1969 سے اب تک کے 50 برسوں کے دوران جسمانی و ذہنی معذور بچوں کے تعلیمی و فلاحی ادارے سے متعلق ان کی سماجی خدمات سے جڑی لازوال یادیں رکھتی ہیں ۔

ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر ادیب رضوی اور بہت سارے ایسے ہی خدا ترس مسیحا موجود ہیں ، ہمیں بھی ان مسیحاؤں کی انسانی خدمات کا اعتراف قوم حقیقی ہیروز کی طرح کرنا سیکھنا ہوگا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *