• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • مزدوروں کیلئے ہیلتھ اور سیفٹی کے انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ،یونین سازی کا بھی حق دیا جائے،مزدور رہنما

مزدوروں کیلئے ہیلتھ اور سیفٹی کے انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ،یونین سازی کا بھی حق دیا جائے،مزدور رہنما

کراچی (پ۔ر)صنعتی اداروں کے مالکان، بین الاقوامی برانڈز اور حکومت نے سانحہ بلدیہ کے چھ سال گزرنے کے باوجود کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انکی مجرمانہ بے حسی کی وجہ سے کام کی جگہوں پر مسلسل حادثات کا سلسلہ جاری ہے۔ سماجی وصنعتی ترقی کروڑوں محنت کشوں کے لیے کام کے بہتر حالات اور لیبر قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔کسی بھی بڑے سانحہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کام کی جگہوں پر ہیلتھ اور سیفٹی کو یقینی بنایا جائے اور محنت کشوں کو تنظیم سازی کا بنیادی آئینی اورقانونی حق دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سانحہ بلدیہ کی چھٹی برسی پر محنت کشوں کے مقامی اور بین الاقوامی نمائندوں نے کیا۔ ہر سال کی طرح شہداء کی یاد میں ہونے والی برسی کی تقرریب کا اہتمام متاثرہ فیکٹری کے سامنے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور سانحہ بلدیہ متاثرین ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا جس کی صدارت بلدیہ ایشوسی ایشن کی رہنما محترمہ سعیدہ خاتون نے کی۔ اجتماع میں شہداء کے لواحقین، سانحہ میں زخمی ہونے والے مزدوروں کے علاوہ محنت کشوں کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔


اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سانحہ کے چھ سال گزرنے کے باوجود لواحقین انصاف کے منتظر ہیں جن کے لیے انہوں نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایاہوا ہے او ر وہ انصاف کے حصول کے لیے صنعتی تاریخ کے بڑے مجرموں کے خلاف مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔
مزدور رہنماؤ ں نے کہا کہ فیکٹریوں، کارخانوں اور کام کی جگہوں میں آج بھی مزدور بدترین صورت حال کام کرنے پر مجبور ہے اور کام کے حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آئے روز حادثات ہورہیں ہیں اور محنت کش اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ شپ بریکنگ، کانکنی اور ٹیکسٹائل گارمنٹ فیکٹریوں میں ہونے والے حالیہ حادثات اس کی بھیانک مثالیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں لیبر قوانین اور آئینی حقوق کی عمل داری تقربیاً ناممکن بنا دی گئی ہے۔مزدورں کے لیے قائم حکومتی ادارے اپنے کام کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور وہ مکمل طور پر مالکان کے مفادات کے ترجمان بن گئے ہیں۔ تمام صنعتی ادارے بشمول ٹیکسٹائل گارمنٹ کی فیکٹریاں اور کارخانے جو کہ دنیا کے معروف غیر ملکی ملبوسات برانڈز کے لیے مال تیار کرتے ہیں وہاں مزدوروں کے حالات غلاموں سے بدتر ہیں کیونکہ مقامی فیکٹری مالکان بین الااقوامی برانڈز اور مزدوروں سے متعلق سرکاری اداروں نے مزدور دشمن گٹھ جوڑ کر رکھا ہے

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 6 کروڑ 80 لاکھ لیبر فورس میں 1% سے بھی کم ورکرز یونین سازی کے حق سے مستفید ہو رہے ہیں۔ فیکٹریوں کی اکثریت میں ہنر مند کاریگروں تک کو بھی غیر ہنر مند مزوروں کے لیے متعین کم از کم تنخواہ بھی نہیں دی جا تی۔95فیصد فیکٹریوں میں ٹھیکیداری نظام سپر یم کورٹ کے احکامات کے باوجود جاری ہے۔ فیکٹریوں میں کام کے اوقات کارکا ایک غیر قانونی طریقہ رائج ہے جس کے مطابق مزدور کے لیے آنے کا تووقت مقررہے لیکن وہ فیکٹری انتظامیہ کی اجازت کے بغیر فیکٹری سے باہر نہیں جا سکتا۔ صرف 5% مزدوروں کو سوشل سیکورٹی اور پینشن جیسا حق حاصل ہے۔مزدور رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ سب آئی ایل اوکنونشنز، جی ایس پی پلس، گلوبل فریم ورک ایگرمنٹس ہونے کے باوجود ہو رہا ہے جبکہ بین الاقوامی برانڈ جومقامی فیکٹریوں سے مال بنواتے ہیں وہ اپنے صارفین کو دھوکا دیتے ہیں کہ مال کی تیاری میں کہیں بھی لیبر قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔ اس دھوکا دہی میں پرائیوٹ سوشل آڈٹ کمپنیوں کو استعمال کیا جا تا ہے اور یہ سوشل آڈٹ کمپنیاں پیسے کے عوض ان فیکٹریوں کو جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہیں کہ یہاں بین الاقوامی معیارات کی پاسداری کی جا تی ہے۔


مزدور رہنماؤں نے کہا کہ بلدیہ سانحہ جہاں ان تمام تاریک پہلوؤں کو عیاں کرنے کی زندہ مثال ہے وہیں اس ساری صورت حال سے نبردآماز ہونے کے لیے سانحہ کے متاثرین نے خود کو منظم کیا اور مقامی اور بین الاقوامی مزدور تنظیموں کی معاونت سے واقعہ کے ملزموں کو بے نقاب کیا اور جدوجہد کے ذریعے مجبور کیا کہ حکومت سانحہ بلدیہ کے لواحقین کے لیے پنشن جاری کرے، ڈیٹھ گرانٹ دے، جبکہ جرمن برانڈ کو مجبور کیا کہ وہ ابتدائی طور پر ایک ملین ڈالر ادا کرے اور اس کے بعد 5.15 ملین ڈالر کی رقم لواحقین کو ادا کرے تاکہ انہیں عمر بھر پنشن مل سکے۔ اس سلسلے میں کلین کلاتھ کمپین (CCC)، انڈسٹریاال گلوبل یونین،یورپین سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل اینڈ ہومن رائٹز ECCHR) (، میڈیکو انٹرنیشنل کے علاوہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، جرمن حکومت سندھ لیبر ڈپارٹمنٹ اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوٹ (SESSI) کا کردار قابل تحسین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدوجہد کے نئے مرحلے میں 500 سے زائد متا ثرین نے اٹلی کی سوشل آڈٹ کمپنی RINA کے خلاف کیس داخل کرنے کی تیاری کر لی ہے جبکہ پاکستانی اور بین الاقوامی تنظیمیں مشترکہ طور پر RINA کے خلاف OECD میں بھی شکایت درج کروا ہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے گروپ انشورنس اور گریجوٹی کے لیے داخل کئے گئے کیسز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔
اس اجتماع میں مطالبہ کیاگیا کہ
٭حکومت سندھ متاثرین سے کئے گئے تمام وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ملازمت اور ان کے لیے رہائش کا انتظام کرے۔
٭ متاثرہ فیکٹری کو منہدم کرکے شہداء کی یاد میں ایک لیبر ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے۔
٭ سندھ میں پاس کئے گئے آ کوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
٭، فیکٹریوں کارخانوں خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس، شپ بریکنگ اور کانکنی میں لیبر معیارات کے اطلاق کو یقینی بنایا جائے۔
٭ بنگلہ دیش میں رانا پلازہ کے سانحہ کے بعدمزدوروں کے حالات کار بہتر بنانے کے لیے ہونے والے بین الاقوامی معاہدے ” بنگلہ دیش اکارڈ” کی طرح پاکستان میں بھی اس کا اطلاق کیا جائے تاکہ کام کی جگہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں بنگلہ دیش حکومت، مزدور تنظیمیں، معروف بین الاقوامی برانڈ ز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل تھیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں حادثات میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔
اس اجتماع میں خطاب کرنے والوں میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدررفیق بلوچ اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری ناصر منصور، پیپلز لیبر بیورو کے حبیب الدین جونیدی، پائلر کے کرامت علی، ECCHR کی مریم، کلین کلاتھ کمپین کی لییانہ، ہوم بسیڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی زہرا خان، سانحہ بلدیہ ایسوسی ایشن کے اعبد العزیز اور سعیدہ خاتون، پاکستان ٹیکسٹائل فیڈریشن کے بشیر شاکر، کارپیٹ یونین کے نیاز خان، این ٹی یو ایف سندھ کے صدر گل رحمان اور جنرل سیکرٹری ریاض عباسی، آئی ایل او کے ظہرا عارف، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے لیاقت مگسی، لیبر ڈائریکٹر علی اشرف نقوی و دیگر شامل تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *