کھانا گرم کرنا مسئلہ نہیں ،خود کو بہت روکا کہ اس بارے میں کچھ نہ لکھوں مگر بات برداشت سے باہر ہو گئی ہے۔ ” کھانا خود گرم کر لو” ایک نعرہ تھا، مگر نعرہ یونہی نہیں ہوتا اس کے← مزید پڑھیے
اللہ اکبر کی صدا بلند کر رہی تھی۔ جب کہ دوسری طرف آٹھ مارچ کی آمد آمد ہے اور پاکستانی مسلم سٹوڈنٹ جینز اور سکرٹ میں ملبوس ہتھ چھوٹ اور کھلے ہوئے مذہبی جتھے کے سامنے میرا جسم میری مرضی کا نعرۂ مستانہ بلند کرے گی← مزید پڑھیے
میرا جسم میری مرضی کا علمبردار کرونا وائرس۔۔ارشد غزالی/ ایک واقعہ نظر سے گزرا کہ کسی گاؤں میں باباجی کھیت میں بھینسوں کو جوت کر ہل چلوا رہے تھے اور چھپڑ میں بیل آرام کر رہے تھے۔ کسی سیانے نے باباجی سے پوچھا یہ کیا تماشا ہے؟← مزید پڑھیے
سلگتی ذات(1)۔۔رمشا تبسّم/فون کان سے لگائے وہ بالوں کو انگلی پر لپیٹنے میں مصروف تھی۔ فون پر رِنگ مسلسل سنائی دے رہی تھی اور اسکی نظریں گویا کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئیں بھی کچھ دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی تھیں ۔← مزید پڑھیے
گھر میں ہفتے بھر سے مرگ جیسی خاموشی طاری ہے۔ جیسے یہاں کوئی ذی نفس نہیں بستا بلکہ سرگوشیاں کرتے گھٹتے بڑھتے سائے ایک دوسرے پر گِرے جاتے ہیں۔ اب سب اتنے خوش نصیب بھی کب کہ مرگ ہی ہو← مزید پڑھیے
تاریخ انسانی میں دہائیوں کے سفر کے بعد امریکہ کی ایک یونیورسٹی نیو یارک یونیورسٹی (NYU) کے Langone Health Center لینگون ہیلتھ سینٹر کے سائنسدانوں نے پہلی بار انسانی جسم کو بقا دینے کے لئے پیوندکاری Life-saving Transplants میں جانور← مزید پڑھیے
نظام کوزہ گر پہلے یہاں پر رہنے والوں کو بھوک تقسیم کرتا ہے،اسکا ماننا ہے کہ ہڈیوں پر زیادہ ماس نہ ہو تو مٹی خستہ حاصل ہوتی ہے ۔مدقوق جسموں کی یہ خاک بھٹی میں اس لیے جلدی پک کر تیار ہوتی ہے کہ پہلے سے انہیں بخت کی دھوپ نے جھلسا رکھا ہوتا ہے← مزید پڑھیے
وہ نیک لڑکی تھی ۔۔ صلح کُل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی،لپٹائی، باکرہ تھی غریب گھر کی کنواری کنیا نجانے کیسے ذرا سے اونچے، امیر گھرمیں بیاہی آئی تو اپنےشوہر کے لڑ لگی← مزید پڑھیے
آج کل میڈیا میں آنے والے اتوار کے دن یعنی 8 مارچ کو منعقد ہونے والے عورت مارچ کے حوالے سے شدومد سے بحثیں شروع ہو چکی ہیں تو دوسری طرف جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کے زیر اہتمام← مزید پڑھیے
میرا بچپن سے یہ نظریہ رہا تھا کہ تعمیرِ زندگی کی بنیاد، باطنی خوبصورتی کی بجائے جسمانی نمود پر ہو۔ میں شاکرہ نندنی اپنی دنیا میں مگن آسمانوں کی سیر کرتی بادلوں پر قدم رکھتی آج اپنی بپتا لکھ رہی← مزید پڑھیے