مشق سخن    ( صفحہ نمبر 48 )

انصاف سب کے لیے!

جب معاشرے میں سیاہ و سفید کے درمیانی shades اوجھل ہونا شروع ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنی تباہی کی طرف قدم اٹھا چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اختلاف کو برداشت نہ کر سکنے کا رویہ تیزی←  مزید پڑھیے

وقت اور اُس کی قیمت

وقت ایک گراں مایہ دولت ہے اور یہ دولت تقاضہ کرتی ہے کہ اسے ضائع نہ کیا جائے۔ کیونکہ اگر انسان کی سستی یا بے پروائی سے وقت ہاتھ سے نکل گیا تو یہ واپس نہیں آتا۔ تاریخ شاہد ہے←  مزید پڑھیے

متوسط طبقہ…

چلیں آج آپ سب کو کہانی سناتے ہیں، ہر اس گھرانے کی جس کا تعلق کبھی "متوسط طبقے" سے ہو تا تھا۔ جہاں بہت زیادہ خو شحالی تو نہ تھی مگر ایک اچھی زندگی ضرور ہوتی تھی، جس میں سہولت←  مزید پڑھیے

پانچ فیصد لوگ…!

پانچ فیصدلوگ۔۔۔ یہ پانچ فیصد لوگ بڑے طاقتور ہیں۔ کیونکہ ان کے ساتھ میڈیا کی طاقت ہے۔یہ پانچ فیصد لوگ بڑے معصوم ہیں ۔کیونکہ سول سوسائٹی کا موم بتی گروپ ان کے ساتھ ہے۔یہ قتل بھی کرڈالیں تو کہیں چرچا←  مزید پڑھیے

انگریز آقا ، انگریزی اور لنڈے کے کپڑے

زبان و بیان بھی عجیب چیز ہے کسی کے لئے تفاخر کا باعث اور کسی کے لئے باعث شرمندگی۔ بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کی ذہنیت کامطالعہ کیا جائے تو نتیجتاً ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستانی قوم←  مزید پڑھیے

ایک خواب،،،

رات شہنشاہ جہانگیر اپنے والد محترم جلال الدین اکبر کے ہمراہ خواب میں تشریف لاۓ۔ مختلف امور پر تبادلہ خیال کے بعد عہدِ حاضر کے پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی توصیفِ شدید بیان فرمائی اور خاص طور پر سی←  مزید پڑھیے

اسلام اور موسیقی

انسان اس دنیا میں کچھ ضرورتیں اور تقاضے رکھتا ہے، جنہیں پورا کرنا لازم اور ناگزیر ہے جنہیں "فطرت " یا "فطری تقاضے "کہنا مناسب ہوگا، لیکن یہاں بہت اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ ان فطری تقاضوں کو←  مزید پڑھیے

حضرات گرامی یہ جانبداری ہے

حضراتِ گرامی یہ منافقت ھے۔۔۔۔۔۔! ہم میں سے بہت لوگ بڑے مفاد پرست، دو رخے، اندر سے کچھ ، باہر سے کچھ ، آسان لفظوں میں کہوں کہ پکے منافق ہیں، اپنے مفاد کے حصول کے لیے ایڑی چوٹی کا←  مزید پڑھیے

مجھے مکالمہ نے کیا سبق دیا۔

فُون کی گھنٹی بجی ارے سُوری کدھر ہو؟انعام رانا صاحب آپ میری تحریر مُکالمہ پر کیوں نہیں چھاپتے؟ میں دودھ پیتا بچہ ہوں۔سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔آپ مجھے بڑا آدمی بننے کیوں نہیں دیتے؟ پتا ہے مُکالمہ لاہور سے کراچی←  مزید پڑھیے

فلسفہ شکر

مرحوم سٹیو جابز کا ایک جملہ شعور کی تختی پر ایسا نقش ہوا کہ فلسفہ شکر سکھا گیا۔مرحوم کہتے ہیں کہ زندگی کی دوڈ جیسی بھی چل رہی ہے اسے صبر شکر سے گزارتے چلے جاؤ اور نا شکری کا←  مزید پڑھیے

جہیز ایک لعنت مگر لڑکی والوں کےمطالبات؟؟؟

میں نہ تو زیادہ پڑھا ہوں اور نہ ہی زیادہ لکھا ہوں، اس لئے تحریر میں کسی بھی کمی بیشی کی صورت میں مجھے مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے اور تمام تر خامیوں کا سہرا انعام رانا کے سر کہ←  مزید پڑھیے

سفر آخرت موت

سفر آخرت موت صبا ء فہیم موت بڑی ظالم شے ہے۔ چند لمحوں میں ایک جیتے جاگتے انسان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہے۔ہنستے بستے چہروں سے مسکراہٹ کو بڑی بے رحمی سے نوچ لیتی ہے‘‘ ننھے منھے بچوں←  مزید پڑھیے

میڈیا اور ہمارا معاشرہ

جن قواعد و ضوابط کے تحت ہم زندگی گزارتے ہیں اسے معاشرت اور اسے قائم کرنے کو معاشرہ ، اور اس میں موجود اچھائی کو اجاگر کرنے اور برائی کے سدباب کرنے والے کو میڈیا۔ ان سطور میں الیکٹرانک میڈیا←  مزید پڑھیے

مکالمہ اور بے جا معترضین

انیسویں صدی کے آخری عشرے کے دوسرے نصف کے بالکل آخر میں ایک بحث بڑی شد و مد سے چلتی تھی جسے ہم اپنے بچپنے کی وجہ سے فقط روزن اور درز سمجھتے تھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ←  مزید پڑھیے

سلسلہ ٹوٹ چلا حرف سے گویائی کا

ہمارے ایک دوست رانا صاحب نے مفتی صاحب کی وال پر نتھی کی گئی پوسٹ پر کمنٹ کر دئیے اور پھر ایک سلسلہ چل نکلا۔ مفتی صاحب نے کمال اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کی بلکہ پوسٹ←  مزید پڑھیے

رائٹ ٹریک

بوجھل بیوروکریسی، رشوت، سفارش، خوشامد اور موقع پرستی پر مبنی کلچر، دہشت گردی کا عفریت، ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کا چسکا، فتووں کی فروانی، فرقہ پرستی کی لعنت، منافقت کے اہرام، لاوارث عوام۔۔۔ ان مسائل کا حل چار امور←  مزید پڑھیے

حواس باختگی

حواس باختگی حمیرا گل محبتوں کے بیج بونا جتنا کٹھن ہے، نفرت کی فصل تیار کرنا اتنا ہی آسان ہے۔ اور یہ روش پوری دنیا میں ایک جیسی ہے۔ کہیں مذہب کے نام پر گردنیں کاٹی جاتی ہیں تو کہیں←  مزید پڑھیے

رن مریداں

آج انجمن رن مریداں کے کچھ ارکان اکٹھے ہوے اور احقر کو بھی اس محفل میں شرکت کے قابل سمجھا گیا۔ بہت سارے عنوانات پر گفتگو ہوئی مگر حاصلِ گفتگو یہ بات تھی کہ چنگچی دا کٹ تے بیوی دے←  مزید پڑھیے

نائلہ رند اور سماجی رویہ

ہم بھي عجیب قوم ہیں۔ صرف عجیب نہیں بلکہ عجیب تر ہیں۔ دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی تاک لیتے ہیں، اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔ خود کتنا بھی غلط کریں وہ درست، غیر کتنا صحیح بھی←  مزید پڑھیے

لکھنا ضروری ہے پر لکھاری حق لکھے

“یہ خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دیگی کہیں خاموش رہنا بھی ظالم کا ساتھ ہوتا ہے” لکھنا ضروری ہے مگر، الفاظ نہیں جو اس ظالم زمانے کے مزاحِم ہوں، جو انکے مظالم کا منہ توڑ جواب دیں، جو انکے علماء←  مزید پڑھیے