لکھنا ضروری ہے پر لکھاری حق لکھے

“یہ خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دیگی
کہیں خاموش رہنا بھی ظالم کا ساتھ ہوتا ہے”
لکھنا ضروری ہے مگر، الفاظ نہیں جو اس ظالم زمانے کے مزاحِم ہوں، جو انکے مظالم کا منہ توڑ جواب دیں، جو انکے علماء مخالف نظریوں کو مسمار کردیں، پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا، ظلم کے خلاف إعلاءِ صوت میں مرعوب ہونا بھی اپنی ذات میں ایک ظلم ہے – بقول محبوب خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم:
” ظلم قیامت کے روز اندھیروں کی صورت میں ہوگا ”
تو محض اپنے آپ کو ان اندھیریوں سے بچانے کی خاطر ارتفاعِ قلم ہے اور باطل کے خلاف یا غلط فہمی کے ازالے کی نیت سے قلم کا ارتفاع محض تنقید برائے تنقید نہیں ہوا کرتا بلکہ تنقید برائے اصلاح ہوتا ہے. دعا ہے اپنے رب سے کہ میرے اخلاص کی طرف نظر کرے اور قلم میں قوت اور تاثیر بھردے اور جو لوگ میرے عنوان کے مصادیق ہیں انکی اصلاح فرمائے –
گذشتہ دنوں محترم جناب مفتی سید عدنان کاکا خیل صاحب کے آفیشل پیج سے ایک پوسٹ اپلوڈ کی گئی جو اپلوڈ کے بعد سے سوشل میڈیا پر “چلغوزے”کے نام سے مشہور ہو چکی ہے اگر دیکھا جائے تو اس کا مَحمَل اور مقصد تو قوی تھا مثال بھی ایک درجے میں درست تھی مگر یہ کہا جائے کہ ممثَّل اور ممثَّل لَهُ میں من و عن مطابقت نہیں تو واقعی بجا ہے کہنا غلط نہ ہوگا.. لیکن چند باتوں کو مدِّ نظر رکھنا چاہیے –
پہلی بات یہ کہ آفیشل پیچز اکثر و بیشتر چند مامورین کی جانب سے آپریٹ کئے جا رہے ہوتے ہیں، نہ کہ اسی فردِ خاص کی جانب سے جنکے اسمِ گرامی پر آئی ڈی رجسٹرڈ ہوتی ہے.. دوسری یہ بات مدِّ نظر رکھنی چاہیئے کہ محرِّر نے اپنا نام بھی درج کیا ہوا تھا۔ پھر بھی ایک معزَّز شخصیت کی غلط انداز میں تشہیر کی گئی اور انکے پیج کے سکرین شارٹس لے کر مذاق بنایا گیا، لوگوں نے اپنی عبارتوں سے طرح طرح کے طنزیہ جملے کسے،، بات واقعی قابلِ افسوس ہے.. اور یہ قابلِ افسوس کام ایک مخصوص مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی جماعت کی جانب سے ہوا جو اپنی شناخت “آزاد خیال”کے الفاظ سے کراتی ہے.. اس جماعت کے لوگوں سے بڑے ہی ادب و احترام سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں..
١. کوئی مضائقہ نہیں کہ آپ آزاد خیال ہیں اور یہ آزاد خیالی آپکو آپکی فہم کے مطابق، غلط کی مخالفت کرنے کا حق دیتی ہے.. اب آپ جو اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے علماء و صلحاء کی مخالفت کرتے ہیں، تو کیا یہ مخالفت محض علماء کی ذات تک محدود ہے.؟
٢. اگر آپکا یہ اختلاف علماء کی ذات سے نہیں تو پھر اختلاف کا منبع کیا ہے.؟ انکی تعلیم.؟ انکا مذہب.؟ آخر کیا.؟
٣. اگر ایسا نہیں یعنی محض ذاتی اختلافات ہی ہیں تو اپنی عبارتوں میں اس مخالفت کو اسکے موضوع تک ہی محدود رکھیں. حد سے تجاوز کیوں کر جاتے ہیں..؟
جو پوسٹ اپلوڈ کی گئی. اسکا مذاق بنایا گیا جبکہ مقصد تو عورتوں کو پردے کی دعوت دینا تھا. یہ کسی کی ذاتی رائے نہیں بلکہ قرآن مجید میں بیان کردہ ایک واضح حکمِ الہٰی ہے. سورہ احزاب میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
(( يَاأَيُّهاَ النَّبِيُّ قُلْ لِّأزْوَاجِكَ وَ بَنَاتِكَ وَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيْبِهِنَّ))
“اے نبی آپ کہہ دیجئے اپنی ازواجِ مطھرات سے اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہ وہ اپنے چہروں پر چادر کا کچھ حصہ لٹکا لیا کریں”
٤. اب آپکا مذاق بنانا اور بعض افراد کا تجاوز کرجانا کیسے ذاتی حد تک محدود رہا.؟
٥. کیا آپکے اذہان اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ کہیں اسا کرنے سے ہماری مذہبی شناخت جو محض شناخت ہی رہ گئی ہے سلب نہ ہو جائے..؟
٦. کیوں اپنے آپ کو اس آیت
((وَمَا ظَلَمَهُمُ اللهُ وَلكِنْ كَانُوْا أَنْفُسَهُمْ يَظْْلِمُوْنَ))
;اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے، کا مصداق بناتے ہو..؟

ہم نے (لبلرل ازم) اور(مولوی ازم) کی لکیر کھینچی اور پھر بعض نام نہاد مُلّاؤں نے مفادات کی جنگ کی خاطر فرقہ واریت کو فروغ دیا اور بانٹتے چلے گئے.. اب اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی دن بدن تنزُّلی کی وجوہات میں یہ وجہ سرِ فہرست ہے کہ ہم اتفاق کھو بیٹھے جسکے نتیجے میں اختلاف آیا اور اختلاف کے نتیجے میں فساد، بس پھر کیا ہونا تھا، تعلیم یافتہ اور ملک کے مخلصین فساد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہ گئے اور ہم سدھار کے بجائے دن بدن اپنی نا معقول حرکتوں سے بگاڑ پیدا کرنے میں منہمک رہے. بہت راحت ہوئی جب گذشتہ کل محترمہ سعدیہ کامران صاحبہ نے اپنی تحریر میں مولوی حضرات کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا..
انعام رانا صاحب کی وسعتِ ظرفی کا قائل ہوئے بغیر بھی چارہ کار نہیں.. بہت ہی خوش اسلوبی سے معترِفِ خطا ہوئے.. خلاصہ تحریر یہ ہے کہ اپنی زبانوں سے اپنے ہی لئے ہلاکت کا حصول کوئی دانائی نہیں، اتفاق پیدا کریں، محبتیں پھیلائیں اور اپنی افکار کو مثبت کریں.. منفیات سے اجتناب کریں اور لوگوں کی باتوں کو انکے مثبت مَحمَل پر محمول کرنے کی کوشش کریں کیونکہ بعض اوقات مخاطب کا گمان متکلم کی مراد کے خلاف ہو تا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی…

Avatar
اسامہ نور میمن
ابن السبیل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *