میڈیا اور ہمارا معاشرہ

جن قواعد و ضوابط کے تحت ہم زندگی گزارتے ہیں اسے معاشرت اور اسے قائم کرنے کو معاشرہ ، اور اس میں موجود اچھائی کو اجاگر کرنے اور برائی کے سدباب کرنے والے کو میڈیا۔ ان سطور میں الیکٹرانک میڈیا خصوصاً ٹیلیویژن کے رول پر کچھ الفاظ کہنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک زمانہ تھا کہ جب پاکستان میں صرف ایک ہی ٹیلیویژن چینل تھا جو ہمارے ملک میں ہمہ قسم کی خبروں کے علاوہ ایک اچھی تفریح بھی مہیا کرتا تھا۔ اس دور میں پاکستان ٹیلیویژن اپنے دور کے جید علماء، شعراء، ادباء، اداکاروں، سنگیت کاروں اور اسی قسم کے زرخیز ذہنوں کا گڑھ تھا اور انہی لوگوں نے اس دور میں ناول اور شاعری کے ساتھ ساتھ نثر اور موسیقی میں ایسے ایسے تجربات کئے اور ایسی ایسی تخلیقات کیں کے وہ امر ہو گئے۔ اور انہوں نے اس وقت کے معاشرے میں موجود برائیوں اور بیماریوں کی نشاندہی کے علاوہ ان کے سدباب کی کوشش بھی کی۔

اگر ہم 80ء کی دہائی کے ٹیلیویژن کو دیکھیں تو ہدایت کاری، کہانی، اداکاری اور موسیقی کے ساتھ ساتھ پیشکاری، الغرض اپ کوئی بھی فیلڈ دیکھ لیں وہ فن کے عروج پر تھیں۔ اس دور میں سینما سکرین پر راج کرنے والے ستارے بھی اس چھوٹی سکرین کی اہمیت کو جان چکے تھے اور وہ بھی گاہے بگاہے اس کے پروگرامز اور ڈراموں میں حصہ لے کر اس کی ترقی میں حصہ ڈالتے رہے۔ اور ایسے ایسے ریکارڈ توڑ ڈرامے تخلیق کیے کہ جب بھی نشر ہوتے تھے تو پاکستان کے بازار اور گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں ۔ ان تمام ڈراموں کا نام اگر لینا شروع کر دیں تو صفحوں کے صفحے بھر جائیں مگر ان کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو میری والدہ کے پسندیدہ رہے۔ مثلا تنہاہیاں، دھوپ کنارے، وارث، اندھیرا اجالا وغیرہ۔

ہدایت کاروں لکھاریوں اور اداکاروں کے درمیان ایک نہایت صحت مند مقابلے کی فضا قائم تھی جو بہتر سے بہترین کی طرف گامزن تھی۔ اگر رومانوی کرداروں اور ناول کی بات کی جاے تو رضیہ بٹ سب سے اوپر اور ٹی وی پر حسینہ واجد۔ اور اگر تاریخی کرداروں کی بات کی جاے تو نسیم حجازی سب پر سبقت لے گئے اور ان کے تخلیق کردہ کردار آنے والی کئی دہائیوں تلک عوام کے دل و دماغ پر راج کرنے کے ساتھ ساتھ 'خدا کی بستی' 'وارث' 'سنگچور' اور 'دھواں' کی شکل میں اس معاشرے میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا سدباب کا طریقہ بھی انتہائی متانت اور پوری ذمہ داری سے بتایا اور سنجیدہ پیرائے کے ساتھ ساتھ مزاح میں بھی اپنا ایک مقام بنایا۔ کمال احمد رضوی اور انور مقصود نے مزاح کو ایک نئی جلا بخشی۔ یہ وہ وقت تھا جب پورے کا پورا خاندان ایک ساتھ بزرگوں سے لے کر بچے اکٹھے بیٹھ کر ان نشریات کو دیکھتے اور اصلاح پاتے تھے۔

جس طرح دنیا کے ہر مکتبہ فکر نے ترقی کی، اسی طرح 2000 میں اچانک آزادی اظہار کے نام سے پاکستان میں کھمبیوں کی طرح ایک کے بعد ایک ٹیلیویژن ادارے وجود میں آتے گئے اور " He came he saw and he conquered" کے مترادف ہر طرح کی اخلاقی حدود قیود کو اپنے ساتھ بہاتے ہوئے لے گئے۔ پچھلے 12-14 سالوں میں طوفان بدتمیزی کی اک لہر ایسی چلی کے اچھے برے کی تمیز ہی ختم ہو گئی۔ وہ میڈیم جو ڈرامہ کی شکل میں تفریح اور اصلاح کا علمبردار تھا، اس کی جگہ پڑوسی ممالک کے ڈراموں اور کرداروں نے لے لی جن کا مقصد صرف اور صرف اپنے مذہب اور کلچر کو پھیلانا تھا۔ اسی نفسانفسی اور 24/7 کے چکر میں پڑنے سے Quality , پر سے ہٹ کر Quantity پر کام چلا گیا کیونکہ یہ ٹی وی پورا سال چوبیسوں گھنٹے چلتے ہیں۔ نجی اداروں نے سب سے پہلے خبروں کے معاملے میں ذمےداری کو چھوڑ کر سنسنی پھیلانے پر زور دیا جس نے کے صحافت کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں۔

اس وقت گھروں میں کیبل کے ذریعے کم و بیش 90 چینل ہم آسانی سے گھروں میں بیٹھے دیکھ سکتے ہیں لیکن کوئی ڈرامہ یا فلم تمام گھر والے اکٹھے نہیں دیکھ سکتے (اخلاقی گراوٹ کی انتہا) ۔
ہم لوگوں نے تفریح کے نام پر ان تمام عنوانات کو ڈراموں کی زینت بنا دیا جو عمومی طور پر قابل ترجیح نہیں اور مکالمہ کے طور پر بھانڈوں کو بٹھا کر ان سے سیاسی غیر سیاسی فوجی الغرض تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا ٹھٹھا اڑایا جاتا ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اب یہ چھوٹی سکرین دن بدن چھوٹی ہوتی جارہی ہے اور اس پر ہمارا کنٹرول اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے تو حکومت کے ساتھ یہ ہمارا اخلاقی فرض بھی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس جدید دور سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ اس کی اچھایوں اور برائیوں کے بارے میں بتائیں نا کہ تمام ملبہ حکومت کے سر پھینک کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے کر راہ فرار اختیار کر لیں۔
کیونکہ اپنے گھر کے اندر کی صفائی ہماری ذمہ داری ہے نہ کہ کسی اور کی۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *